تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    9 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

اسلام میں بنائو سنگھار اور زیب و زینت کی اجازت مگر اعتدال لازمی

بالوں کی ٹرانسپلانٹیشن، رنگ چڑھانے اور آرائش کا جدید رجحان۔ مسائل اور ان کی توضیح

سوال: شریعت اسلامی کا امتیاز احکام میں اعتدال کا ہے۔ وہ فطرت کی پوری رعایت بھی کرتا ہے اور ایک حد تک انسان کو اپنے طبعی جذبات کو پوری کرنے کی اجازت دیتا ہے، مگر وہ ایسے غلو اور افراط کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اخلاقی حدیں پامال ہو جائیں یعنی انسان اسراف میں مبتلا ہو جائے اور جو چیزیں انسانی زندگی کے لئے ضروری نہیں ہیں، ان کو ضرورت کا درجہ دینے لگے، یہی راہ اعتدال جو انسان کو افراط و تفریط سے بچائے رکھے، شریعت اسلامی کا اصل مزاج ہے اور تزئین و آرائش کے باب میں بھی اس نے اسی راہ پر چلنے کی تلقین کی ہے۔
آج کل ایک طرف گنجے پن کا مرض بہت پیدا ہو رہا ہے ا ور اسی کے ساتھ لوگوں میں فیشن اور زینت کا شوق بھی بہت زیادہ بڑھ رہا ہے اس لئے موجودہ زمانے میں بالوں کی افزائش و زیبائش سے متعلق بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں جن کا شرعی جواب معلوم ہونا ضروری ہے۔ لہذا اس سلسلے میں چند سوالات پیش کئے جاتے ہیں۔ سوالات یہ ہیں:
(۱) اگر کسی کے سر کے بال جھڑ گئے ہوں تو سر پر بالوں کی افزائش علاج و معالجہ میں داخل ہے یا زینت میں؟
اس میں مرد و عورت کے احکام مختلف ہوں گے یا یکساں ہوں گے؟
زینت اور علاج کے اعتبار سے حکم میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں؟
(۲) بالوں کی افزائش کے لئے ٹرانسپلانٹ آپریشن (سرجری) کرانا جائز ہے یا نہیں؟
اپنے بدن میں کسی دوسرے انسان کے بال کی افزائش کی اجازت ہوگی یا نہیں؟
حیوانی بال سے انسانی جسم میں افزائش کا کیا حکم ہے؟
سرجری کے علاوہ دیگر طریقوں سے انسانی یا حیوانی بالوں کو عارضی یا مستقل طور پر چپکانے کا کیا حکم ہوگا؟
بالوں کی افزائش کے بعد وضو اور غسل کا حکم متاثر ہوگا یا نہیں؟
(۳) مرد و عورت کے وضو اور غسل کے احکام افزائش کے بعد ایک ہوں گے یا جدا گانہ؟
عارضی اور مستقل اور آسانی اور مشقت سے علاحدہ ہونے اور نہ ہونے سے حکم میں کچھ فرق پڑے گا یا نہیں؟
حرج اور مشقت کی تعیین کس طرح سے کی جائے گی، اس کا معیار کیا ہوگا؟
(۴) آج کل بہت سے نوجوان سر کے بالوں کی عجیب و غریب ڈیزائن میں کاٹ چھانٹ کرتے ہیں اور ان کو سنہرے اور دیگر رنگوں سے رنگین کرتے ہیں تو مردوں کے لئے چھوٹے بڑے بال رکھنا اور ان کو باقاعدہ رنگین کرانے کا شرعا کیا حکم ہے؟ اس طرح کے بال رکھنے والوں کے وضو ، غسل اور نماز کا شرعاً کیا حکم ہے؟
شفقت احمد، سرینگر
جواب:
تمام سوالوں کے جوابات درج ہیں:
۱۔ اللہ جل شانہٗ نے انسانی جسم میں حسن و جمال کے مختلف مظاہر رکھے ہیں، ان میں بال بھی ایک اہم مظہر ہیں۔ اسی لئے زیب و زینت اور بناؤ سنگھار کے سلسلے میں بالوں کی بڑی اہمیت ہے بالوں کے قسم قسم کے فیشن اسی کا اظہار ہیں، جو آج کل زیادہ ہی بڑھ چکا ہے۔ بال زینت کا ایک اہم ذریعہ ہے اور انسان فطری طور پر اس کا خواہش مند ہوتا ہے۔
اس لئے اگر کوئی انسان گنجے پن کا شکار ہو جائے تو یہ ایک عیب اور شر مندگی کی چیز ہے۔ وہ شخص عموماً ایک احساس محرومی کا شکار رہتا ہے جس کے سر کے بال گر گئے ہوں، لہذا اس عیب اور خرابی کو دور کرنے کے لئے بالوں کی افزائش کی ہر جائز اور مناسب تدبیر اختیار کرنا شریعت اسلامیہ کی رُو سے درست ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔ ترجمہ : (یا رسول اللہ) فرما دیجئے اللہ نے زیب و زینت کی جو چیزیں اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں ان کو کون حرام کر سکتا ہے۔ سورہ اعراف۔
بالوں کے لئے سجاوٹ اور افزائش کی اجازت مردوں کو بھی ہے اور عورتوں کو بھی۔ اس لئے کہ وہ زیب و زینت، جس کے نہ ہونے سے انسان عیب دار قرار پائے مطلوب ہے اور وہ اسی طرح جائز ہے جیسے علاج معالجہ جائز ہے۔
۲۔ بالوں کے افزائش کے لئے ہر مناسب اور مفید تدبیر اختیار کرنا شرعاََ جائز اور درست ہے۔ اور یہ اجازت اس لئے ہے کہ بالوں کے نہ ہونے کی بنا پر کچھ لوگ حقارت اور اہانت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس احساس سے پژمردہ اور افسردہ رہتے ہیں۔ اس افسردگی کو ختم کرنے اور لوگوں کی طنز آمیز نظروں سے تحفظ کے لئے شرعاََ بالوں کو جیسے سجانے سنوارنے کی اجازت ہے،ایسے ہی افزائش کی بھی اجازت ہے۔ مگر یہ سب کچھ شرعی حدود میں ہی ہونا ضروری ہے۔ شرعی حدود میں یہ بھی ہیں کہ انسانی بال اس غرض کے لئے استعمال کرنا حدیث کی رُو سے منع ہے۔ اس لئے انسانی بال اپنے بالوں کے ساتھ جوڑنا، ملانا، جمانا یا کھال میں گاڑ دینا درست نہیں ہے۔ اسی طرح خنزیر کے بال بھی چونکہ نجس ہوتے ہیں اس لئے وہ بھی استعمال نہیں کر سکتے ۔ ہاں دوسرے جانوروں مثلا گھوڑے، بکری وغیرہ کے بال استعمال کرنا درست ہے۔
یہ بال عارضی طور پر جوڑے جائیں یا مستقل طور پر کھال میں چپکا دئے جائیں اس میں کوئی قید نہیں۔ یعنی دونوں طریقے جائز ہیں۔
۳۔ اگر سر پر بال اسی طرح جما دیئے گئے کہ وہ آسانی سے سر سے جدا نہ ہو سکیں تو پھر وہ بال مستقل طور پر سر کا حصہ قرار پائیں گے۔ پھر وضو کرتے ہوئے ان بالوں پر مسح کرنا کافی ہوگا اور غسل میں ان پر پانی بہانا بھی شرعا غسل ہو جانے کے لئے کافی ہے۔ جس طرح فطری بالوں پر مسح کرنا اور غسل میں ان پر پانی بہانا ضروری ہے اسی طرح ان مصنوعی بالوں کا حکم بھی ہے۔ اور اگر ان بالوں کو آسانی کے ساتھ سر سے جدا کرنا ممکن ہو تو پھران بالوں کا حکم ٹوپی کا حکم ہوگا۔ یعنی وضو میں جب مسح کرنا ہو تو بالوں کو جدا کر کے مسح کیا جائے اور پھر سر کی کھال پر مسح کیا جائے اور غسل میں ان بالوں کو سر سے جدا کر کے سر کو دھویا جائے تاکہ غسل مکمل ہو۔ پھر ان بالوں کو بھی پانی سے دھو لیا جائے چاہے صرف ایک مرتبہ ہی اچھی طرح ان کو تر کرنے پر اکتفا کیا جائے مگر سر سے الگ کرنا ضروری ہے۔
۴۔ آج کے عہد میں بالوں میں جو قسم قسم کے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ سر کے نچلے حصے میں تینوں طرف سے بال بہت کم یا سرے سے مونڈھ دئے جائیں اور سر کے ا وپر کے بالوں کو جوں کا توں چھوڑ دیا جائے۔ شریعت اسلامیہ میں یہ فیشن سراسر غیر اسلامی ہے۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کی یہ شکل منع فرما دی ہے جس میں سر کے کچھ حصے کے بال صاف کر دئے جائیں اور کچھ حصے کے بال باقی رکھے جائیں۔ آج کا فیشن جو بہت سے نوجوان اپنا رہے ہیں یہی ہے۔
بالوں کو اس طرح رکھنا حدیث قزع کہلاتا ہے اور اس کو حدیث میں منع کر دیا گیا۔ یہ حدیث مسلم، نسائی، مسند احمد ، ابو داؤد اور بخاری میں ہے۔
اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام میں دیگر اقوام کے مخصوص شعائر اختیار کر نا جیسے منع ہے۔ اسی طرح فساق و فجار کی مشابہت اختیار کرنا بھی منع ہے۔ غرض کہ یہ آج کے فیشنی بال دو دجہوں سے منع ہیں۔ حدیث کی ممانعت یا غیر اقوام کی مشابہت ۔
اسی طرح سیاہ بالوں کے رنگ کو تبدیل کرنا مثلاً ان کو سنہرا یا براؤن بنانا بھی شریعت میں منع ہے۔کیوں کہ یہ فطری تخلیق میں تغیر کرنا ہے۔
سفید بالوں میں خضاب لگانا تو یقینا جائز ہے۔ مگر سیاہ بالوں کی فطری رنگت کو صرف فیشن کی بنا پر کسی دوسرے رنگ سے رنگین کرنا یقینا غیر اسلامی ہے۔ سفید بالوں میں مہندی یا زعفران یا کوئی اور رنگ سوائے سیاہ رنگ کے لگانا درست ہے۔
دراصل اسلام میں بناؤ سنگھار اور زیب و زینت کی اجازت ضرور ہے مگر اس کی حدود بھی ہیں، مثلاً وہ زیب و زینت جس میں مرد عورتوں کی مشابہت یا عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کریں اسلام میں درست نہیں۔ اسی طرح وہ زیب و زینت جس میں مسلمانوں کا امتیاز اور تشخص اور شناخت کے تمام نشانات ختم ہو جائیں مسلم غیر مسلم کی تمیز اور فرق مٹ جائے۔ ایسی زیب و زینت کی اسلام میں یقینا اجازت نہیں ہے۔ اسلام میں وسعت بھی ہے ، اعتدال بھی اور حد بندی بھی۔
بالوں میں کوئی رنگ لگایا جائے۔ اس میںیہ دیکھنا ضروری ہے کہ بالوں تک پانی پہونچ جاتا ہے یا نہیں۔
جو بھی پاوڈر یا پینٹ رنگ چڑھانے کے لئے بالوں میں لگایا جائے اگر اس کو دھو لینے کے بعد بالوں کو خشک کر لیا گیا پھر اس کے بعد بھی بالوں پر وہ پیسٹ یا پینٹ اس طرح باقی رہے کہ پانی بالوں کو نہ لگ پائے۔ تو اس صورت میں غسل نہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جسم کے کچھ حصے پر تارکول یا پینٹ یا ناخن پر پالش لگا دی جاتی ہے پھر پانی جسم تک نہیں پہونچ پاتا اس صورت میں غسل درست نہ ہوگا۔بالوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔کہ جو Dyeپانی کو بالوں تک پہونچنے سے مانع ہو اس کی وجہ سے غسل درست نہ ہوگا۔
مہندی جو عہد نبوت سے آج تک بالوں میں لگائی جاتی ہے وہ پانی کو بالوں تک پہونچنے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ لیکن اگر کوئی ڈائی(Dye) ایسی ہو جیسے نیل پالش یا دیواروںں کی پینٹ یا چربی کا تیل ہو تو وہ ڈائی غسل وضو کے درست ہونے کے رکاوٹ ہوگی۔
اور جب غسل اور وضو صحیح نہ ہوا تو نماز بھی ادا نہ ہوگی۔

تازہ ترین