تازہ ترین

سرکاری عمارتوں پر ترنگے کی پرچم کشائی

صرف جموں وکشمیر میں ہی لازم کیوں :محبوبہ مفتی

تاریخ    8 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سری نگر//جب ہم برسراقتدار تھے،تو کوئی لیڈر پارٹی چھوڑ کرنہیں جاتا تھا لیکن مشکل حالات میں وہ کس دبائوکے تحت پارٹی چھوڑرہے ہیں اس کی جواب وہ ہی دے سکتے ہیں۔اس بات کااظہار پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کیا۔ محبوبہ مفتی نے پی ڈی پی سے لیڈران کے استعفیٰ پر بات کرتے ہوئے کہا،’’'جب ہماری جماعت اقتدار میں تھی تو ہم نے اُن کو ایم ایل سی بنایا، راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا اوروزیر بنایا۔ تب سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا‘‘۔ان کا مزید کہنا تھاِ’’'آج پارٹی مشکل میں ہے ، پورے جموں و کشمیر کے لئے مشکل وقت ہے تو ایسے وقت میں وہ کس دبائو کے تحت یا کس لالچ کے تحت جا رہے ہیں اس کے بارے میں میں کچھ نہیں بتا سکتی بلکہ وہی لوگ کچھ بتا سکتے ہیں‘‘۔محبوبہ مفتی نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پورے ملک بالخصوص جموں و کشمیر میں اختلاف رائے رکھنا ایک جرم بن گیا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھاکہ جو بھی ان کی بات سے اختلاف کرتا ہے اس کو جرم سمجھا جاتا ہے اور روز نئے نئے قانون لا کر لوگوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے سوال کیا کہ صرف جموں و کشمیر میں ہی سرکاری عمارتوں پر ترنگا لہرانا لازمی کیوں بنایا گیا ہے ۔انہوں نے بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ان کے دلوں میں عدم تحفظ ہے ۔ ان میں عدم تحفظ کا احساس ہے ۔ بھارت کی دوسری ریاستوں میں تو کوئی وزیر اعلیٰ یا ریاست کا سربراہ یہ نہیں کہتا ہے کہ ہر جگہ جھنڈے لہرائو۔ جموں و کشمیر میں ہی کیوں؟ کہیں نہ کہیں ان کو عدم تحفظ کااحساس  ہے ۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے ہر سرکاری دفتر پر ترنگا لہرانا لازمی قرار دیا ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ روز کہا کہ سرکاری دفاتر پر 'ترنگا' نہ لہرانے والے افسران یا اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو