تازہ ترین

میرواعظ عمر فاروق کی خانہ نظربندی باعث اضطراب

ماہ رمضان کے پیش نظر فوری طوررہاکیا جائے:متحدہ مجلس علماء

تاریخ    9 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر//جموںوکشمیر کے سرکردہ علما اور دینی و سماجی تنظیموں کے سربراہوں نے متحدہ مجلس علماء کے سرپرست اعلیٰ میرواعظ عمر فاروق کی خانہ نظربندی پر تشویش کااظہا رکرتے ہوئے جموں وکشمیر کے حکام سے ماہ رمضان کی آمد کے پیش نظران کی فوری رہائی کو یقینی بنانے کی مانگ کی ہے۔ میرواعظ منزل سرینگر پرایک ہنگامی و مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دارالعلوم رحیمیہ کے بانی سربراہ مولانا محمد رحمت اللہ میر القاسمی،انجمن اتحاد المسلمین کے سربراہ مولانا محمد عباس انصاری ، کاروان اسلامی انٹرنیشنل کے سربراہ مولانا غلام رسول حامی،جمعیت اہلحدیث کے مفتی اعظم مفتی محمد یعقوب بابا المدنی،انجمن حمایت الالسلام کے سرپرست اعلیٰ مولانا شوکت حسین کینگ و صدر مولانا خورشید احمد قانونگو، مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام کے نمائندے پروفیسر محمد یاسین کرمانی اور انجمن اوقاف جامع مسجد کے مفتی غلام رسول سامون،انجمن شرعی شیعان کے جنرل سیکریٹری آغا سید مجتبیٰ موجود تھے۔ مقررین نے کہاکہ ’آج کی یہ پریس کانفرنس 3مارچ 2021 کے متحدہ مجلس علما جموںوکشمیر کے اُس اہم اجلاس ،جس میں مجلس کے سرکردہ اور بنیادی اراکین میں سے 40 سے زیادہ مشائخ اور علما نے شرکت کرکے مجلس کے سرپرست اعلی میرواعظ عمر فاروق کی لگاتار نظر بندی کیخلاف اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا ،لیکن افسوس ہے کہ آج 20 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود میرواعظ کو ہنوزبلا جواز خانہ نظر بند رکھا گیا ہے جو حد درجہ قابل تشویش اور باعث اضطراب ہے‘۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ’آج ہم سب بلا امتیاز مسلک و مشرب جموںوکشمیر کے تمام مسلمانوں اور مکتب فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے حکمرانوں سے اپیل اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیر کے سب سے بڑے اور ممتاز دینی رہنما میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق ،جنہیں 4 اگست2019 سے ہی نظر بند رکھا گیا ہے ،پر اپنی گہری فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حکمرانوں کے اس غیر قانونی اورغیر اخلاقی اقدام سے ایک طرف جہاں جموںوکشمیر کے عوام کے دینی اور مذہبی جذبات بری طرح مجروح ہورہے ہیں وہاں دوسری طرف ان اقدام سے کشمیریوں کے سب سے بڑے دینی اور روحانی مرکز تاریخی جامع مسجد کے منبر و محراب قال اللہ و قال الرسول ؐ کی زمزمہ آمیز آوازوں سے خاموش رکھا گیا ہے جو حد درجہ تکلیف دہ، مداخلت فی الدین اور روحانی عذاب کا مظہر ہے‘‘۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ’ہم یہاں یہ بات بھی دہرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس سے قبل نہ صرف متحدہ مجلس علما بلکہ عوام کے مختلف حلقوں اور دینی ،سیاسی اور سماجی تنظیموں، سول سوسائٹی کے اراکین اور معزز شہریوں نے بھی حکام سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ میرواعظ کی نظر بندی ختم کریں تاکہ وہ ملت اور سماج کے تئیں اپنے فرائض انجام دے سکیں‘۔پریس کانفرنس میںکہا گیا کہ آج یعنی  9 اپریل2021 جمعتہ المبارک کے موقعہ پر جموںوکشمیر کے علماء ، ائمہ اور خطیب حضرات نماز جمعہ کے اپنے خطابات اور بیانات میں ماہ رمضا ن کی آمد سے قبل میرواعظ کشمیر کی فوری رہائی کا پُر زور مطالبہ کریں گے۔

تازہ ترین