تازہ ترین

ملکی سطح پر پانچ برسوں میں ریشم کی پیداوار میں 35 فیصد کا اضافہ :سمرتی ایرانی

نیشنل انسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی میں تکنیکی ٹیکسٹائل کانیا کورس متعارف کرانے کا اعلان

تاریخ    10 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر// مرکزی وزیر پارچہ جات (ٹیکسٹائل) نے سرینگر کے نیشنل انسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی میں تکنیکی ٹیکسٹائل سے متعلق نیا کورس متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت آئندہ دو سالوں میں ریشم کی پیداوار میں مکمل طور پر خود کفیل ہوجائے گا۔ایس کے آئی سی سی میں انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹکنالوجی کے زیر اہتمام 2020 کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ٹیکسٹائل وزیر سمرتی ایرانی نے کہا کہ جو طلباء اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں انہیں جموں وکشمیر صنعتی پالیسی کو اچھی طرح سے دیکھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا’’چیلنج یہ ہے کہ اس کیمپس (سری نگر کیمپس) اور ملک بھر میں ان لوگوں کے پاس تکنیکی ٹیکسٹائل کے لئے تن دہی سے کام کرنے والی خصوصی ٹیم نہیں ہے،اور مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ سری نگر سمیت کچھ کیمپس میں نیشنل انسٹی چیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی،ٹیکنیکل ٹیکسٹائل کے بارے میں کورسز ہوں گے۔سمرتی یرانی نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ پانچ سالوں میں ریشم کی پیداوار میں 35 فیصد کا اضافہ دیکھا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم آئندہ دو سالوں میں ریشم کی  پیدوار میں مکمل طور پر خود کفیل ہونے کی پوزیشن پر ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ فی الحال ہم چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں اور دو سال بعد ہم مکمل طور پر خود کفیل ہوں گے اور کسی بھی ملک پر انحصار نہیں کریں گے۔‘‘ مرکزی وزیر نے کہا کہ خام مال کے لئے ہندوستان بھی دنیا کا سب سے پہلے جوٹ بنانے والا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم صرف ریشم کے شعبے میں روزگار پیدا کرنے کے بارے میں بات کریں تو ہم نے روزگار کے مواقع میں 20 فیصد اضافہ دیکھا ہے۔ ایرانی نے کہا کہ پچھلے تین سے چار سالوں میں ٹیکسٹائل کی وزارت تکنیکی ٹیکسٹائل پر توجہ مرکوز کرتی رہی ہے ، جس سے راکٹ کے اجزاء ، بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر متعلقہ چیزیں تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا’’حکومت کے حالیہ بجٹ کے مطابق تقریبا 3 3 لاکھ کروڑ روپئے کا سرمایہ خرچ کرنے کے امکانات موجود ہیں اور جن میں ٹیکسٹائل کے تکنیکی ڈیزائنرز کے پاس بہت بڑی گھریلو مارکیٹ ہے ‘‘۔

تازہ ترین