تازہ ترین

لوگوں کی خاموشی کو غیر سنجیدہ لینا نا عاقبت اندیشی ہوگی:ساگر | 5اگست سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے میں امن کی ضمانت کا راز مضمر

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ5اگست سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے میں امن کی ضمانت کا راز مضمر ہے۔ پارٹی ہیڈ کواٹر نوائے صبح پر امیراکدل،سونہ وار،بٹہ مالو،عیدگاہ،حبہ کدل اور حضرت بل بلاک و حلقہ صدور اور سیکریٹروں کے علاوہ یوتھ اور خواتین ونگ صدر سے خطاب کرتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت روز اول سے ہی جموں کشمیر کے عوام کے آئینی اور جم ہوری حقوق کی پاسبان اور علمبردار جماعت رہی ہے اور اس جماعت نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں جموں کشمیر میں عوامی راج کی بنیاد1948میں ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی اعلیٰ صلاحتوں اور دوراندیشی کی بدولت جموں کشمیر میں آئینی اور جمہوری اداروں کی بنیاد پڑی۔ انہوں نے کہا’’ بدقسمتی سے موجودہ دہلی حکومت کے ذمہ دار لیڈراں یہ کہتے ہیں کہ بقول ان کے دفعہ370اور35اے کے خاتمے سے کشمیریوں کو انصاف ملا،جو کہ سراسر صداقت سے بعید ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے علاوہ جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ساگر نے کہا کہ جموں کشمیر کو مرکزی زیر انتظام والے خطوں میں تقسیم کرنے سے  یہاں کے لوگوں کو آئینی و جمہوری حقوق سے محروم کر دیا گیا ،حتیٰ کہ یہ حقوق ہمیں آئین ہند کے تحت1952 کی خصوصی پوزیشن اور آزاد ہند کے صف اول کے لیڈروں نے اس کی منظوری لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دی۔ ساگر نے کہا کہ جب تک ان حقوق کا بغیر طول کے واپس نہ کیا جائے گا تب تک جموں کشمیر کی نہ تو کوئی ترقی ہوگی اور نہ ہی امن و امان کی ضمانت ہے۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری نے کہا’’ ہم اس وقت آئینی،جمہوری اصولوں کو اپنا کر جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیںاور لوگوں کی خاموشی کو غیر سنجیدہ لینا بھاجپا لیڈراں کی نا عاقبت اندیشی ہے‘‘۔ ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں کشمیر کو`1947یعنی جموں،لداخ اور کشمیر کی صورت میں واپس کرنے میں پیش پیش رہے گی اور اسی میں بھارت کی سالمیت بھی منحصر ہے۔اس موقعہ پر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال،غلام قادر پردیسی،شمیمہ فردوس،پیر آفاق احمد،صبیہ قادری،عرفان شاہ،احسان پردیسی، مدثر شاہمیری،سلام الدین بجاڈ،سید رفیق شاہ اور دیگر لیڈراں بھی موجود تھے۔