تازہ ترین

اَدھورے سپنے

کہانی

تاریخ    11 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


بشیر اطہر
لعل الدین میرے گاؤں کا ایک نہایت ہی شریف اور ایماندار شخص تھا اس کے من میں ایمانداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ پیشے سے مزدور تھا اورجس کسی کے پاس بھی مزدوری کرنے جاتا اپنا کام خوش اصلوبی سے انجام دیتا تھا۔ اس کے تین بچے تھے ایک بیٹا شوکت اور دو بیٹیاں ہُمیرا اور سویٹی۔۔ ۔۔ لعل الدین بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا۔ اسی لئے وہ دن میں مزدوری کرتا تھا اور رات کو قریب میں واقع ایک فیکٹری میں چوکیداری کا کام کرتا تھا۔ جب وہ صبح مزدوری کےلئے نکلتا تھا تو مجھے بِلُو کہہ کر پکارتا تھا اور جب تک نہ میں بھی اس کو دیکھتا تھا سکون نہیں ملتا تھا، اس لئے میں روز صبح گھر کے مرکزی دروازے پر اس کے آنے کے انتظار میں رہتا تھا۔۔۔۔۔اتوار کا دن تھا لعل الدین کو تین روز دیکھے ہوگئے تھے۔ اسکول میں چھٹی تھی وقت کو غنیمت سمجھ کر میں اس کے گھر اس کی طبیعت معلوم کرنے گیا اور دیکھا کہ لعل الدین ایک پرانی اور پھٹی ہوئی چارپائی پر کھانس رہا تھا۔۔۔۔۔ 
السلام علیکم ۔۔۔۔میں نے سلام کیا۔ 
لعل الدین نے سلام کا جواب دینے کی کوشش کی مگر نہیں دے سکا۔ 
اس کا بیٹا شوکت اس کے سرہانے بیٹھا تھا اور چارپائی کے ایک طرف ہمیرا اور سویٹی اسکول کا کام کرنے میں محو تھیں اور معصومیت سے ایک دوسرے کو طعنے دے رہی تھیں جو میں سن رہا تھا۔ 
میں نے لعل الدین سے پوچھا خیر ہی تو ہے؟ 
لعل الدین نے بڑی مشکل سے گلے کو صاف کرکے دھیمی آواز میں کہا کہ تین روز سے بخار ہے اور تھوڑی سی کھانسی بھی آرہی ہے ۔ میں نے دوائی کھائی مگر تکلیف میں فرق نہیں آرہا ہے
کہاں سے دوائی لائی؟ 
لعل الدین نے کھانس کر جواب دینے کی کوشش کی کہ شوکت نے اس کی بات کو فوراً کاٹ کر کہا۔ ڈاکٹربنسل کے ہاں۔۔ 
بنسل میرے گاؤں کا ضعیف العمر کمپاونڈ تھا اور اس کو میرے گاؤں کے لوگ ڈاکٹر بنسل کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ ہر بیماری کا علاج کچھ ہی ادویات سے کرتا تھا۔
غرض انہوں نے لعل الدین کا علاج بھی انہی ادویات سے کیا تھا۔ 
میں نے شوکت سے کہا کہ ہم اس کو پاس والے گاؤں میں لے جائیں گے، جہاں ایک اچھا ڈاکٹر رہتا تھا۔ ہم نے لعل الدین کو بڑی مشکل سے کمرے سے باہر نکالا مگر اس کی ہمت نے جواب دیا۔ہم دونوں نے اس کو واپس کمرے میں لے جاکر چارپائی پر سلا دیا۔ہمیرا اور سویٹی کو اس پر نظر رکھنے کو کہااور فوراً دوسرے والے گاؤں کی طرف نکل گئے۔ ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہی ہم نے اس کو ساری جانکاری دےدی۔ وہ فوراً تیار ہوگیا اور چمڑے کا بیگ میرے ہاتھوں میں تھما دیا۔ 
ڈاکٹر نے ایک پرانی ایمبسڈر گاڑی نکال کر ہمیں پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا۔مجھے لگا کہ شاید وہ گاڑی اس کو پردادا سے میراث میں ملی تھی مگر رفتار تو اچھی تھی۔ 
لعل الدین کے پاس پہنچتے ہی اس نے کہا۔۔۔ او۔ نو،،،،، اس نے لعل الدین کا ملاحظہ اس طرح کیا کہ لعل الدین کا دم گھٹنے لگا۔ 
منہ کھولو، ،،،ہاں زور سے، کھانس لو، سینے سے کپڑا ہٹا لو، زور زور سے سانس لے لو،،،،، 
لعل الدین نے یہ سب کرنے کی کوشش کی مگر نہیں کرسکا۔ 
ڈاکٹر نے ملاحظہ کرنے کے بعد ایک آہ بھر لی اور ہم سے پوچھا کتنے وقت سے بیمار ہیں؟ 
تین روز سے شوکت نے کہا۔ 
نہیں زیادہ وقت ہوا ہوگا، اس نے کہا اور بعد میں ایک پرچی نکال کر اس پر دوائی لکھی اور دوائی اپنے بیگ سے ہی نکال کر شوکت کو دے کر کہا اڈھائی ہزار ہوگئے۔ 
شوکت اٹھ کھڑے ہوکر چارپائی کے سرہانےگیااور ایک کیل پر سے اپنے باپ کے پھٹے پرانےکوٹ کو اتار کر پوری طرح چھان لیا اور کچھ پیسے نکال کر گننے لگا۔
ڈاکٹر صاحب تین سو ہی ہیں۔ 
ڈاکٹر صاحب نے میرے ہاتھوں سے دوائی لے لی اور غصے سے کئی کیپسول تھما کر کچھ بڑبڑانے لگا۔بڑے آئے بیمار کا علاج کروانے،جب علاج کےلئے پیسے نہیں تھے تو مجھے کیوں بلایا؟ اور بیگ کو پھر سے مجھے تھما دیا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ 
میں نے شوکت کو لعل الدین کے پاس ہی رکھا اور خود اس ڈاکٹر کے ساتھ نکل گیا۔ گاڑی کے پاس پہنچتے ہی میں نے ہمت سے کام لیا اور ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ایک بات پوچھوں۔
اس نے بڑے خوفناک لہجے میں کہا ہاں پوچھ لو کیا پوچھنا ہے۔
لعل الدین کتنے دنوں میں ٹھیک ہوگا؟ میں نے پوچھا۔
کبھی نہیں۔۔۔۔
کبھی نہیں! کیا مطلب؟ 
ہاں لعل الدین اب کچھ ہی دنوں کا مہمان ہے اور دوائی کام نہیں کرے گی کیوں کہ اس کو کینسر ہوا ہے۔ 
یہ سن کر میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی اور میں دم بخود ہوگیا۔ڈاکٹر چلا گیا اور مجھے لعل الدین کی بات، جو وہ مجھے ہمیشہ بتاتا تھا، یاد آ گئی کہ میں شوکت کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔
اب چونکہ لعل الدین اس گھر کا کمانے والا واحد شخص تھا اور اب یہ ذمہ داری شوکت کے کندھوں پر آگئی اور وہ پڑھائی کو ادھورا چھوڑ کر اب مستری کی دکان پر کام کرنے لگا۔
دو مہینے بعد رات کو میں نے رونے کی آوازیں سنیں۔ میں نے بستر سے اٹھ کر کھڑکی سے باہر دیکھ کر لعل الدین کے گھر کی طرف جارہے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ 
لعل الدین مرگیا۔کسی نے کہا 
میں بھی دوڑتے دوڑتے وہاں پہنچ گیا اور لعل الدین کی لاش دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے سے کہہ رہا تھا کہ بِلُّو میں شوکت کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اور شوکت رو رو کر کہہ رہا تھا کہ۔ 
بابا آپ پھر آنکھیں کھولو بابا۔تمہارا مجھے ڈاکٹر بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا بابا۔۔۔۔۔۔
 
���
خان پورہ کھاگ،بڈگام
موبائل نمبر؛7006259067