تازہ ترین

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار

وحی ،عقل اور سائنس

تاریخ    13 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


شہباز رشید بہورو
سائنس میزانِ عقل میں اپنے معنوی ثقل کی وجہ سے خرد کے جملہ جزئیات کو متاثر کرتی ہے لیکن اپنے وجود کی تعبیر کے لئے عقل کی ہمیشہ محتاج  ہے۔سائنس نے انسانی دماغ کے مادی خلیوں کے باریک سے باریک گوشوں تک کا مشاہدہ اور معائنہ کیا لیکن عقل کے وجود پر اپنا حکم چلانے سے قاصر رہتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے میں یکسر ناکام ہے۔سائنس عقل کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے ۔اگر سائنس کو عقل کی لونڈی کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کیونکہ سائنس عقل کی مصروفیت ومشغولیت ،محنت و مشقت اور غور وفکر کی محتاج ہے۔اگر عقل کا وجود نہیں ہوتا  تو سائنس نام کی کوئی چیز وجود میں نہیں آتی۔دنیا کا کوئی سائنسی آلہ عقل کو ڈیفائین(Define) نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ عقل کے شاہکار کے طور پر اپنا کرتب پیش کر پاتا ہے۔عقل ہی عقل کو کسی حد تک سمجھ سکتی ہے اور اس کے صغریٰ ، کبریٰ پرتبدیلی کیاثرات مرتب کر پاتی ہے۔جیسے اس دنیا  میں کسی ذہین انسان کی عقل دوسروں کی سوچ اور سوچنے کے انداز کو بدل دیتی ہے ۔سائنس بذاتِ خود یہ فعل انجام نہیں دے سکتی۔ سائنس بذاتِ خود انسانی سوچ کی ترقی کی محتاج ہونے کے ناطے عقل پر غالب نہیں آسکتی۔عقل کے وجود کاثبوت خیالات وتصورات کی شکل میں انسان کے مادی وجود پر اپنا اثر ورسوخ نافذ کرتے ہوئے ظاہر ہوتا ہے۔سوچ کی تبدیلی سے سائنس بھی اپنا رنگ بدلتی رہتی ہے کیونکہ سائنس انسان کی تخلیق اور تنظیم ہے۔انسان اپنی یہ غیر معمولی تخلیق و تنظیم (سائنس)دیکھ کر خود حیران رہ جاتا ہے کہ آیایہ میرا ہی کارنامہ ہے یا نہیں ! حیرت ہے کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی کے مصداق انسان اپنی سائنسی ترقی کے زعم میں پوری کائنات کو فتح کرنے اور خدا کو بھولنے کی روش پر گامزن ہے۔ تسخیر کائنات کوئی برا فعل نہیں لیکن خدا فرموشی کی بنیاد پر ہر یہ عمل انجام دینا ہلاکت سے کم نہیں۔کیونکہ یہ کائنات خدافراموشی کی بنیاد پر مداخلت قبول نہیں کرتی نتیجتاً انسان کو بھیانک صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔سائنس کو انسان نے مجرد مادی مقاصد کے تحت جملہ شعبہ جات میں داخل کرکے کھلبلی پیدا کی ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ عقل کو وحی کے تابع رکھ کر توازن کو قائم اور برقرار کیا جائے۔انسان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سائنسی ترقی اللہ کی دین کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی آزمائش بھی ہے ۔بعض اوقات ایک مصنف اور شاعر اپنی تصنیف اور نظم پڑھ کر جس طرح احساسِ تفاخر میں مبتلا ہوتا ہے اسی طرح انسان سائنس کی تجلیات کو دیکھ کر احساسِ برتری کا مریض بن کے خدا سے غافل ہوکر اپنے لمحاتِ حیات بسر کررہاہے۔اس غفلت سے اس کو نکالنے اور اس کے خود ساختہ تکبر کو توڑنے کے لئے ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جو مادی ذرائع سے حاصل شدہ علوم کے مقابلے میں بالاتر ہو۔کیونکہ انسانی عقل اپنے ہم پلہ علم کی برتری کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرتی اسی لئے دنیا میں افکار کا اختلاف اتنا وسیع ہے کہ کسی ایک فکر پراتفاق ممکن نہیں۔ انسانی عقل علم جدید کے اس سمندر کا مشاہدہ کرکے خود ایک مخمصے کا شکار ہے کہ کس طرح سے انسان اس سمندر سے اتنا پانی نکال کر اپنے مسائل کاحل تلاش کر سکتا ہے۔جس طرح اس زمین پر بحر وبر کی آپسی مناسبت ہے اسی طرح عقل اور انسانی علوم کی مناسبت دورِجدید میں ہے۔عقلی علوم کا دائرہ اب اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ خود انسان کو اس میں گم ہونے کا خطرہ ہے جیسے انسان نے گاڑی ،ہوائی جہاز ،ریل گاڑی وغیرہ بنا کے خود اپنے لئے حادثات کی واقعات ہونے کو مواقع پیدا کئے ہیں بعینہ عقلی علوم م میں روز بروز کا اضافہ انسان کو وحی الٰہی کی راہنمائی کے بغیر روحانی طور لے ڈوبے رہی ہے جس کا نقشہ اقوامِ عالم پیش کر رہی ہے۔ الحاد کے علمبردار انسانیت کے اس روحانی موت میں پیش پیش اپنے ذہن کی گندگی سے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔انسان نے عقلی علوم کے بل بوطے پر بے شمار مادی مسائل کا حل دریافت کرکے خود کو اگرچہ مادی پریشانیوں سے آزاد کر لیا ہے لیکن بدقسمتی سے اب عقلی علوم کے جال میں پھنس کر ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہوا ہے۔سائنس کی کلید سے عیاشی کے مادی وسائل کی آسان دستیابی نے انسان کوڈپرشن سے دوچار کیا ہے۔ بے شمار جدید امراض سے متاثر جدید انسان بے سکونی اور بے چینی کا برہم لئے عقلی علوم کے ہی ہاتھ پاوں پکڑ کر سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ کوئی جینے کی امید وہاں سے حاصل ہو جائے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ ایک مالک تو ہے جو امیدوں کا حقیقی مرکز ہے۔اس غفلت کی وجہ ہی یہ ہے کہ جدید انسان وحی کے اس پیغام سے نابلد ہے اس نے کبھی اس وحی کا مشاہدہ اور اس کو پڑھنے کی زحمت ہی نہ اٹھائی  اور نہ اس نے اس وحی کے مقامِ بلند کا عملی تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ 
عقل کی وجاہت کے مقابلے میں مذہب کی طرف سے علمِ وحی پیش کیا جاتا ہے جس کی ضرورت جدید مفکرین بھی محسوس کرتے ہیں۔برگسان لکھتا ہے؛
’’ہماری فکر اس قابل نہیں ہے کہ وہ زندگی کی حقیقت کو ہمارے سامنے لا سکے یا زندگی کی ارتقائی حرکت کا صحیح اور پورا پورا مفہوم پیش کر سکے۔‘‘برگساں کے اس جملے میں انسانی عقل کی محدودیت کا اقرار کسی اور ذرائع علم کی طرف اشارہ  ہے جو شاید اگرچہ برگساں کے ذہن میں بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی فطرت اس چیز کا مطالبہ کر رہی تھی۔اسی فطری مطالبہ کے متعلق مغربی فلاسفر شین ان الفاظ میں حقیقت کا اظہار کرتا ہے:
’’جس طرح ہمارے حواس اس وقت بہتر کام کرتے ہیں جب ان کی تکمیل عقل کے ذریعے سے ہو جائے اسی طرح ہماری عقل اس وقت بہتر کام کر سکتی ہے جب اس کی تکمیل ایمان (وحی )کے ذریعے ہو جائے جو شخص عارضی طور پر عقل سے عاری ہو جائے جیسے شرابی ،اسکے حواس وہی ہوتے ہیں جو پہلے تھے لیکن اس وقت وہ کسی بھی صورت اپنے فرائض اس طرح انجام نہیں دے سکتا ،جس طرح عقل وہوش کی حالت میں انجام دیتا ہے۔جو حالت عقل کے بغیر حواس کی ہوتی ہے وہی کیفیت وحی کے بغیر عقل کی ہوتی ہے۔‘‘
مذہب کے پاس ہی وحی کی تاریخ موجود ہے جو اگرچہ انسانی تاریخ کے ایک حصے میں اپنی اصلی شکل اور ہیئت میں قلمبند نہ ہوسکی لیکن وحی کے نزول کے ظمن میں ایک بین ثبوت کے طور پر موجود ہے۔پیغمبرِ اسلامؐ کی بعثت سے قبل وحی کے ذریعے حاصل کیا گیا آسمانی کلام (زبور،تورات ،انجیل )اپنی اصلی شکل میں محفوظ نہ رہ سکا جس کی وجہ خاص انسانوں کی شرارتِ نفس تھی جو تحریفات و تاویلات کی صورت میں برآمد ہوئی۔اس لئے سابقہ کتب کے ذریعے سے وحی کی اصلی حقیقت کو جاننا ممکن نہیں۔وحی کی اصلی ہیئت اور صورت کا مستند اور معتبر تصور رسولؐکی احادیث کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔حدیث کی کتب میں ایک باب وحی کے لئے مختص کیا گیا جس میں رسولؐپر نازل ہونے والی وحی کی کیفیت ،ہیئت اور صورت ان ہی کی زبانی نقل کی گئی ۔
تاریخ کی کتابوں میں مختلف مذہبی شخصیات کے ضمن میں الہام ،کشف اور القاء کا ذکر تو ملتا ہے لیکن وحی کا تذکرہ صرف نبیوں اور رسولوں کے ساتھ مخصوص ہے۔لیکن ہم جانتے ہیں کی مذہبی تاریخ میں کسی بھی رسول یا نبی کا تذکرہ صحیح سند کے ساتھ منتقل نہیں ہو پایا ہے اس لئے ان کے حوالے سے وحی کے صحیح تصور کو نہیں جانا جا سکتا ہے۔یہ صرف رسولؐکا امتیاز ہے کہ آپؐکی حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ صحیح سند کے ساتھ قلمبندکیا گیا اور آگے منتقل کیا گیا۔رسول اللہ ؐ کے ذریعے ہم تک پہنچایا گیا کلام قرآن مجید وحی کا مستند و معتبر مجموعہ ہے جس کا ایک ایک لفظ اعلی و ارفع ہونیکی دلیل پیش کرتا ہے۔ جس طرح سے رسول اللہ ؐ کے زمانے میں اس وحی نے جاہلیت کے تمام مفاسد کا سد ِ باب کیا تھا ہر دور کی طرح آج بھی یہ وحی ہی ہے یعنی قرآن جو دنیائے انسانیت کو جملہ مصائب سے نجات دلوائے گی۔
قرآن مجید کا انداز انسانوں کے اعلیٰ سے اعلیٰ انداز سے اعلیٰ تر ہے ۔سائنسی علوم بذاتِ خود ایک راہنمائی کا تقاضہ رکھتے ہیں لیکن وہ راہنمائی انسانی علوم کے دیگر شعبہ جات سے حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ سائنس کے مقابلے میں اس مقام تک نہیں پہنچ چکے ہیں کہ سائنس انہیں تسلیم کرے۔کیونکہ سائنس نے آج ہر شعبہ حیات کو اس قدر اپنا  محتاج بنایا ہے کہ اب سائنس کے بغیر ان میں بات کرنا نہایت مشکل ہے۔مثال کے طور اگر چند لمحات کے لئے انٹرنیٹ کو پوری دنیا میں بند کیا جائے گا تو جملہ شعبہ جات متاثر ہونگے ،علمی وتحقیقی کام کے ساتھ ساتھ سیاسی ،سماجی اور معاشرتی امور تک اس کا اثر پڑے گا۔انسان کودیگر مخلوقات کے مقابلے میں شرف اس عقل کی وجہ سے ہی حاصل ہے  لیکن یہ شرف بعض اوقات انسان کے لئے باعث فساد ثابت ہوتا ہے اگر کسی الہامی وآسمانی ہدایت کے تابع رکھ کر عقل کو نہ چلایا جائے۔ابلیس کو خطا اپنے حاصل شدہ شرف ہی سے ہوئی تھی کہ وہ تکبر کے دلدل میں پھنس گیا اور ذلیل ورسوا قرار دیا گیا۔ ابلیس کو سجدہ کرنے کی ہدایات دی جارہی تھی کہ اس نے اپنے شرف وبزرگی کے زعم میں آکر خدا کے حکم کاانکار کیا۔ابلیس ہرگز بھی خدا کے وجود کا انکاری نہیں بلکہ وہ خدا کے احکامات کا نافرمان بن بیٹھا۔انسان کی نافرمانی بھی اسی شرف کی وجہ سے ہوتی ہے جو اسے عقل کی شکل میں اور اس کے کارناموں کی صورت میں نظر آتا ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ عقل کی راہنمائی کے لئے ایک ایسا ذریعہ علم کا انتخاب کیا جائے جو انسانی ذرائع  سیاعلی و ارفع ہو۔کیونکہ راہنمائی کے لئے ادنی کا اعلی کی طرف رجوع کرنا فطری ہے۔اس لئے وحی کے ذریعے حاصل کیا گیا علم عقل کی راہنمائی کا حق رکھتا ہے۔کیونکہ وحی تمام تر مادی عوامل سے ماوراء ہونے کے ناطے انسانی عقل پر صحیح اور برحق گرفت کرسکتی ہے۔وحی کے ذریعے حاصل ہونے والا علم ظن و گمان سے پاک ہے اس لئے اس کے تقاضوں کے مطابق اترنے کے لئے انسانی عقل کو کوئی دکت نہیں بشرطیکہ عقل نفس کے کی پیش کردہ لذتوں سے متاثر نہ ہو۔عقل وحی کی راہنمائی میں سائنسی علوم کے ذریعے انسان کو الحاد کے بدلے مذہب کے قریب کرتی ہے۔جیسے بہت سارے غیر مسلم سائنسدانوں نے جب سائنس کو قرآن کی روشنی میں سمجھا تو وہ الحاد اور مادہ پرستی سے نکل کر دین مبین کے پیروکار بن گئے۔… (جاری)
�������