تازہ ترین

حدمتارکہ پر بندوق خاموش ہوتے ہی شادیوں کا جشن شروع

تاریخ    14 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
جموں// ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگ بندی معاہدہ کے اعادہ کے بعدشادی بیاہ کی تقریبات لائن آف کنٹرول کے نزدیک دیہات میں خاموشی سے واپس آگئیں۔تازہ ترین فیصلے سے سرحدی رہائشیوں کو راحت ملی جنہوں نے کھیتی باڑی اور سکولنگ جیسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں جو پاکستانی گولہ باری میںسب سے زیادہ متاثر ہورہی تھیں۔حکام نے بتایا کہ دونوں ممالک نے فروری کے بعد سے جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل کیاہے جس کے نتیجہ میں لوگوں نے بھی تقریبات کو گائوں سے باہر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بجائے اپنے گھروں میں شادیوں کا جشن منانا شروع کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کل پونچھ اور راجوری اضلاع میں چراغاں کئے ہوئے شادیوں کے گھر آج کل خوب دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ رقص وسرور کی محفلیں بھی ہوتی ہیں جبکہ ایسے نظارے شلنگ کے مستقل خوف کی وجہ سے بہت سے لوگ بھول گئے ہیں۔پونچھ کے علاقے سائوجیاں میں صفر لائن کے ساتھ گاؤں گگریہ کے ایک دولہا پرویز احمد نے بتایا "ہم بہت طویل عرصے کے بعد ایسی تقریبات دیکھ کر خوش ہیں"۔احمد ان خوش قسمت نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے گذشتہ ہفتے شادی  کی لیکن ابتدائی دنوں سے خوف کا سایہ تاخیر کا شکار رہا جب شادی کی تقریب میں اس کے دو رشتہ دار سفید جھنڈے لے کر گاؤں کے راستے دلہن کے گھر جاتے تھے۔ایک مقامی محمد اکبر میر نے بتایا کہ اس سے قبل وہ سرحد پار سے شدید گولہ باری کی وجہ سے کئی دن ایک ساتھ گھر کے اندر رہتے تھے۔انہوں نے کہا ، "اس بار شادیاں آؤ ٹ ڈور اور شور شرابہ کے ساتھ ہو رہی ہیں ۔ماضی کے برعکس تجارت جیسے معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئیں ، جب ہم گاؤں کے آس پاس پہاڑی کے اوپر پاکستانی بندوقوں سے ڈرتے تھے"۔نویلی شادی شدہ ترنم کا کہنا تھا کہ گولہ باری اور فائرنگ سے شہری رہائش پذیر لوگوں کے لئے صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا "لوگ ہلاک ہورہے تھے ، ان کے گھر تباہ ہوگئے۔ اب وہ خوش ہیں کیونکہ تازہ معاہدے کے بعد امن لوٹا ہے۔"طلباء بھی خوش ہیں کیوں کہ موجودہ سکون نے ان کی حفاظت کے بارے میں والدین کی فکر کو ختم کردیا ہے اور انہیں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی ہے۔مینڈھر کے 12 ویں کلاس کے طالب علم محمد فاروق نے بتایا "میرے کنبے کو میری حفاظت کے بارے میں بہت تشویش تھی کیونکہ مجھے سکول اور نجی ٹیوشن میں جانے کے لئے باہر جانا پڑتاتھا۔"انہوں نے کہا کہ امن نے سرحدوں کے ساتھ ساتھ سکولوں کے معمول کے مطابق کام کی اجازت دی ہے۔ایک اور دیہاتی محمد صابر نے کہا کہ اس سے قبل جنگ بندی کی خلاف ورزی معمول بن چکی تھی ، جس سے سرحد کے کنارے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن گئی تھیں۔انہوں نے کہا "پچھلے 46 دنوں سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے ، جس سے لوگوں کو حفاظت کی فکر کیے بغیر اپنے روز مرہ کے کام انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے"۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک انسانیت کے وسیع تر مفادات میں معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ 
 

تازہ ترین