تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    4 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
پھول پتے بہار کیا معنی
بِن تُمہارے سنگھار کیا معنی
تُو نہ آئے گا میری سمت کبھی
اب ترا انتطار کیا معنی
لوٹ آئے گا  تُو مری جانب
غیر سے استوار کیا معنی
دل کی سب حسرتیں تمام ہوئیں
اب کے لوٹو بھی یار کیا معنی
سارے چہرے اُداس لگتے ہیں
ساقیا اب خمار کیا معنی
آگہی اس قدر اذیت ہے
تیری یادوں کا بھار کیا معنی
اب حدیں توڑنے کی ٹھانی ہے
درِ زنداں حصار کیا معنی
ایک تُم ہو کہ دسترس میں نہیں
خود پہ ہی اختیار کیا معنی
میرے مُرشد کے ہاتھ میں پتھر
پھر یہ تختہ و دار کیا معنی
مجھ کو زندہ کہیں بھی چُنوا دو
اب حویلی دیوار کیا معنی
میری آنکھوں میں دُھند سی رہتی ہے
اُس کے رُخ پر نکھار کیا معنی
مجھ سے تُم اس جنم کی بات کرو
سات جنموں کا پیار کیا معنی
دفن ہو جاؤں اب کہیں جاویدؔ
تیرا کُوچہ دیار کیا معنی
 
 
سردارجاویدخان
پتہ مینڈھر پونچھ
موبائل نمبر؛
مجبور ہوگئے ہیں غمِ زندگی سے ہم
ورنہ یہ داستاں بھی نہ کہتے کسی سے ہم
منزل نہ راہبر نہ کہیں آس کی کرن
گھبراگئے ہیں بہکی ہوئی زندگی سے ہم
یادوں کی بے قراری نے مجبور کردیا
ورنہ تمہارے در پہ نہ آتے خوشی کے ہم
اُن کے بغیر چاندنی لگتی ہے آگ سی
جلتے رہے ہیں رات بھر اِس چاندنی سے ہم
ہوتی ہے زندگی سے ملاقات اِس طرح
ملتے ہوں جیسے بزم میں اِک اجنبی سے ہم
دُنیا کے کاروبار میں مصروف ہیں پنچھیؔ
فرصت اگر ملی تو ملیں گے کسی سے ہم
 
 
 
سردار پنچھیؔ
جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ، کھنہ پنجاب
موبائل نمبر؛9417091668
وہ ہنس رہا تھا فنا پہ میری میں قطرہ قطرہ پگھل رہا تھا
کبھی ستم سے سِسَک رہا تھا کبھی دکھوں سے دہل رہا تھا
اجاڑ راہوں کے درمیاں جب میں تشنگی سے جُھلس رہا تھا
وہ دھوپ کی تیز آنچ میرے بدن پہ مل کر بہل رہا تھا
وہ جس گھڑی اُس کے گھر سے ڈولی اٹھی تھی میرے قرارِ دل کی
وہ من ہی من مُسکرا رہا تھا میں مثلِ تَنُور جل رہا تھا
مجھے ہرانے کا جشن زوروں سے جب منایا گیا تو لوگو
پُرانا اِک یار دُشمنوںکو گلے لگا کر اُچھل رہا تھا
محبتوں کی ڈگر پہ ہم دونوں گام زن تھے تضاد یہ تھا
میں بچتے بچتے پِھسل رہا تھا وہ گرتے گرتے سنبھل رہا تھا
وہ وقت بھی تھا کہ جب لہو کی بھی کوئی قیمت تھی اس جہاں میں
شِمال والا جو چوٹ کھاتا جنوب والا مچل رہا تھا
پلٹ پلٹ کے مجھے سنورنے کے مشورے وہ بتا رہا تھا
مگر میں منہ اپنا جب دکھاتا وہ آئینہ ہی بدل رہا تھا
مجھے زمانے سے کیوں نہ آفاقؔ ہو شکایت مرا تو ہر دن
کسی کی یادوں میں پل رہا تھا کسی کے ماتم میں ڈھل رہا  تھا
 
 
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر
رابطہ نمبر 7006087267
چند لمحوں کی روشنی کے لیے
روز مرتے ہیں زندگی کے لیے
جسکو کہتے ہیں زندگی ہم لوگ 
اک معمہ ہے آدمی کے لیے
ہر گھڑی مجھ سے دور رہتا ہے 
جس کو مانگا تھا ہر گھڑی کے لیے
ہم اسی روشنی کے حامی ہیں
جو ہے مشہور تیرگی کے لیے
تم محبت کی بات کرتے ہو
ہم ہیں بدنام بندگی کے لیے
خون سے سینچ کر غزل لکھیں
لازمی ہے یہ شاعری کے لیے
وہ ہے عرفانؔ غیر ممکن ہے
اس کو پا لینا ہر کسی کے لیے
 
 
 
عرفان عارفؔؔ
اسسٹنٹ پروفیسر اردو،جموں،موبائل نمبر؛9682698032
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
غزل
گلستان اُگتے ہیں آتش دان میں
نورِ وحدت جب گُھلے ایمان میں
رونقیں چہرے پہ پھر رہتی نہیں
 جب بھی نِخوت آتی ہے انسان میں
جو بھی اشیاء کام کی رہتی نہیں
پھینک دی جاتی ہیں کُوڑے دان میں
 کاغذی پھولوں کا ہے ہر سو چلن
اب نہیں خُوشبو کسی گُلدان میں
 بین کرتے ہم نے دیکھے شہنشاہ
کچھ نہیں رکھا ہے جھوٹی شان میں
 اپنے بیگانے سبھی نالاں ہوں جب
پھر کوئی خوبی نہیں انسان میں
فرقہ آرائی کا جب دیمک لگے
 کچھ اثر رہتا نہیں ادیان میں
 آدمی ہوں میں کوئی پتھر نہیں
کب تلک بسملؔ رہوں بُحران میں
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی راجوری،موبائل نمبر؛ 9086395995
 
 
 
بہ صورت نورؔشاہ
 ہمدمؔ بصیرت وہ خیالؔ آیا
حدودِ سوچ میں بھولے جو اِک پیکر کمال آیا
بہ صورت نورؔشاہ، ہمدمؔ بصیرت وہ خیالؔ آیا
قلم قرطاس لے کر اب چلیں کشمیر کی جانب
اُبھر کر ذہنِ کم تر میں یہی پھر سے خیال آیا 
سخن پرور وہاں سارے چشمِ برّاہ ہوتے ہیں
تصوّر میں یہی شب کو مِرے خواب و خیال آیا
اِسی بحرِ تجسس میں سفینہ ڈال کر پایا
مِری خوابیدہ یادوں میں نیا پھِر سے اُبال آیا
جو پہنچا کشتِ کشیپؔ میں متاعِ آرزُو لے کر
متاعِ حُسن کا منظر نظر مشرق شُمال آیا
بہ ایں معشوق کی صورت جو دیکھا جائے حبہؔ کو
نظر دیدے وہی صورت وہی حُسن و جمال آیا
طبعِ نازک ہماری بھی اَزل سے لااُبالی ہے
فرق اس کی ادائوں میں نظر اب تک محال آیا
کِنارے ڈلؔ کے لوگوں کا ہُجومِ بیکراں پایا
نظر اِن میں کوئی ملاح کوئی ہم کو حمال آیا
سُنا تھا شورِ سیلانی یہاں سیلاب صورت ہے
سماعت کو مگر ہر سو یہاں شورِ بقال آیا
بہت ہی ماند صورت تھے یہاں مہجورؔ کے نغمے
نہ اُن میں سُر وہ پہلا سا سماعت کو ہی تال آیا
بصورت ایک بیوہ کے یہاں کون و مکاں پایا
یہ صورت دیکھ کر عُشاقؔ مجھے گھر کا خیال آیا
 
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبرـ:  9697524469
 
غزلیات
دل جو اس کا پتھر نہیں ہوتا
بے وفا اس قدر نہیں ہوتا
 
مت کہو یوں کسی سے حالِ دل
ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا
 
وقت بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے
ساتھ جب مقدر نہیں ہوتا
 
بارہا سوچتا ہوں کہ کہدوں
گر کسی کا جو ڈر نہیں ہوتا
 
سامنا ہوگا تو پھر کیا ہوگا
ہوتا بہتر اگر نہیں ہوتا
 
غیر ہے یا کہ اپنا ہے طارقؔ
اب بھروسہ کیونکر نہیںہوتا
 
ابوضحی طارقؔ
اقبال کالونی اونتی پورہ، پلوامہ
موبائل نمبر؛8825016854
 
شاعروں پر ہے نار کا سایہ
چائے کا اور ِسگار کا سایہ
آج لیجیے کھجور کی چھائوں
کل میں دوں گا چنار کا سایہ
کتنا پھیلا دیا مجھے تم نے
کتنا پیارا تھا پیار کا سایہ
وقت لے کر چلا گیا آگے
بیچ میں تھا قطار کا سایہ
ہاتھ پڑھ کر کہا یہ جوتش نے
سچ کے اوپر ہے دار کا سایہ
اپنے گھر کو مکاں بنانے تک
کس نے مانا تھا پیار کا سایہ
کیسا ناشادؔ مسکرانا اب
سر پہ آفت ہے یار کا سایہ
 
میسر ناشاد
دیالگام ، اننت ناگ
 
کوئی مقام نہ سایا نظر میں خاک نہیں
بجز تموّجِ بلا راہ گزر میں خاک نہیں
 
شکستہ ناو کنارے پہ ہی جو ڈوب گئی
ہمارے ہاتھ لگی ہے سفر میں خاک نہیں
 
تمام خوابِ تمنا ہمارے جل چکے ہیں
بچی ہے راکھ کے بِن اب جگر میں خاک نہیں
 
لہو جلا کے ہی ظلمات ِ شب ہوئی ہے فنا
ضیا چراغ میں باقی قمر میں خاک نہیں
 
تمام عمر جو مانگا نہیں ملا ہے مجھے
اثر دعا میں کوئی چشمِ تر میں خاک نہیں
 
جلا سکے گا نشیمن مرے جو عزم کا کچھ
بساط اتنی کسی بھی شرر میں خاک نہیں
 
لرزتے دیکھے ہیں عارفؔ پرندے گلچیں سبھی
ہوا کا خوف اکیلے شجر میں خاک نہیں
 
جاوید عارف
پہانو شوپیان، کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
مرے کریم
 
بیاض خرد و جنوں میں عیاں ہیں حرفِ کشیٖد
انہی پہ نظرِ عنایت یہی میری تمہید
 
کریم! میرے تخیّل کو وہ بلندی دے
کہ جو ستاره سحری کو بھی نگوں کر دے
عطا کر بھول بھلیوں سے بھی نجات مجھے
مرا ضمیر جگا دے، عطا جنوں کر دے
 
 ترے ہی در پہ جھکی ہے مری جبین نیاز
مرے تھکے ہوئے لہجے میں بھر دے سوز و گداز
مرے قلم کو گہر پاش کر دے مرے کریم
اگر چہ اس سے ٹپکتا ہے میرا عشقِ مجاز
 
مری ہر شام ترے فضل سے ہے شامِ اَودھ
تِرے ہی نام سے کرتی ہے صبح بھی آغاز
 
احمد پاشاؔ جی
بڈکوٹ هندواره
 
 
 
 
 
 
نظم
ایک یہ جہاں
ایک وہ جہاں
فیصلہ یہاں وہاں
یہاں زندہ وہاں زندہ
مگر دماغ میں مر گیا
یہاں کارواں یہاں دل دماغ 
وہاں کچھ نہیں صرف ایک حساب
تیرے اعمال کیا تیرا دین کیا
یہ ترازو وہاں لگا
اعمال تیرے سب آئے
سوال جواب ہوں گے وہاں
اک یہ جہاں 
اک وہ جہاں
یہ درد بھری ہے داستاں
ہے زندگی کا راستہ
یہاں روشنی بے انتہا
وہاں اندھیرا بے انتہا
ایک یہ جہاں
 ایک وہ جہاں
یہاں کا جینے والا
 وہاں آنے کا انتظار
یہ لکھ رہا ہے پڑہارؔ
ایک یہ جہاں 
ایک وہ جہاں
 
مبشر الرحمان پڈہار
 سرنگا نیل بانہال،طالبعلم بارہویں جماعت 
ہائیر سکینڈری اسکول نیل بانہال