تازہ ترین

انتخابی جنگ میں عوامی مسائل نظر انداز

لمحہ فکریہ

تاریخ    10 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
 ملک کی چار اہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ میں اسمبلی انتخابات کی مہم کا فی زوروں پر چلی۔ سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ رائے دہندوں کو لبھانے اور للچانے کے لئے جو ترغیبات دی گئی اس کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔ کسی سیاسی پارٹی نے خاتون رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کر نے کے لئے بر سر اقتدار آنے پرواشنگ مشین دینے کا وعدہ کیاتو کسی دوسری پارٹی نے ضعیفوں کے وظیفہ کو بڑھانے کا تیقن دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کے آ تے ہی وعدوں کی بارش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر الیکشن کے موقع پر وعدوں کی سوغات لے کر رائے دہندوں کے درمیان آنا اور الیکشن کے بعد ان وعدوں کو بڑی بے التفاتی سے بُھلا دینا ہمارے سیاستدانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد جہاں عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں انحطاط آتا گیا وہیں ملک کے انتخابی نظام میں بھی کئی کمزرویوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وقفے وقفے سے الیکشن کے انعقاد کا مقصد جمہوریت کی جڑوں کو ملک میں مضبوط کر نا تھا تا کہ طویل مدت تک کسی پارٹی کے ہاتھوں میں اقتدار نہ رہے۔ ہر پانچ سال میں رائے دہندوں کو اپنی پسند کی حکومت بنانے کا موقع دیا گیا۔ لیکن آج ووٹ برائے نوٹ کی صورتِ حال نے پورے جمہوری عمل کی شفافیت پر ہی سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی محض ایک سراب بن کر رہ گئے۔ حالیہ الیکشن کے دوران آسام میں جس انداز سے انتخابی دھندلیاں ہوئیں اس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ بی جے پی کسی بھی طرح اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے۔ ای وی ایم مشینوں کا بی جے پی امیدوار کی کار سے منتقلی کا معاملہ ہو یا پھر ایک پولنگ بوتھ پر جملہ 90ووٹ ہوں لیکن وہاں 181ووٹ ڈالے گئے ہوں ، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ الیکشن محض ایک تماشا بن کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری عمل پر سے رائے دہندوں کا اعتماد بھی اٹھتا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کی شکایات ہر الیکشن میں ہوتی ہے۔ لیکن ہمیشہ الیکشن کمیشن اس بارے میں اپنی صفائی دیتا رہا ہے۔ لیکن اگر ووٹنگ مشین کسی امیدوار کی گاڑی سے پکڑے جائیں تواس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ الیکشن کمیشن ، جو ایک دستوری ادارہ ہے اور جس کی اولین ذمہ داری ملک میں صاف اور شفاف الیکشن منعقد کر نا ہو اگر وہ خود اس معاملے میں غفلت بر تے تو ملک کی جمہوریت دنیا کی نظر میں ایک مذاق بن کر رہ جائے گی۔ موجودہ مرکزی حکومت نے جس طرح ملک کے دیگر قانونی اور دستوری اداروں کو یر غمال بنا کر اپنی گرفت میں رکھ لیا ہے اسی طرح الیکشن کمیشن کو اپنے ماتحت کر لیا ہے۔ یہ رجحان آنے والے دنوں میں جمہوریت کی بر قراری اور اس کے استحکام کے لئے بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ یوں بھی اب پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ کے انتخابات میں دھونس اور دھن عام ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں آز ادانہ اور منصفانہ انتخابات کی بات ایک قصہء پارینہ بنتی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنے مفوضہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی بر تے گا توالیکشن بے معنی ہوتے جائیں گے۔ انتخا بات ، ملک کی جمہوریت کو پھلے پھولنے کا موقع دیتے ہیں لیکن اگر انتخابات پاک و صاف اور غیرجابندار انداز میں نہ ہوں تو اس کا اثر ملک کے پورے جمہوری اداروں پر پڑتا ہے۔ صاف اور شفاف الیکشن کے لئے انتخابی اصلاحات لانے کی باتیں بھی ہو تی رہیں لیکن کوئی سیاسی پارٹی دیانتداری کے ساتھ اس معاملے میں آ گے نہیں آ ئی۔ اس کے لئے پارلیمنٹ میں قوانین بھی بنائے گئے لیکن جب ان قوانین پر عمل درآمد کی بات آئی تو ہر سیاسی پارٹی نے اپنا پلّہ جھاڑ لیا۔
     ہندوستان کی آزادی کے 72سال بعد بھی انتخابی اصلاحات کا عمل پورا نہ ہوسک۔مختلف کمیٹیاں اور کمیشن انتخابی اصلاحات کے لئے بنائی گئیں ۔ لیکن سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کوئی مثبت اور حوصلہ افزاء ردّعمل سامنے نہ آ نے کی وجہ سے پورا جمہوری نظام دن بہ دن آلودہ ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور اس کے قائدین انتخابات کے مو قع پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال کر اپنی سیاسی روٹیاں سینک لیتی ہیں۔ عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا جا تا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہی دیکھنے میں آ یا۔ آج ایک طرف سارا ملک کوویڈ کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہے۔ ہر دن کوویڈ سے مرنے والوں کی تعداد بڑ ھتی جا رہی ہے۔ ملک کی بعض ریاستوں میں اس وباء سے بچنے کے لئے لاک ڈاؤن بھی کر دیا گیا۔ جو لوگ اس وباء کا شکار ہوئے ہیں ان کی پریشانی تو نا قابلِ بیان ہے لیکن جو لوگ کوویڈ کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے ہیں ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ایک سال کے زائد عرصہ سے عوام اس نا گہانی مصیبت کو جھیل رہے ہیں۔ حکومت ان کی کیا مدد کر رہی ہے۔ وقتی طور پر چند ہمدرددی کے جملے ددہرا دینے سے کیا عوام کی مشکلات دور ہوں گی۔ سیاسی پارٹیاں ، اقتدار پر آ نے کے لئے بڑی بڑی ریلیاں منعقد کر رہی ہیں۔ عوام کو پیسے دے کر جمع کیا جارہا ہے۔ وو لوگ جوفا قہ کشی میں مبتلا ہیں ان کو حکومت کوئی امداد نہیں دے رہی ہے۔ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ملک کے وزیراعظم ہر دن انتخابی مہم میں مصروف ہیں لیکن جن لوگوں نے انہیں ووٹ دے کر ملک کا وزیراعظم بنایا ہے ان کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔ وہ مغربی بنگال میں جا کر بنگال کو ترقی دینے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن جو وعدے انہوں نے 2014  کے اور پھر2019 کے الیکشن میں کئے تھے وہ ابھی دھرے کے دھرے ہوئے ہیں۔ کہاں گئے وہ پندرہ لاکھ  روپئے جو بی جے پی حکومت ہر غریب کے کھاتے میں ڈالنے کا وعدہ کی تھی۔ ہر سال دو کڑور نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ محض ایک جملہ بن کر رہ گیا۔ بنگال میں ممتا بنرجی کے ہاتھوں سے اقتدار چھیننے کے لئے بے چین وزیراعظم آخر کب تک ملک کی عوام کو اپنی جملہ بازیوں سے گمراہ کر تے رہیں گے۔ سات سال کے دورِ حکمرانی میں بی جے پی نے قوم اور ملک کا کیا بھلا کیا اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہر ذ مہ دار شہری کا فرض ہے۔ ان سات سالوں کے دوران ترقی کا پہیہ پوری طرح سے رُک گیا۔ زندگی کے کسی شعبہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ ملک کا کوئی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہ رہا۔ ہر طرف نفرت کا پرچار ہوتا رہا۔ ملک کے مخصوص طبقوں کو پریشان کرنے کا سارا سامان کیا گیا۔ سیاسی مفاد کے خاطر سماجی انتشار کو دانستہ طور پر ہوا دی گئی۔ یوپی کے چیف منسٹر سے لے کر بی جے پی کے دوسرے لیڈروں نے وہ زہر گھولا کہ آج ہندوستان میں اقلیتوں کا جینا دوبھر ہوگیا۔ ان تمام کارستانیوں کے بعد بھی بی جے پی، مغربی بنگال، آ سام ، تامل ناڈو، اور کیرالا کے ساتھ پڈوچیری میں حکومت بنانے کا خواب دیکھتی ہے تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا اس کو اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے۔ مودی حکومت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتخابی مہم کے دوران ببانگ دہل اعلان کر دیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنے گی تو شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) نافذ کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ این آر سی بھی کرایا جائے گا۔ بنگال کی ترقی اور بنگالی عوام کی راحت دینے کی کوئی بات تو نہیں کہی گئی لیکن اشتعال پیدا کر نے کے لئے ان متنازعہ موضوعات کو چھیڑ دیا گیا۔ آ سام میں بی جے پی کے ہر بڑے چھوٹے لیڈر نے وہاں کے معروف سیاستدان بدر الدین اجمل کا خوف دلا کر ہندو ووٹوں کو حاصل کر نے کی پوری کوشش کی۔ بدرالدین اجمل نے ایسا کیا کردیا کہ بی جے پی کی پوری مہم ان کے نام پر چلتی رہی۔ یہ بھی ووٹ حاصل کرنے کا آ سان طریقہ ہے کہ کسی سیاسی لیڈر کو بدنام کر دیا جائے۔
      دیگر ریاستوں میں بھی بی جے پی نے اپنی جارحانہ انتخابی مہم کے ذریعہ ووٹوں کو بٹورنے کی پوری کو شش کی۔ کیرالہ، جہاں بی جے پی اپنے قدم نہیں جما سکی، حالیہ انتخابات میں یہاں بھی فرقہ وارانہ کارڈ کھیلا گیا۔ عیسائیوں اور ہندوؤں کے درمیان کشیدگی پید ا کرنے کا کوئی مو قع نہیںچھوڑا گیا۔ کانگریس نے انڈین یونین مسلم لیگ سے انتخابی مفاہمت کی تو اس کے سیکولرازم پر سوال اٹھایا گیا۔ تامل ناڈو میں ڈی ایم کے کو آنے سے روکنے کی اصل وجہ یہی ہے کہ یہ پارٹی ہندوتوا کے خلاف ایک چٹان بن کر کھڑی ہو ئی ہے۔ چاروں ریاستوں میں بی جے پی نے جو مہم اس مرتبہ چلائی ہے اس میں کہیں پر بھی یہ نہیں نظر آ تا ہے کہ اسے ملک کے حقیقی مسائل سے کوئی دلچسپی ہے۔ عوام کے گھمبیر مسائل کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔ ملک کے کسان گزشتہ چار مہینوں سے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ کسانوں نے کڑاکے کی سردی میں اور گرما کی چلچلاتی دھوپ میں ان ظالمانہ قوانین کے خلاف احتجاج کیا لیکن ایک جمہوری حکومت کے کانوں میں اب شاید جوں بھی نہیں رینگ رہی ہے۔ یہ حکومت کسانوں کے معاملے میں انتہائی غیر انسانی رویہ اختیار کی ہوئی ہے۔ عددی طاقت کی بنیاد پر تین زرعی قوانین منظور کرلیئے گئے، جب کی کسان یہ کہہ رہے ہیں اس قسم کی قانون سازی ان کے حق میں موت کا پروانہ ثابت ہو گی۔ جمہوریت کا تقاضا تھا کہ حکومت کسانوں کے مسائل کو پوری غیرجا نبداری کے ساتھ سنتی اور اس کا کوئی حل نکالتی، اس کے بر عکس حکومت نے اپنی من مانی کر تے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہندوستان میں اب جمہوریت نہیں بلکہ مطلق العنانی کا دور چل رہا ہے۔ یہی وجہ کہ کسانوں کا احتجاج بین الاقوامی نو عیت اختیار کر لیا۔ دنیا کے مختلف ممالک سے کسانوں کی تائید میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ حکومت اسے ملک کا ندورنی معاملہ کہہ کر زیادہ دن تک نہیں ٹال سکتی۔ پوری انتخابی مہم میں ملک کے وزیراعظم نے کسانوں کے مسائل کے تعلق سے کوئی لب کشائی نہیں کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مودی حکومت کسانوں کے بارے میں کتنی عدم دلچسپی کا ثبوت دے رہی ہے۔ اسی طرح دیکھا جائے کہ مہنگائی کس قدر بڑھتی جا رہی ہے۔ دن بہ دن بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ پٹرول سو روپئے لیٹر ہو چکا ہے۔ روزمرہ کی اشیاء مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہیں،غریب تو غریب، اوسط درجہ کے آمدنی رکھنے والوں کا بھی گذاراہ دو بھر ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن سیاسی پارٹیوں کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ کوئی حکومت بچانے کی فکر میں لگا ہوا ہے اور کوئی دوسروں سے حکومت چھین کر اپنی حکومت بنانے کے لئے جان توڑ کوشش کر رہا ہے۔ اس سارے ہنگامے میں عام آدمی کی پریشانیاں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔بی جے پی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ایسے مسائل چھیڑ رہی ہے جس سے عوام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہزاروں لوگ کوویڈ کی وجہ سے بدحال ہیں اور آنے والے دنوں میںحالات اور بد تر ہو سکتے ہیں، حکومت کی ذ مہ داری ہے کہ وہ ملک کی عوام کو اس عذاب سے نکالنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے، ملک میں لاک ڈاؤن کر دینا اس کا علاج نہیں ہے۔ عوام کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور انہیں پورا کرنے کی حتی المقدور کو شش کرنا حکومت کا اولین فرض ہے۔ انتخابات کا ایک بڑا مر حلہ طے ہوچکا ہے۔ کس کی حکومت کہاں بنے گی یہ سوچے بغیر وزیراعظم کو اہم فیصلے کرتے ہوئے عوام کی راحت رسانی کے بارے میں فکرمند ہونا ضروری ہے۔ اس وقت ہندوستان انتہائی نازک دور سے گذر رہا ہے۔ ملک ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران کا شکار ہورہا ہے۔ جمہوری نظام ہچکولے کھا رہا ہے ایسے میں عوامی مسائل کے بجائے اپنے اپنے مفادات کو بنیاد بناکر الیکشن لڑا جائے تو یہ ملک کے جمہوری نظام کے لئے کوئی بہتر علامت نہیں ہے ۔