تازہ ترین

شوپیان اور بجبہاڑہ میں مسلح معرکہ آرائیاں| ایک جنگجو جاں بحق، کئی محصور

۔ 2فوجی اہلکار زخمی،24گھنٹوں کے دوران شوپیان میں دوسری مسلح جھڑپ

تاریخ    11 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


شاہد ٹاک
 شوپیان// شوپیان اور ترال میں دو معرکہ آرائیوں کے دوران 7جنگجوﺅں کی ہلاکت کے ایک روز بعدزینہ پورہ شوپیان اور بجبہاڑہ اننت ناگ میں سنیچر کو دو مقامات پر مسلح تصادم آرائیاں شروع ہوئیں۔مسلح تصادم آرائیوں کے دوران چتراگام شوپیان میں ایک جنگجو جاں بحق جبکہ دو فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔یہاں مزید 2جنگجو محصور تھے، جن میں ایک 15سالہ نوجوان بھی شامل ہے جو میٹرک میں زیر تعلیم تھا اور ہتھیار اٹھائے۔

شوپیان انکوانٹر

 پولیس نے بتایا کہ پہاڑی ضلع شوپیان کے چتراگام زینہ پورہ نامی گاﺅں میںجنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد34آر آر،178بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے خصوصی دستے نے ستراجن کے وسیع میوہ باغات کا محاصرہ کیا اور سخت ترین ناکہ بندی کر کے میوہ باغات میں موجود عارضی تعمیراتی ڈھانچوں کی تلاشیاں لیں۔پولیس نے بتایا کہ انہیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ ایک میوہ باغ میں موجود موہ سٹور کرنے کےلئے بنائے گئے ایک پختہ شیڈ میں 3جنگجو موجود ہیں۔پولیس کے مطابق مشتر کہ طور پرجب تلاشی آپریشن شروع کی گئی تو جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا جس میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا ۔فائرنگ کے تبادلے میں 2فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ ایک جنگجو زخمی ہوا جبکہ تیسرے جنگجو کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ محض 14یا پندرہ سال کا ہوگا، جو دسویں میں زیر تعلیم تھا، جب اس نے ہتھیار اٹھائے ہیں۔پولیس نے مذکورہ جنگجو نوجوان کی ماں اور دیگر رشتہ داروں کو یہاں طلب کیا جس کے بعد آپریشن بند کیا گیا اور جنگجوﺅں کو ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی گئی۔ رات دیر گئے تک جنگجوﺅں، جن کی تعداد دو کے قریب ہے، کو ہتھیاروں کے بغیر باہر آنے کےلئے کہا گیا لیکن جواب میں کوئی مثبت رد عمل نہیں دیا گیا۔ علاقے مٰں روشنی کا انتظام کیا گیا ہے اور آپریشن کو اتوار کی صبح تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ پولیس و فورسز اس بات کی کوشش میں ہے کہ محصور جنگجوﺅں کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کیا جاسکے۔

بجبہاڑہ

پولیس نے کہا ہے کہ سہ پہر قریب 4 بجے انہیں سمتھن بجبہاڑہ میں جنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فوج اور سی آر پی ایف کی مدد طلب کر کے علاقے کا محاصرہ کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ 5بجے کے قریب جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان فائرنگ کا زوردار تبادلہ ہوا جو کچھ دیرتک جاری رہا لیکن اسکے بعد خاموشی چھا گئی۔یہاں رات دیر گئے تک آپریشن جاری تھا لیکن طرفین میں کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا تھا۔پولیس و فورسز نے یہاں ناکہ بندی کر رکھی ہے اور محاصرہ بدستور جاری ہے۔ علاقے میں روشنی کا انتظام کیا گیا ہے اور جنگجوﺅں کی تلاش جاری ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کے بعد گاﺅں میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
 

 سوپور میونسپل کونسل حملے کی منصوبہ بندی بے نقاب

جنگجوﺅں کے6ساتھی گرفتار: ایس ایس پی سوپور

غلام محمد
 
سوپور //سوپور پولیس نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے سوپور میں میونسپل کونسلروںپر حملے کا معاملہ حل کردیا ہے اور اس ضمن میں 6افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ ایس ایس پی سوپور کے مطابق 29 مارچ کو ، دو میونسپل کونسلر اور ایک پولیس اہلکار جنگجوﺅں کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔اس حملے کے بعد پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے دیگر سیکورٹی فورسز کے ہمراہ مشتبہ مقامات مثلاً ڈانگر پورہ ، براٹھ کلان ، صدیق کالونی سوپور ، ماڈل ٹاو¿ن ، بٹہ پورہ وغیرہ میں تلاشیاں کیں۔ پولیس کے مطابق اس دوران متعدد مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کےلئے حراست میں لیا گیا اور دوران تفتیش ایک مشتبہ بالائے زمین ورکر ڈانگر پورہ کے عاشق احمد پنڈت نے انکشاف کیا کہ جنگجو مدثر پنڈت عرف معاذ اور پاکستانی جنگجو اسرار حملے سے قبل اسکے گھر میں 25مارچ سے 28مارچ تک قیام پذیررہے، جس دوران اس حملے کی پوری منصوبہ بندی کی گئی۔اس کے علاوہ ماڈل ٹاو¿ن سوپور سے ایک اور مشتبہ نوجوان جنید احمد شوشہ سے پوچھ گچھ کے دوران ایک اور نام سامنے آیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ نومبر 2020 کے مہینے میں مدثر پنڈت سے ماڈل ٹاو¿ن سوپور میں اپنے کزن عمیر عاشق کی رہائش گاہ پر رابطے میں آئے تھے۔ مدثر پنڈت اپنے دو غیر ملکی عسکریت پسندوں احمد اور ابوساریہ کے ساتھ لشکر کے ایک بالائے زمین ورکر سعید عمران کی ہدایت پر رات بھر ٹھہرے رہے۔ جنید احمد شوشہ اور عمیر عاشق کو مدثر پنڈت نے لشکرکے لئے کام کرنے پر قائل کرلیا اور ان کا تعارف پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بیٹھے ساجد علی سے کرایا۔ عمران کے انکشاف پر عمیر عاشق اور سید عمران کو پکڑ لیا گیا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ دونوں واقعتا ممنوعہ تنظیم لشکر کے لئے کام کر رہے تھے اور مرکزی شہر سوپور میں اپنی گرفتاری / نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لئے کالعدم تنظیم کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کررہے تھے اور مزید انکشاف کیا ہے کہ مدثر اور ساجد کی ہدایت پر انہوں نے لون کمپلیکس سوپور کے ارد گرد جائزہ لیا تھا۔ان مشتبہ افراد کے انکشافات پر ، ایک اور سخت گیر بالائے زمین ورکر شاکریوسف بٹ ساکن بٹہ پورہ کو گرفتار کرلیا گیا جس نے مزید انکشاف کیا کہ وہ مدثر پنڈت عرف معاذ کا قریبی رشتہ دارہے اور جنگجوﺅں کی صفوں میں شامل ہونے سے قبل وہ مقامی ورکشاپ میں میکینک کی حیثیت سے کام کر رہے تھےاور وہ مدثر کیساتھ تب سے رابطے میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مدثر اور اس کے ساتھیوں کو سوپور سے دوسری جگہوںواگورہ، نوپورہ کیریری بارہمولہ ، سہی پورہ ، پنڈت پورہ ، تلواری ہندواہ اور حاجن بانڈی پورمیں لیجاتا تھا۔پولیس کے مطابق کونسلروں کیخلاف کارروائی انجام دینے کے لئے، جسکی مدثر پنڈت نے سرحدکے اس پار ساجد علی کی ہدایت پراپنے غیر ملکی ساتھی کے ہمراہ (25 سے 28 مارچ) تک اپنے ماموں زاد بھائی عاشق احمد پنڈت کی رہائش گاہ پر منصوبہ بندی کی تھی،کےلئے بالائے زمین نیٹ ورک بشمول جنید شوشہ، عمیر عاشق اور سید عمران کو سرگرم کیا گیا۔ عمیر نے ان کی ہدایت پر حملہ کی جگہ کا معائنہ کیا اور صورتحال کی جانکاری دی۔پھر 28 مارچ کی شام پھر کسی بہانے عاشق پنڈت نے بھی کمپلیکس کا جائزہ لیا۔شاکر اپنے دوست فیروز احمد بٹ ساکن بٹہ پورہ مدثر پنڈت اور اس کے غیر ملکی ساتھی کو بٹہ پورہ لانے کے لئے ڈانگر پورہ گئے ، اور فیروز احمد بٹ کی رہائش گاہ پر رات بھر قیام کیا۔فیروز کے گھر قیام کے بعد انہوں نے ایک بار پھر بالائے زمین ورکروں سے علاقے کا جائزہ لینے کےلئے کہا۔ انہوں نے ماڈل ٹاو¿ن سوپور کے جنید احمد شوشہ اور سید عمران کو اگلے دن (29 مارچ9بجے سے میونسپل آفس کے قریب موجود رہنے کی ہدایت کی۔ دوسرے دن شاکر نے سیکورٹی چیک پوائنٹس سے بچنے کےلئے مدثر پنڈت عرف معاذ اور غیر ملکی جنگجو اسرار کو اپنی موٹر سائیکل پر اندرونی راستوں سے لیا ۔ وہ حملہ کی جگہ تک پہنچ گئے جہاںگذشتہ رات کی ہدایت کے مطابق دیگر بالائے زمین ورکر انکا انتظار کررہے تھے۔کمپلیکس میں داخل ہونے سے قبل مدثر پنڈت نے جنید اور عمران کو اندر جانے اور پولیس و کونسلروںسے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کو کہا۔ تقریبا 12.48 منٹ پر جنگجوﺅں نے کمپلیکس کے اندر جاکر پولیس اور کونسلروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کونسلر ریاض احمد پیر اور ایس پی او شفقت احمد کی موقع پر ہی موت ہوگئی اور شدید زخمی ہونے والے کونسلر شمس دین پیر نے دم توڑ دیا۔ اس کے بعد وہ شاکر کی موٹر سائیکل پر سوار ہوئے اور داخلی سڑکیں استعمال کرتے ہوئے سید پورہ باغات میں فرار ہوگئے۔ 
 

ٹنگمرگ میں تلاشیاں

مشتاق الحسن
 
 ٹنگمرگ// ٹنگمرگ میں دو دیہات کا محاصرہ کیا گیا۔بٹہ پورہ ٹنگمرگ اور گویئگام کنزر میں تلاشیاں لی گئیں۔29آر آر ، سی آر پی ایف اور پولیس ٹاسک فورس نے ٹنگمرگ کے کوہلار بٹہ پورہ کو محاصرہ میں لے لیکر گھر گھر تلاشیاں لیں ادھر 2آرآر، ایس اوجی کنزر اور 176بٹالین سی آر پی ایف نے گویئگام کنزر کو محاصرے میں لیکر جنگجو مخالف آپریشن کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج کو اطلاع ملی تھی کوہلار بٹہ پورہ اور گویئگام کنزر میں جنگجو چھپے بیٹھے ہیں تاہم محاصرے کے دران فوج کو کچھ ہاتھ نہ لگا جس کے بعد دونوں جگہوں سے محاصرہ ہٹایا گیا۔
 

شوپیاں میں انٹرنیٹ بدستور بند

شاہد ٹاک
 
شوپیان// ضلع شوپیان میںسنیچر تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔ جبکہ ضلع پلوامہ میں انٹرنیٹ سروس جمعہ کی شام بحال کی گئی۔ سنیچر کو تیسرے روز بھی کاروباری ادارے بند رہے اور روز مرہ کی سرگرمیاں متاثر رہیں۔واضح رہے کہ جمعرات کو جان محلہ میں ایک مقامی مسجد میں فورسز اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے مابین دو روز تک جاری رہنے والے تصادم میں انصار غزوت الہند سے وابستہ 5جنگجو جاں بحق ہو گئے تھے جن میں تین کا تعلق ضلع شوپیان سے اور دو کا تعلق ضلع پلوامہ سے تھا۔انکاﺅنٹر میں فوج کے ایک میجر سمیت پانچ اہلکار بھی زخمی ہو گئے تھے۔
 

تازہ ترین