تازہ ترین

پالی تھین کی وباء سے چھٹکاراکب ملے؟

تاریخ    9 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


  کسی زمانے میں عدلیہ کے دبائو کے نتیجہ میں حکومت کو پالی تھین پر پابندی عائد کرنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑی تاہم یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ پابندی کا اطلاق قانون کی کتابوں تک ہی محدود رہا جبکہ عملی طور متعلقہ حکام کی ناک کے نیچے جموںوکشمیرمیں پالی تھین کا استعمال شدومد سے جاری ہے اور کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔ مئی 2009میں پالی تھین لفافوں کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیاگیا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ حکومت12 سال قبل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ پالی تھین لفافوں کو وادی میں برآمد نہیں ہونے دینا ہے اور اس کے استعمال پر پابندی کا اطلاق ہونا چاہئے ، اس ضمن میںکثیر رقومات خرچ کرکے عوام کیلئے جانکاری مہم شروع کی جاتی ہے، سمیناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے، غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود 12 سال بعد حکومت آج بلا جھجھک یہ اعتراف کرلیتی ہے کہ پالی تھین لفافوں کا استعمال ہنوز جاری ہے۔ظاہر ہے کہ پالی تھین پر پابند ی جموںوکشمیر میں ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم قدم تھا۔ حالانکہ ماحولیات کا تعلق صرف پالی تھین سے ہی نہیں ہے بلکہ کئی دیگر باتوں سے بھی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے مسلسل ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تے آئے ہیں اور یہ سلسلہ شدو مد کے ساتھ جاری ہے۔ہماری جھلیں تباہ حال ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سکڑتی جارہی ہیں۔ ہمارے جنگلات لُٹ رہے ہیں۔ ہماری شناخت جہلم آلودہ ہو چکا ہے۔ ہماری بستیوں سے برآمد ہوجانے والا فضلہ آبگاہوں اور دریا ئوں میں چلا جاتا ہے۔جموںوکشمیر میں سڑکوں پر دوڑنے والی لاکھوں گاڑیاں زہریلا دھواں چھوڑتی ہوئی چلی جارہی ہیںاور بدقسمتی سے محکمہ ٹریفک میں افرادی قوت کی قلت کے باعث لاکھوں گاڑیوں کی پولیوشن چیکنگ تقریباً ایک ناممکن بات بن گئی ہے۔ ہماری زرخیز زمینیں کنکریٹ کے جنگلوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔ غرض یہ کہ ہمارے یہاں ماحولیات کی بربادی کی ان گنت وجوہات دیکھنے کو ملتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کے تدارک کیلئے ایک ہمہ گیر ، مؤثر اور زوردارحکومتی پالیسی کی ضرورت ہے لیکن پالی تھین لفافوں پر پابندی کے ایک چھوٹے سے قدم کا حشر دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماحولیات سے جُڑے دیگر منفی رجحانات کا تدارک کرنے میں کس طرح کے نتائج برآمد ہونگے۔ویسے بھی یہ بدقسمتی ہے کہ جموںوکشمیر کے عوام میں تعلیم عام ہوجانے کے باوجود ماحولیات کے تئیں ذمہ داریوں کا احساس نہیں پایا جاتا ہے۔ہمارے اسلاف ہمارے مقابلے میں اَن پڑھ تھے لیکن ماحولیات کے تئیں بہت حساس تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ ماحولیات کے تئیں عوام میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اسکے لئے حکومت کا انتہائی سنجیدہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ پالی تھین مخالف مہم کا جو حشر ہوا ہے ،وہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ حکومت نے یہ مہم سنجیدگی کے ساتھ شروع نہیں کی تھی ۔ بہر حال اگر حکومت واقعی جموں کشمیر میں ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے تو اسکے لئے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے ماحولیات کے تحفظ کیلئے ٹھوس پالیسی اپنائے تاکہ اسکے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں۔فوری طور پرمتعلقہ حکام پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ پالی تھین لفافے جموں و کشمیر میں درآمد کرنے والوں اور اِن لفافوں کو گاہکوں کے ہاتھوں میں تھمادینے والے دکانداروں اور خوانچہ فروشوں کے تئیں سختی سے پیش آئیں ، مارکیٹ چیکنگ سکارڈ کو متحرک رکھیں اور اُن لوگوں سے قانون کے مطابق ڈیل کریں جو اس غیر قانونی اور مضرت رساں دھندے کو کسی نہ کسی صورت زندہ رکھنے کے درپے ہیں ۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کی ذمہ داری میونسپل حکام پر اول تاآخر عائد ہوتی ہے۔اْمید کی جانی چاہئے کہ اس بارے میں ہاتھ بٹانے کے لئے نہ صرف معاشرے کے باشعور افراد بلکہ تمام ماحولیات دوست قوتیں بھی اپنا کردار حتی المقدور ادا کریںگے۔
 

تازہ ترین