تازہ ترین

رمضان المبارک جلوہ افروز،حکومت اور ہم

مہنگائی و ناجائز منافع خوری کی لعنت کا کیا ہوگا؟

تاریخ    14 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


معراج مسکین
 اسلامی مہینوں میں سب سے افضل و مقدس مہینہ رمضان المبارک جلوہ افروز ہوا ہے ۔مسلمانانِ عالم کی طرح وادیٔ کشمیر کے مسلمان بھی رضائے الٰہی کے جذبے کے تحت اس مہینہ کےتمام افضل ایام کا تزک و احتشام کے ساتھ اہتمام کرتے ہیںاور بظاہر وہ سبھی کام کرتے ہیں جو بحیثیت اُمتِ محمدی ؐاُن پر لازم ہیںلیکن اس مُبارک و افضل مہینےمیں کیا  وادی کےتمام مسلمان حقیقی معنوں میں وہ سبھی کام کرتے ہیں جوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور دین ِ اسلام کے احکامات کے مطابق اُن پر عائد ہیں۔ یہاں کے پیروکارانِ اسلام، اقوامِ آدمیت ،انسان سے محبت ،بھائی چارہ گی،خوش اخلاقی ،ایمانداری ،حق پرستی ،خطائوں کی معافی ،گناہوں سے توبہ ،میانہ روی اور انصاف کے اصولوں پر کتنے کاربند رہتےہیں،کس حد تک اپنے دینی کاموںپر عمل کرتے ہیںاورانسان ہونے کے ناطے انسانیت کے اُن تقاضوںکا کہاں تک لحاظ رکھتے ہیں ،جس پر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا گیا ہے؟یہ کچھ ایسی باتین ہیں جن پر کافی حد تک سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔
قارئین کرام !افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صدیوں سے غلامی کی منجدھارمیںپھنسے ہوئےہم کشمیری مسلمان ایک طرف اپنے دین ِمبین کی پاسداری اور پیغمبر آخر الزماں ؐ کی تعلیمات کی پیروی کے روادار بنے ہوئے ہیںتو دوسری طرف اپنے ہی دین سے بیزاری اورحضرت ِ بنی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی تعلیمات سے کھلم کھُلا انحراف بھی کرتے ہیں۔زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ وادی کشمیر کے تقریباً ہر بالغ فرد نے جہاں ایمانداری ،انصاف اور فرض شناسی کی فضیلت اور اہمیت کو یکسر بھول کر حقوق ِ اللہ،حقوق العباد اور اسلامی اعمال کو ایک رسم اور بے جان قالب بناکررکھ دیا ہے وہیں دنیاوی معاملات میںاپنی ذات ،اپنی خواہشات اور مرغوبات میں اپنے آپ کو بالکل آزاد سمجھنے لگاہے۔اس نامراد اور نام نہاد آزادی کے خول میں جس طرز ِعمل، جس قول و فعل اور جس طور طریقے کے تحت وہ دینی اور دنیاوی کاموںمیںمست و مگن ہوچکاہے،اُس سے توبخوبی اُجاگر ہورہا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کوایک نئے ہی رنگ میں اپنی زندگی کو دو خانوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے ۔ایک خانہ عبادت یعنی نماز ،روزہ ،زکوٰۃ ،حج ،درود اذکار اور وعظ و تبلیغ کا ہے اور دوسرا خانے میں ہمارے دنیاوی معاملات ہیں ،جو ہم جیسا چاہیں اپنی مرضی سے انجام دیتے  ہیں، گویا ہمارا حال کچھ ایسا ہوگیا ہے کہ جیسے’نماز ہمارا فرض ہے چوری ہماراکام ،عبادت ہمارا دین ہےدنیا ہماری ابہام ‘بن کر رہ گیا ہے۔چنانچہ ایک طویل عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیںکہ ایک طر ف ہمارے یہاں کے سرکاری انتظامیہ کے تقریباً ہر شعبے میںخود غرضی ،نااہلی،کورپشن،اقربا پروری اور ناقص کارکردگی عروج پاچکی ہے تو دوسری طرف ہر پیشے سے وابستہ معاشرے کےزیادہ تر لوگ جن میں تاجر ،کاروباری حلقے،دکاندار طبقہ،اعلیٰ و ادنیٰ ملازم،کاریگر اور مزدور بھی شامل ہے،زبردست بددیانتی اور بے ایمانی کا شکار ہوچکے ہیں۔یہ دونوں سرکاری اور غیر سرکاری لوگ کسی بھی معاملے میںاورکسی بھی مرحلے پر عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرےکو دھوکہ دینے اور لوٹنے میں اتنے ماہر یا یوں کہیے کہ عادی ہوچکے ہیں کہ ان میں نہ صرف ایمانداری،حق پرستی اور انصاف کا شعور ناپید ہوچکا ہے بلکہ وہ مکمل طور پرنفسیاتی شیطان کے پجاری بن کر رہ گئے ہیںگویا سچ اور جھوٹ،اچھے اور بُرے،حق اور ناحق ،حلال اور حرام میں فرق مِٹ چکی ہے ۔ہاں! یہ امر بالکل بجا ہے کہ انسان کے لئے مستقبل کی فکر کرنا ضروری ہے لیکن محض اسبابِ دنیا کے بارے میں فکرمند رہنا اور سامانِ آخرت کے لئے بے فکر ہونا کسی صورت میں درست نہیںبلکہ اصولی و عملی طورپر غلط ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ اب ہم رزقِ حلال کمانے اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاص سے پیش آنے کی سعادت و عبادت کو بغاوت سمجھتے ہیںاور بدستور ظاہر داری او ریا کاری سے ایک صالح،باکردار اور دیندار مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے ہیںاور اپنی بد اعمالیوں و بُرائیوںپر سینہ ٹھونک کر فخر محسوس کرتے رہتےہیں۔
اب ذرا غور کیجئےکہ جب بھی وادیٔ کشمیر کا ہر طبقہ کسی دینی تہوار کی آمد کی خوشیاں منانا چاہتا ہے ،رمضان کے مقدس ایام کی فضیلت بٹورنا چاہتا ہے ،عیدین کی مسرتیں بانٹناچاہتا ہےیا اُن موقعوں پر ،جب وہ کسی قدرتی آفات یا کسی اور وجوہات کے باعث شدید مشکلات میں مبتلا ہوکر اضطرابی کیفیت سے راحت کا طلبگار ہوتا ہے تو اِن موقعوں پر عموماً ہمارے یہاں کے تاجر حلقوں کا دین ِ ایمان غارت ہوکر رہ جاتا ہے۔حق پرستی ،دینداری اور ہمدردی یا مروت کی ہررَمق اُن میں نہ صرف کافور ہوجاتی ہے بلکہ اُن میںلالچ ،خودغرضی اور مکروہ ہتھکنڈوںکی ایسی شیطانی قوت اُبھر آتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔وہ اپنے ستم رسیدہ اور پریشان حال ہم ملت لوگوںکو اپنی استحصالی کارستانیوں کے تحت لوٹنے میں ایسےمصروف ہوجاتے ہیں،جیسے بھوکے درندے ایک کمزور شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور نوچ نوچ کر اُسے اپنا نوالہ بناتے رہتے ہیں۔وادی کے ستم رسیدہ لوگ خصوصاًغریب طبقوں کے لئے یہ صورت حال انتہائی پریشان کُن بن جاتی ہے اور وہبے بسی اور بے کسی کے عالم میں آہیں بھرنے اور خاموش رہنے کے سِوااور کچھ کر نہیں سکتے ہیں۔
ہم سب اس امر سے واقف ہیں کہ پچھلےایک سال سے کرونا کی وبا ئی صورت حال نے جہاں ایک طرف وادیٔ کشمیر کو بھی جانی اور مالی طور پر زبردست متاثر کرکے رکھ دیا ہے وہیںپچھلے چھ مہینوں سے موسم سرما کی یخ بستہ سردیوں،شدیدبرف باری اور بارشوںکے نتیجے میں پیدا شدہ صورت حال اور پھر وقفہ وقفہ کے بعد سرینگر جموں شاہراہ پر آمدورفت کی مسدودیت بھی وادی کی ساری آبادی کے لئے گونا گوں پریشانیوں کا سبب بن گئی کیونکہ یہاں کے تاجروں اور دکانداروں نے حسبِ روایت نہ صرف اشیائے خوردنی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کرنے کا عمل جاری رکھا بلکہ بعض چیزوں کے دوگنے اور تِگنے دام بھی وصول کرتے رہےجبکہ یہ عمل شدو مد کے ساتھ تا ایں دم جاری ہے۔اب جبکہ رمضان المبارک جلوہ افروز ہورہا ہے اور ساتھ ہی کرونا بیماری میں بھی اُچھال آرہا ہےتورات کے کرفیو کے نفاذ اور لاک ڈاون کے اندیشےکی آڑ میں ان تاجروں اور دکانداروں کی پھر بَن آئی ہے،وہ کھلے عام دندناتے نظر آرہے ہیںاور اپنے روایتی کھیل کو مزید بڑھاوا دینے کی کہانیوں اور قصوں کے نئے باب مرتب کرنے لگے ہیں۔چنانچہ گوشت ،مرغ ،مچھلی اورپنیر کی حصول کے لئے متوسط طبقے کی قوت خرید پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے جبکہ غریب اور محدود آمدن والوںکے لئے یہ چیزیں صرف دیکھنے کے لئے رہ گئی ہیں۔ظاہر ہے کہ وادی کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت،بے روز گاری کے باعث عرصہ دراز سے مختلف مسائل سے دوچار ہے لیکن اس کے باوجود اپنے ہی معاشرہ کا ایک مخصوص حصہ اپنی خود غرضانہ کاروائیوں سے اُسے مزیدنوچنے و لوٹنے سے باز نہیں آرہا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ جو چیزیں دوگنے ،تگنے اور چُگنے داموں پر فروخت کی جارہی ہیں وہ بھی نقلی ادویات کی طرح ناقص ،غیر معیاری اور مُضرِ صحت ہوتی ہیں ،ایک لمبے عرصے سے جہاںوادی میں تیسرے درجے کا گوشت اول درجے کے نام پر من مانی قیمتوں پر فروخت ہورہا ہے وہاںگلی سڑی سبزیاں اور بوسیدہ پھل و میوے بھی اونچے داموں پر بیچنے کا سلسلہ جاری ہے۔وہ سبزیاںاور پھل بھی انسانوں کو کھلائی جارہی ہیں جو مویشیوں تک کے لئے بھی ناقابل استعمال قرار دی جاسکتی ہیں۔دیانت ،شفافیت اور پاکیزگی نام کی چیز مکمل طور غائب ہوچکی ہے۔روز مرہ استعمال ہونے والی کھانے پینے کی اشیامیں معیار و کوالٹی ناپید ہوگئی ہے اور ناقص ،غیر معیاری اور ملاوٹی چیزوں کی وبا ایک لمبے عرصے سے عام ہوچکی ہے۔الغرض بازار میں کون سی چیز سستی ہے، یہ سب کہنے کی باتیں رہ گئی ہیں لیکن اس کے باوجود ہر چیز بک رہی ہے۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو مہنگی ہونے کی وجہ سے بک نہ رہی ہو اور جب چیزیں بکتی رہتی ہیں تو وہ مہنگی نہیں رہ جاتیں۔ ہاں! جو بے چارے خرید نہیں سکتے، اُن کےلئے ضرور مہنگی ہوتی ہے لیکن عام آدمی کسی بھی مہنگی چیز کو خریدنے پر مجبور ہوجاتا تو چیزیں مہنگی ہوتی چلی جاتی ہیں۔چنانچہ تاجر یا دوکاندار جب دیکھتا ہے کہ ایک روپے کا مال تین روپے میں بھی خریداجا رہا ہے تو وہ مزید منافع کمانے کے لئےمہنگی کرتا ہےکیونکہ وہ جانتا ہے قیمتوں کو کنٹرول کرنے والایہاں کوئی مائی کا لال رہا ہی نہیںہے۔ظاہر ہے جب حکومتی دعوئوں میں کھوکھلا پن ہو تو حقیقی طور پر مہنگائی میں کوئی کمی کیسے ہوگی؟ حالانکہ دودھ، چینی،گھی ،تیل، چاول، آٹا، دالیں، بھیڑ ،بکری اورمرغی کا گوشت،سبزیوں اور پھلوںاور دیگر ضروریات ِ زندگی کی ہر غیر معیاری اور ناقص چیز کی قیمتوں میں سو سے پانچ سو فیصد تک کا تو اضافہ ہواہےلیکن پھر بھی چھوٹے بڑے تاجراقتصادی بدحالی کا رونا روتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ اُنہیں روکنے والےبلواسطہ یا بلا واسطہ سوئے رہتے ہیں اور جب کبھی متعلقہ انتظامیہ کو اپنے مشاغل سے فرصت ملتی ہے تو اپنے وجودکے دکھاوے کے لئے مہنگائی کے خلاف عوام کے حق میں بیان داغ دیتے ہیں، وہ بھی دراصل حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے کرتے ہیںنہ کہ وہ غریب عوام کے لئے کسی بھلائی کے لئے۔ظاہر ہے کہ بیان داغنے میں کچھ نہیں جاتا، اس لئےوہ یہ کام پہلی فرصت میں کر ہی لیتے ہیں۔ گذشتہ سال جب شہر میں کورونا کے باعث لاک ڈائون لگایا گیا ہےتو اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوااور گوشت کی مصنوعی نایابی کی آڑ میںمٹن ڈیلروں نے من مانگے داموں پر گوشت فروخت کرنے کاخفیہ دھندہ جاری رکھا اور گوشت کی مقرر کردہ سرکاری ریٹ کی دھجیاں اُڑادیں،اسی طرح دیگر روزمرہ استعمال ہونے والی دیگر ساری اشیاکی بھی من مانی قیمتیں وصول کی گئیں۔جس سےیہ واضح ہوگیا ہے کہ کرونا کے باعث ہونے والے لاک ڈائون میں اشیائے ضروریہ کا حصول مشکل ہوجاتا ہے اور اس مشکل سے تاجراور دکاندار برادری ناجائزفائدہ اٹھانے میں ہرگز چوکتے نہیں ۔عوام غریب مجبور و بے بس اپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے مہنگی اشیا خریدتےپر مجبور ہوجاتے ہیں۔بغور دیکھا جائے تو ابھی حکمراں اور انتظامیہ مست سحر سے آزاد نہیں ہوسکے ہیںاور وہ محض پروپیگنڈا سازیوں اور دعویٰ بازیوں میں ہی کھوئےہوئے ہیں،اس لئے اب یہاں نہ حکومت اس صورت حال پر قابو پانے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے اور نہ یہاں کے سرکاری انتظامیہ کا کوئی شعبہ انصاف نافذ کرنے کے قابل رہا ہے ۔جبکہ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ معاشرے میں بھی ایسی کوئی اہلیت باقی نہیں رہ گئی ہے کہ اپنوں کے اس ظلم و نا انصافی کے خلاف کوئی موثر حکمتِ عملی اختیار کرسکے۔ایسا لگتا ہے کہ معاشرے کا بھی ضمیر مُردہ ہوچکا ہےاور وہ سب کچھ دیکھتے ،سمجھتے اور سُنتے ہوئے بھی اندھے ،بہرے اور گونگے بننے کے قایل ہوچکے ہیں۔اب جبکہ غیر مسلموںکی تقلید بھی ہمارے فرائض میں شامل ہوگئی ہے تو زندگی کے سارے معاملات میں ہم اُسی کی پیروی کرنے لگے ہیں۔مغرب کے غیر مسلموں کا ہر منفی رویہ تو ہم بڑی خوشی سے اپنالیتے ہیںلیکن اُن کی کسی بھی اچھی اقدار کی طرف نظر اُٹھاکر بھی نہیں دیکھتےہیں۔افسوس صد افسوس!ہم نے اپنے مذہبی اقدار کو خود ہی خیر باد کہہ دیا ہے اور گمراہ ہوکر خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس رمضان المبارک کے متبرک ایام میں ہمارے اندر کا انسان جاگ جائے ،ہمارا ضمیر بیدا ہوجائے اور ہم اپنے روایتی اصولوں سے ہٹ کر اپنی دنیا اور اپنی عاقبت کے لئے کوئی موثراور مثبت سامان حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیںاور جس بے حِسی و لذت ِ بد نے ہمیں بُرائیوں اور خرابیوں میں ڈبو دیا ہے اُن سے نجات حاصل ہوجائےاور ہم حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں۔آمین