تازہ ترین

نافرمانی ۔۔۔۔ارادہ شامل ہوجائے تو ایمان ڈگمگا جاتا ہے

فکر وفہم

تاریخ    14 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


اے مجید وانی
انسانی طبیعت میں غلطی اور بھول چوک داخل ہے،بہت سی غلطیاں بغیر ارادہ سرزَد ہوجاتی ہیں،مثلاً ایک کمپوزیٹر یا ٹائپِسٹ کو لیجئے ،پہلی بار ٹائپ یا کمپوز کرنے کے بعد متعدد غلطیاں نکل آتی ہیں پھر صحیح کرنے کے بعد غلطیاں ختم ہوجاتی ہیں۔کام کرنے والا تو یہی کوشش کرتا ہے کہ پہلی ہی بار میں کوئی غلطی نہ رہ جائے لیکن اس کے ارادہ و خواہش کے باوجود غیر ارادی طور پر غلطی ہوجاتی ہے۔درزی ایک بار ناپ لینے کے بعد پوری کوشش کرتا ہے کہ لباس بالکل فِٹ آجائے لیکن ایسا نہیںہوتا ،جسم پر پہنا کر دیکھنے سے ہی کسر سمجھ میں آتی ہے۔ظاہر ہے اس طرح کی کسی خامی میں انسانی ارادہ کا دخل نہیں ہوتا بلکہ خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔اسی طرح ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرسکتا ہے اور نہ ایسا چاہ سکتا ہے۔اگر اُس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ کسی خطا کے بعد اُس کے دل میں جو ندامت پیدا ہوتی ہے وہ اس کے لئے مصیبت بن جاتی ہے۔کسی غفلت یا کسی خواہش سے مغلوبیت کی وجہ سے اگر کوئی خطا سرزد ہوجاتی ہے تو وہ اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے ۔ایک کسان جب فصل بوتا ہے اور اُس میں گھاس پھوس پیدا ہوجاتی ہے تو وہ حتی المقدور پوری کوشش کرتا ہے کہ اُسے صاف کردے،اگر مسلمان زندگی بھر اپنی خطائوں کی تلافی کرنے اور اپنے آپ کو پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ نہ اسلام کے دائرے سے خارج ہوتا اور نہ اللہ تعالیٰ کی بخشش سے محروم ہوتا ہے،شائد اس حدیث ِ قدسی کا یہی مقصد ہے:
’’اے ابن آدم !جب تک مجھے پکارتے رہو گے اور مجھ سے آس لگائے رکھو گے میں تمہاری خطائیں معاف کرتا رہوں گا اور پرواہ بھی نہیں کروں گا۔اے ابن ِ آدم!اگر تمہارے گناہ آسمان کو چھونے لگیں اور تب بھی تم مجھ سے بخشش طلب کروگے تو میں تمہیں بخشش دوں گا اور پرواہ بھی نہیں کروں گا ۔اے ابن آدم! اگر تم زمین بھر گناہ لے کر بھی آئو گے اور پھر مجھ سے اس حال میں ملوگے کہ تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہوگا تو میں تمہیں اسی کے بقدر معافی عنایت کروں گا ‘‘۔(ترمذی)
بعض نادان لوگ اس طرح کی حدیثوں سے یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ نافرمانی کی عام اجازت ہے جبکہ اس طرح کا گمان خالص اندھا پن ہے اور ایسا گمان کرنے والے بخشش سے سب سے زیادہ دور ہیں۔نافرمانی بہت اہم چیز ہے اور پھر اس کے ساتھ اگر ارادہ بھی شامل ہوجائے تو ایمان ڈگمگاجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت پر پردہ پڑجاتا ہے اور پھر اس طرح کا اندھا پن اطاعت و فرمانبرداری کے اصولوں سے کہیں دور پہنچا دیتا ہے،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم فرماتے ہیں کہ:’’زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا ،چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا،شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا ‘‘۔(بخاری)
وقتی طور پر ایمان کی اس نفی کے ہولناک نتائج نکلتے ہیں یعنی یہ کہ اس گناہ کی حالت کے بعد کیا پھر ایمان مکمل طور پر واپس مل پائے گا ؟اور اگر گنہگار بار بار وہی گناہ کرتا رہے تو کیا ایمان واپس مل بھی سکے گا ؟تجربات کی روشنی میں ہم گناہ و نفسیاتی حالات یا خارجی حالات سے الگ نہیں کرسکتے لیکن یہی حالات اس بات کا فیصلہ بھی کریں گے کہ ایک شخص دین سے کتنا دور ہوا ،کسی معمولی بھول چوک پر معافی کی امید کی جاتی ہے مگر جان بوجھ کر نظر انداز کرنا قابل ملامت ٹھہرتاہے،پھر ایسی زیادتی بھی ہوتی ہے جو سزا واجب کردے ،پھر یکسر برگشتگی کا نمبر آتا ہے جسے ارتداد کہا جاتاہے اور اسلام سے رشتہ بالکل منقطع کردیتا ہے۔مثلاً شراب پی لینے کے جُرم میں ایک سزا ہے ،بعض دفعہ جاہلیت کے عادی شراب نوش اپنی کمزور قوتِ ارادی کے سبب پھر شراب پی لیتے تھے لیکن ہنسی خوشی سزا بھی قبول کرلیتے تھے ۔اسی طرح کے جرم کو ارتداد قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ ایک گناہ ہے اور بس۔لیکن اگر کوئی شراب بنانے کا کارخانہ ہی کھول دے یا دکان کھول کر بیچنا شروع کردے تو اُسے بلا شبہ اسلام سے بیگانہ قرار دیا جائے گا کیونکہ بُرائی کے لئے وہ پختہ ارادہ کئے ہوئے ہے ۔فرمانبرداری کے ساتھ خطا ہوجانا اور بالکل سر کشی اختیار کرنا ،دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے،خطا کار دائرہ اسلام سے نکل نہیں جاتا لیکن نافرمانی کو اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ایسے ہی سرکشوں اور گناہ پر مُصر رہنے والوں کے لئے جہنم کے دوامی عذاب کی بات کہی گئی ہے کہ:’’اب جو بھی اللہ اور رسول ؐ کی بات نہ مانے گا اُس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔
ایک جج کبھی کسی با اثر شخص کی سفارش کی وجہ سے یا کبھی کسی ذاتی خواہش کی بنا پر مقدمہ میں کسی فریق کی حمایت کر بیٹھتا ہے ،بے شک یہ گناہ ہے جو شدید عذاب تک پہنچاسکتا ہے لیکن کیا اسے کفُر یا ارتداد قرار دیا جاسکتا ہے؟یا دوسرے الفاظ میں کیا اس گناہ گار کو اُن گناہ گاروں میں شمار کیا جاسکتا ہے جو خدا کے حکم کو مانتے ہی نہیں اور انسانی عقل و قانون کو حکم ِ خدا سے بالا تر سمجھتے ہیں ؟ پہلے گناہ گار نے تو کسی ذاتی مفاد سے مغلوب ہوکر ایک غلطی کرلی لیکن دوسری قسم کے لوگ تو خدا کے حکم کو ہی چیلینج کررہے ہیں ۔غفلت کی حالت میں سر زد ہونے والے کسی جرم اور پورے احساس و شعور کے ساتھ کئے جانے والے جُرم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔پہلے گناہ پر تو شرمندگی ہوتی ہے لیکن دوسرے گناہ پر فخر کیا جاتا ہے اور فخر کرنے والے سرکش فرد یا معاشرے کو حدود سے باہر سمجھنا ہی ہوگا ۔دین تو اس یقین کا نام ہے کہ اللہ حق ہے اور اُس کا ہر حکم واجب العمل ہے ،پھر جسمانی و قلبی طور پر اس کے سامنے مکمل سپردگی چاہئے ۔اب جو اس کے برعکس موقف اختیار کرتا ہے وہ مومن کیسے ہوگا ۔اب یہی اصول ہر چیز کے لئے فیصلہ کُن ہے جہاں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے خود سپردگی نظر آئے وہاں موجود ہے ورنہ نہیں ۔
جب فرائض مسترد کئے جائیں ،احکام کو پس ِ پُشت ڈال دیا جائے ،خواہشاتِ نفس کا ہی دو ر دورہ ہو اور آسمانی ہدایت کی پرواہ ہی نہ کی جائے تو اسلام کہاں باقی رہے گا ۔؟
رابطہ ۔احمد نگر سرینگر،کشمیر
فون نمبر۔9697334305