تازہ ترین

حضرت مولانا سید ولی رحمانی

عظیم مفکر،بے باک قائد

تاریخ    13 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


نعمت اللہ محمد ناظم قاسمی
 ۳ /اپریل ۲۰۲۱ ء کی صبح سویرے حضرت مولانا سید ولی رحمانی کی طبیعت زیادہ ناساز ہونے کی اطلاع ملی،اللہ تعالی سے جلد شفایابی کی دعاء  زبان پر جاری ہی تھی کہ کچھ گھنٹوں بعد اس اندوہناک خبر کی اطلاع  سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ،جس کا خطرہ دل ودماغ کو صبح سے بے چین کر رکھا تھا،انتقال پر ملال کی یہ خبر ایک بجلی کی طرح ہم جیسے لاکھوں محبین ومعتقدین کے دلوں پر گری،انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اغفرلہ وارحمہ۔
حضرت مولانا سید ولی رحمانی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے،یہ کوئی الفاظ کی جادوگری نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے ایک ساتھ جتنی خوبیوں سے آپ کو نوازا تھا، ان سب کا ایک شخصیت میں جمع ہونے کی مثال بہت نادر ہے،علم، تقوی، صلاح، تقریر کی جادوگری، تحریر کی چاشنی،عصر حاضر کی ذمہ داریوں سے آگہی، علم قانون شریعت میں پوری گہرائی وگیرائی،قانون ہند پر گہری نظر، جرأت وبے باکی،حوصلہ مندی و أولوالعزمی،فیصلہ سازی اور اس پر ثبات قدمی، منصوبہ بندی اور اس پر عمل آوری،یہ تما م صفات ایک ساتھ آپ کی شخصیت میں جمع تھیں ۔
ایک طرف جہاں جامعہ رحمانی مونگیر سے آپ کا تعلق علم دین کی نشر واشاعت سے آپ کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے، وہیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی سجادہ نشینی،تقوی،اصلاح نفس اور روحانی تربیت کے باب میں آپ کی خدمات کی روشن مثال ہے ،مفکرانہ وقائدانہ کردار،فکری بالیدگی،قوت فیصلہ کی صلاحیت،اور آپ کی جرأت وبے باکی کا نمونہ دیکھنا ہوتو مسلم برسنل لاء بورڈ کے بینر تلے آپ کی خدمات پر نظر ڈالی جائے، بورڈ کے اجلاسوں میں آپ کے خطبات ، میڈیا کے سامنے بورڈ کے مسائل کو پیش کرنے کا سلیقہ ،آپ کی بے مثال شخصیت کا مظہر  ہے۔
دیار کفر میں اسلامی شناخت کو باقی رکھنے، اسلامی تشخص کے ساتھ زندگی گذارنے  اور اپنے مسائل کو کتاب وسنت کے مطابق حل کرانے کے لئے مسلمانوں کو آمادہ کرنے کا کام ،آپ نے امارت شرعیہ بہار ،اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے اسٹیج سے بخوبی انجام دیا،
آپ کی زندگی کا نہایت کامیاب مشن امت مسلمہ کو عصری علوم کے میدان میں ترقی کے اعلی مقام تک پہونچانا تھا،ہندوستان میں کسی عالم دین کی طرف سے اپنی نوعیت کا شاید یہ پہلا  اٹھایا جانے والا قدم تھا،اعلی تعلیمی شعبوں اور اداروں میں داخلہ امتحان کی تیاری کے لئے آپ کا قائم کردہ رحمانی ۳۰ نے کم وقت میں ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک میں میں بھی اپنی شناخت قائم کرلی ہے،اس ادارہ  کے سینکڑوں تربیت یافتہ طلباء ملک کے اعلی تعلیمی ادراوں میں داخلہ لے کرکامیابی حاصل کی ہے اور آج وہ اعلی عہدوں پر فائز ہوکر ملک وقوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں،۔
جانے والا بحکم خداوندی جا چکا ہے، اپنے حصہ کا چراغ ہی نہیں بلکہ ایک آفتاب وماہتاب بن کر امت مسلمہ کو نصف النہار کی طرح راہ دکھا چکا ہے، ان کے ملفوظات ،ان کی تقاریر، ان کی تحریریں آج ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، موجودہ حالات میں جب کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے، برہمن وادی اس ملک سے مسلمانوں کا صفایا چاہتے ہیں، ملک میں این آر سی،یونیفارم سیول کوڈ،دینی مدارس میں ہندو مذہبی کتابوں کی تعلیم،جیسے مسائل روز ہی کسی نہ کسی شکل میں اکثریتی طبقہ کی جانب سے اٹھائے جارہے ہیں، ایسے نازک حالات  میں آپ کا  ہم سے جدا ہوجانا یقینا ایک بڑا سانحہ ہے۔اللہ تعالی امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔یقینا جس رب ذو الجلال نے امت کے رشد وہدایت اور قیادت وسیادت کے لئے آپ کو پیدا فرمایا تھا، وہی ذات وحدہ لاشریک ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں اپنے بندوں اور اپنے نبی کی امت کو ضائع نہیں ہونے دے گا،اور ایسے باصلاحیت افراد کو پیدا کرتا رہے گا جو امت کی ہر زمانے میں رہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
رابطہ۔ریسرچ سکالر، ام القری یونیورسٹی، مکہ مکرمہ،سعودی عرب