تازہ ترین

شوپیان قصبہ کی گنجان بستی میں مسلح تصادم| 3جنگجو جاں بحق، آپریشن جاری

۔ 3فوجی زخمی، سرکردہ کمانڈر محصور| علاقے میں تشدد آمیز جھڑپیں، ضلع میں انٹر نیٹ بند

تاریخ    9 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


شاہد ٹاک
شوپیان// پہاڑی ضلع شوپیان ٹائون کی ایک گنجان بستی میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے بعد خونریز معرکہ آرائی ہوئی جس کے دوران ابتدائی فائرنگ  کے تبادلے میں 3جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کے تین اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔ضلع میں جھڑپ شرو ع ہوتے ہی موبائل انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی اور کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان تشدد آمیز جھڑپیں ہوئیں جن میں دو شہریوں کو چوٹیں آئیں۔

مسلح تصادم آرائی

پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں اس بات کی مصدقہ طور پر اطلاع ملی تھی کہ جان محلہ بستی میں 5سے زائد جنگجو موجود ہیں جن میں انصارغزوۃ الہند کا چیف کمانڈر امتیاز احمد بھی شامل ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد 44آر آر اور 14بٹالین سی آر پی ایف کے علاوہ پولیس کے خصوصی دستوں کی خدمات حاصل کی گئیں اور بستی کو دن کے ڈیڑھ بجے محاصرے میں لیا گیا۔بستی کی چاروں طرف سے ناکہ بندی کرنے کے بعد گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا گیا اور سہ پہر3بجکر 45منٹ پر طرفین کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی۔ کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے دوران 3فوجی اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت نازک ہے جنہیں سرینگر بادامی باغ اسپتال منتقل کردیا گیا۔ انکی شناخت سپاہی رام دیو گجر،سپاہی دورگ سنگھ اورسپاہی راجکمار شامل ہیں۔رات کے قریب سوا 8بجے جائے وقوع پر زوردار دھاکوں اور شدید فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا اور پولیس نے اپنے آفیشل ٹیوٹر ہینڈل پر 3جنگجوئوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔پولیس نے ٹویٹ میں کہا ’’ مسلح جھڑپ کے دوران ابھی تک 3جنگجو جاں بحق ہوگئے ہیں اور آپریشن جاری ہے‘‘۔پولیس نے ایک اور ٹویٹ میں کہا’’  انصارغزوۃ الہند کا چیف کمانڈر امتیاز احمد محصور ہے‘‘۔رات سوا آٹھ بجے کے بعد علاقے سے فائرنگ کی کوئی آواز نہیں آئی  اور نہ دھماکوں کی آوازیں سنیں گئیں۔البتہ آپریشن جاری تھا۔سیکورٹی فورسز نے تلاشی کارروائی جاری رکھی اور علاقے میں روشنی کا انتظام کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن جمعہ کی صبح تک ملتوی کیا جاسکتا ہے۔دریں اثناء آپریشن شروع ہوتے ہی انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار اورجی او سی وکٹر فورس اونتی پورہ یہاں پہنچ گئے جنہوں نے آپریشن کی نگرانی کی۔

پر تشدد جھڑپیں

جانہ محلہ بستی میں جونہی مسلح معرکہ آرائی شروع ہوئی تو اسکے ساتھ ہی قصبہ میں کم سے کم 5مقامات پر پر تشدد جھڑپوں کا آغاز ہوا جو رات گیے تک جاری تھیں۔مشتعل نوجوان گول چوک میں نمودار ہوئے اور انہوں نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور آپریشن میں رخنہ ڈالنے کیلئے مظاہرے کئے جنہیں منتشر کرنے کیلئے فورسز نے آنس گیس کے گولے داغے۔ اسکے بعد یہاں پتھرائو اور شلنگ بھی ہوئی۔گول چوک کے علاوہ جامع مسجد کراسنگ، اسپتال روڑ، بٹہ پورہ اور بونہ بازار علاقوں میں بھی رات دیر گئے تک مشتعل نوجوانوں نے جم کر پتھرائو کیا اور فورسز نے نہ سرف شلنگ کی بلکہ پیلٹ کا استعمال بھی کیا۔دو نوجوانوں کو پیلٹ لگے جس سے وہ زخمی ہوئے تاہم کسی بھی زخمی کو ضلع اسپتال نہیں لیا گیا۔یاد رہے کہ اس علاقے میں تین سال قبل 2018 میں اسی طرح کے ایک انکاؤنٹر میں دو عسکریت پسند جاں بحق ہوئے تھے، جن میں غیر ملکی سرکردہ کمانڈر منا بہاری شامل تھا۔