تازہ ترین

صوبہ جموں کے سرمائی زون کے علاقوں میں تعلیم کا حال بے حال، ہچکولے کھا رہا ہے تدریسی نظام

بانہال ڈگری کالج عمارت دوکمروں میں ، کالج عمارت 8برسوں سے زیر تعلیم، 13 سال سے سائنس مضامین متعارف ہی نہیں کئے گئے

تاریخ    9 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال// صوبہ جموں کے سرمائی زون کے علاقوں میں سرکاری تعلیمی ادارے محکمہ تعلیم کی عدم توجہی کا شکار ہیں اور اس سال کا تعلیمی سیشن شروع ہونے کے باوجود جہاں درجنوں ہائیر سیکنڈری سکولوں میں لیکچرار وں اور پرنسپلوں کی اسامیاں خالی ہیں وہیں بارہ سال پہلے قائم کئے گئے ڈگری کالج بانہال کو دو کمروں سے چلایا جارہا ہے جبکہ ڈگری کالج کی بنکوٹ گاوں میں زیر تعمیر عمارت ابھی تک مکمل ہی نہیں کی جاسکی ہے۔ نتیجے کے طور پر ڈگری کالج بانہال کے قیام کے تیرہ سال بعد بھی کالج میں سائنس مضامین متعارف ہی نہیں کئے گئے ہیں ۔کئی والدین اور محکمہ تعلیم کے متعلقین نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ جموں کے سرمائی زون کے علاقے خاص کر وادی چناب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم کا حال برا ہے اور دو دہائیوں سے ٹیچنگ سٹاف ، تعلیمی اداروں کیلئے عمارتوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے غریب بچوں سے بھرے پڑے سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں اور درس و تدریس کا سلسلہ ہچکولے کھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری کالج بانہال کا قیام سنہ 2008 میں لایا گیا ہے اور انیس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جاری ڈگری کالج عمارت پچھلے آٹھ برسوںسے تعمیرات میں ہی پھنس کر رہ گئی ہے اور ڈگری کالج بانہال کو ہائیر سیکنڈری سکول بانہال کے دو کمروں سے چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیرہ سال بعد بھی ڈگری کالج بانہال میں سائنس کے مضامین متعارف ہی نہیں گئے گئے ہیں اور اس سال صرف ساٹھ بچوں کو سائنس مضامین میں ایڈمیشن دیا جارہا ہے جبکہ سائنس مضامین میں داخلہ کے خواہشمند بچوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔انہوں نے کہا ضلع رام بن کی اکیس ہائیر سیکنڈری سکولوں میں لیکچراروں کی 136 اسامیاں اور پرنسپلوں کی پندرہ اسامیاں خالی ہیں لیکن 2019 میں سینکڑوں اساتذہ ترقی پاکر مختلف شعبوں میں 10+2 لیکچرار بنائے گئے ہیں اور بعض کی عمر ریٹائرمنٹ کو پہنچی ہے لیکن کئی لیکچرار کو چھوڑ کر بیشتر لیکچراروں کو تعینات کرنے میں محکمہ تعلیم ابھی تک مکمل طور سے ناکام ہوا ہے۔ بانہال ڈگری کالج کے کام کاج اور ایڈمیشن کے حوالے سے بات کرنے پر پرنسپل ڈگری کالج بانہال ڈاکٹر منوہر لعل نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ڈگری کالج بانہال کی نئی کالج عمارت ابھی تک مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سنہ 2008 میں دیا گیا ڈگری کالج بانہال ابھی بھی ہائر سیکنڈری سکول بانہال کے چند کمروں سے چلا جارہا ہے اور ڈگری کالج کی تعمیراتی ایجنسی جے کے پی سی سی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ کالج کی ایک عمارت کے آخری مراحل کے ضروری کام کو جلد ہی مکمل کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پندرہ اپریل سے ڈگری کالج بانہال اپنی عمارت سے چلنا شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جموں یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں سائینس مضامین میں صرف ساٹھ بچوں کو داخلہ دینے کی ہدایت دی ہے جبکہ سائنس میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے اور اس سلسلے میں سائنس مضامین کے تمام خواہشمند بچوں کو داخلہ دینے کیلئے اعلی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے اور امید ہے کہ اس میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس سٹریم سمیت کالج کے دیگر شعبے چلانے کیلئے ان کے پاس بیشتر سٹاف موجود ہے تاہم کمسٹری، باٹو اور زالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسروں کی اسامیاں ابھی تک خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کالج میں پانچ سو کے قریب طالب علم زیر تعلیم ہیں لیکن مہیا کی گئی دو کالج بسیں ناقابل استعمال ہوکر رہ گئی ہیں اور اس سلسلے میں بھی ایک بس کو قابل استعمال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دور علاقوں سے کالج آنے والے بچوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تازہ ترین