تازہ ترین

۔27مارچ کو نئے سرے سے مشتہر شرح کرایہ پر عملدر آمد کون کرائے؟

مسافر کرایہ کا سرکاری حکم نامہ نظر انداز،وادی بھر میں ٹرانسپورٹروں کے وارے نیارے

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے سخت ہدایات دینے کے باوجود سرینگر سمیت وادی کے کئی علاقوں میں مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کرنے کا سلسلہ جار ی ہے۔ 24فروری کو انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ انجمنوں کے درمیان بات چیت کے بعد کرائیوں میں19فیصد شرح کے حساب سے اضافہ کیا گیا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے بعد میں با ضابطہ طور پر مختلف روٹوں پر مختلف مسافر بردار گاڑیوں، جن میں بسیں،ٹاٹا گاڑیاں اور سومو گاڑیاں شامل ہیں،کے بارے میں فی کلو میٹر کے حساب سے کرائیوں کو مشتہر کیا۔ لیکن ٹرانسپورٹروں نے سرکاری شرح کرایہ کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور ہر ایک روٹ پر سومو اڈہ منتظمین نے اپنے حساب سے کرایہ مقرر کیا اور ڈرائیوروں نے اسی حساب سے کرایہ لینا شروع کیا۔سرکاری طور پر شرح کرایہ مقرر کرنے کی خلاف ورزی ہونے کے حوالے محکمہ ٹرانسپورٹ اور مقامی ریجنل ترانسپورٹ آفیسر کو سینکروں شکایات موصول ہوئیں کہ ڈرائیوروں نے اڈہ منتظمین کیساتھ مل کر از خود شرح کرائی مقرر کیا ہے جس کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ایک بار پھر شرح کرایہ مشتہر کیا گیا۔27مارچ کو علاقائی ٹرانسپورٹ آفس سے جو سرکیولر منظر عام پر آیا اس کے مطابق ٹیکسی و میکسی کیبوں(سومو اور اس زمرے میں آنے والی گاڑیاں)4کلو میٹر تک مسافروں سے10روپے کا کرایہ وصول کریں گی،جبکہ اضافی کلو میٹر پر2روپے55پیسہ کے حساب سے اضافہ ہوگا۔ اس سرکیولر کی رو سے5کلو میٹر سفر کیلئے13روپے،جبکہ6کلو میٹر تک سفر کیلئے15روپے،7کلو میٹر کیلئے18روپے، 8کلو میٹر کیلئے20روپے،9کلو میٹرکیلئے23روپے اور10کلو میٹروں کے سفر کیلئے25روپے کا کرایہ مقرر کیا گیا ہے۔مسافروں کا تاہم کہنا ہے کہ کرایہ کی جو شرح مقرر کی گئی ہے،اس کو بیشتر ڈرائیور نظر انداز کر رہے ہیں۔ سیول لائنز  کے بٹوارہ سے لالچوک تک ساڑھے4کلو میٹر کا  فاصلہ ہے، اور پہلے اس کیلئے 10روپے وصول کئے جاتے تھے لیکن اب20روپے وصول کئے جاتے ہیں۔اسی طرح سونہ وار سے لالچوک کا سفر3کلو میٹر ہے اور سو مو گاڑیاں 15روپے وصول کرتے ہیں۔پانتہ چوک سے لالچوک تک کا سفر7کلو میٹر ہے ، جس کیلئے18روپے کرایہ وصول کیا جانا چاہیے تھا،لیکن ڈرائیور25روپے اور پانپور کے13کلو میٹر کے سفر کیلئے40روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ لالچوک سے سانبورہ پانپورتک کرایہ میں اضافے سے قبل40روپے وصول کئے جاتے تھے، جو فاصلے کی مناسب سے پہلے ہی زیادہ کرایہ تھا،اب 60روپے وصول کئے جاتے ہیں، جو مشتہر قواعد و ضوابط کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔پائین شہر میں مسافر بردار ٹاٹا گاڑیوں کا چلن زیادہ ہے،اور مسافروں کا الزام ہے کہ یہاں پر بھی من مانے طریقے سے کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ نوا کدل سے لالچوک تک7 کلو میٹر کے لئے12روپے کرایہ ہے، تاہم15روپے وصول کئے جاتے ہیں۔اسی طرح اخوان چوک سے لالچوک تک12روپے کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے،اور مشکل سے یہ سفر3کلو میٹر کا ہوگا۔ قمرواری سے سکہ ڈافر کے3کلو میٹر سفر کیلئے حیران کن طورپر12روپے کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔شہر کے دیگر روٹوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔شہر سرینگر میں صرف چھانہ پورہ لل دید ، یا چھانہ پورہ جہانگیر چوک، چھانہ پورہ چاڑورہ روٹ ایسے ہیں جن پر معقول کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ باقہ سبھی روٹوں پر مسافروں کو لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے سرکاری احکامات کی دھجیاں بھی اڑائی جارہی ہیں۔