تازہ ترین

اَجنبی

تاریخ    4 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


پرویز مانوس
اُس نے دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی تو ساڑھے چار بجنے والے تھے ،حالانکہ دفاتر کے اوقاتِ کار چار بجے تک تھے لیکن اُس نے کبھی گھڑی دیکھ کر چُھٹی نہیں کی تھی ،جب تک نہ تمام سائل دفتر سے باہر نکل جائیں اُس وقت تک وہ اپنی کُرسی سے نہیں اُٹھتی تھی کیونکہ اُسے اس بات کا پورا احساس تھا کہ یہ غریب اور مفلو الحال لوگ دُور دراز کے علاقہ جات سے اپنے کام کاج کا دن چھوڑ کر اس دفتر میں آتے ہیں۔ کام ہوجانے پر سائل بھی اُس کو دُعائیں دیتے تھے تو وہ کہتی خُدا نے مجھے یہ کُرسی اسی لئے دی ہے کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ انصاف کر سکوں ۔ اپنے دفتر کے عملے کی نظروں میں تو وہ کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی ،بادلِ ناخواستہ وہ اُس کے سامنے کاغذات لے کر جاتے وگرنہ وہ تو اُس کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔۔۔،،
جب سے اُس نے اس دفتر کا چارج سنبھالا تھا کلرکوں کے چولہوں کو تو جیسے پانی پڑ گیا تھا ۔بڑے بابو تو ہر وقت کہتے رہتے ،،ڈی سی صاحب نے بھی کونسی بَلا ادھر بھیج دی ،کسی سے دس روپے بھی نہیں لینے دیتی لیکن اگر وہ کسی کو اچھی لگتی تھی تو وہ تھا اُس کا ڈرائیور اشرف ،جو اب اپنی سُبکدوشی کے قریب تھا۔ اپنی بتیس سالہ ملازمت میں اُس نے پہلی بار ایسی ایماندار ،رحم دل اورغریب پرورو افسر کو دیکھا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے والے افروں کی کرتوتوں سے تو شیطان بھی شرمندہ ہو جاتا تھا ۔وہ بے حد خوش تھا کہ اب کلرک سائلوں کو روز روز کے چکر نہیں لگواتے ،لگواتے بھی کیسے ؟ میڈم نے پہلے روز ہی مٹینگ بُلا کر دفتر میں تعینات تمام عملے کو یہ بات باور کرا دی تھی کہ تین دن سے زیادہ کسی بھی ٹیبل پر فائل نہیں رہنی چاہئے۔فیلڈ رپورٹ موصول ہونے کے دو دن بعد سائل کی فائیل مکمل ہوجانی چاہئے ۔۔۔،،اس بارے میں کسی کو کچھ کہنا ہے ؟میڈم کے سوال پر سب کے سر جُھک تھے  تھے ۔۔۔،،
اُس نے پین بند کرکے اسٹینڈ میں رکھ کر ایک بھر پور انگڑائی لی جو اُس کی تھکاوٹ کا اظہار تھا کیونکہ دن بھر فائلو ں پر دستخط کرتے کرتے اُس کا ہاتھ تھک چُکا تھا۔ اُس نے ٹیبل پر رکھی ہوئی بیل بجائی تو چپڑاسی اند داخل ہو ۔۔۔۔،،جی میڈم....؟اشرف کو کہو گاڑی نکالے ،کہہ کر اُس نے اپنا پرس اور لنچ بکس اُٹھایا اور اور دفتر سے باہر نکل گئی ۔ اُسے اس طرح گھور رہا تھا گویا کچا چبا جائے گا ،وہ اُسے نظر انداز کر کے گاڑی میں سوار ہو گئی اور ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھائی۔۔۔۔،،
شائستہ ایک غریب گھر کی بیٹی تھی جس کا باپ برکت علی شہر میں آٹو رکشا چلا کر اپنے عیال کی کفالت کرتا تھا۔ شائستہ کے دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد وہ اپنے عیال کو لے کر  گاؤں سے شہر چلا آیا تھا۔تینوں بچے پڑھائی میں اچھے تھے، وہ بھی خوب محنت کرنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے شائستہ بارہویں جماعت پاس کر گئی ،بیٹا حامد آٹھویں اور چھوٹی بیٹی پانچویں پاس کر چکے تھے ۔۔۔۔،،
اب برکت علی کو فکر لاحق ہوئی کہ شائستہ کا داخلہ کالج میں کیسے کرائے ،کیونکہ اُس کے داخلے کے لئے موٹی رقم کی ضرورت تھی ،پھر وقت کے مطابق ،نئی کلاس۔۔۔۔ نئی وردی ۔۔۔۔نئی کُتب ،یہ سب پورا کرنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔۔،،ساری رات وہ وہ بستر پر کروٹیں بدلتا رہا اور سوچتا رہا کہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی ؟ شہر میں روکھے پھیکے لوگ  بغیر غرض کے کسی سے بات تک نہیں کرتے پھر پندرہ ہزار دینے کی تو بات ہی نہیں ، کون دے گا اُدھار۔۔۔؟ ایک طرف بیٹی کے مستقبل کا سوال دوسری جانب یہ بے بسی۔۔۔،،
شائستہ کا ارادہ مسابقتی امتحان پاس کرنے کا تھا۔ پھر شہر آتے وقت اُس نے بچوں کو کہا  بھی تھاکہ  میں آپ کے لئے خوب محنت کروں گا۔ آپ کا کام ہے پڑھنا اور صرف  پڑھنا لیکن آج وہ بے بس نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔،،کروٹیں بدلتے بدلتے۔رات آنکھوں میں گزر گئی ،اُس کی بیوی کے پاس بھی ایسے کُچھ زیورات نہیں تھے جنہیں فروخت کرکے وہ اپنی ضرورت  پوری کرلیتا۔ آخر کار اُس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنا آٹو رکشا بیچ دے کر شائستہ کا داخلہ کالج میں ضرور کرائے گا۔۔۔۔،، سویر ہو گئی تو تمام لوگوں کی طرح وہ بھی خُدا کا نام لے کر کام پر نکل پڑا ۔۔۔،،دن بھر مُسافروں کو اپنی اپنی منازل تک پہچانے کے بعد روز شام کو گھر جاتے ہوئے وہ ریکریشن کلب سے ایک بزرگ اینتھونی صاحب کو بٹھا کر اُس کے گھر تک چھوڑتا تھا ،جب پہلی بار وہ اُس کے آٹو میں سوار ہوا تو اُترتے وقت اُس کا بٹوا آٹو میں گر گیا۔ برکت علی نے روپوں سے بھرا بٹوا اُٹھا کر اُس کے سپرد کیا تو اُس نے برکت سے کہا،،آج کے بعد تم ہی مجھے گھر چھوڑا کرو گے مین،تم اچھے انسان ہو۔ بس تب سے برکت علی اُس کو گھر چھوڑ دیتا اور مہینہ پورا ہونے  کے بعد اپنا حساب کرتا ۔۔۔۔،،آج بھی اُس نے اینتھونی صاحب کو اپنے آٹو میں بٹھا کر گھر پہنچایا تو اُسے محسوس ہوا کہ اُس نے کچھ زیادہ ہی چڑھا رکھی ہے ،برکت نے اُسے  روز کی طرح اُس کے گھر  کے گیٹ کے قریب چھوڑا اور کہا۔۔۔۔،،
اینتھونی صاحب! آپ آج میرا حساب کر دیجئے ۔۔۔!کیوں مین  ابھی تو دس دن باقی ہیں اس ماہ کے ؟اُس نے اپنے لڑکھڑاتے قدموں کو جماتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔،،
اینتھونی صاحب  کل سے آپ کسی اور آٹو والے سے بات کرلیں ،میں کل سے نہ آسکوں گا ،،یہ سُن کر اُس  کا سارا نشہ کافور ہوگیا اور پوچھ بیٹھا ،کیوں خیریت تو ہے ؟تو کل سے کیوں نہیں آئے گا؟؟؟
اینتھونی صاحب میں نے اپنے آٹو کا سودا کرلیا ہے۔۔۔!!!
کیا...... ؟؟؟؟یہ تم کیا کہہ رہا ہے مین ؟
تم تو کہتاتھا کہ تمہارے پاس اس آٹو کے بغیر کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے پھر....؟ بزرگ نے برکت سے دریافت کیا۔۔۔۔،،
اینتھونی صاحب  یوں سمجھ لیجئے کہ مجبوری آن پڑی ہے ،برکت نے اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا _،،
اپنے عیال کا کیا کرو گے ؟ یہ شہر ہے  مین شہر ، تمہارا گاؤں نہیں ،بزرگ نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔۔۔،،
اینتھونی صاحب  آپ میری فکر مت کریں ،وہ سب کا پالن ہار ہے _مزدوری کرلوں گا ،ابھی میرے بازوؤں میں طاقت ہے ،
آخر  ایسی بھی کیا مجبوری ہے  مین مجھے بتاؤ …،،بزرگ نے اصرار کیا …،،
اینتھونی صاحب .....! دراصل مجھے پندرہ ہزار روپے کی سخت ضرورت ہے ،
پندرہ ہزار..... ؟ تمہیں اتنی رقم کس لئے چاہئیے مین  ؟ بزرگ نے پوچھا تو برکت نے جھجھکتے ہوئے کہا ،،
اینتھونی صاحب  مجھے اپنی بیٹی کا داخلہ کالج میں کرانا ہے اور کل آخری تاریخ ہے ،میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے…،،
ارے مین تم تو بڑا اچھا باپ ہے....! جو اپنی بیٹی کو پڑھا رہا ہے ،بہت نیک کام کر رہا ہے تم  ،تم فکر مت کرو گاڈ  تمہارا مدد ضرور کرے گا ،آجاؤ اندر آجاؤ. …!کہہ وہ لڑکھڑایا تو برکت نے اُسے آگے بڑھ کر تھام لیا ،
تم بہت اچھا انسان ہے کہتے ہوئے وہ اُس کے ساتھ گیٹ سے اندر داخل ہوگیا …،،اتنا بڑا مکان دیکھ کر برکت علی حیران رہ گیا اور پوچھ بیٹھا... ،،
اینتھونی صاحب  اتنے بڑے مکان میں آپ اکیلے رہتے ہیں ؟
ہاں مین گاڈ کو یہی منظور ہے ……،،
لیکن آپ کے گھر والے ؟
ارے کیا پوچھتا ہے مین…!پندرہ سال پہلے آبے والے (Earthquake ) زلزلے میں اپن کا سارا فیملی  دوسرے مکان کے ملبے کے نیچے دب گیا ،میں اُس وقت مُلک سے باہر تھا اس لئے اس دُنیا میں ٹھوکریں کھانے کے لئے  اپن زندہ بچ گیا ،اب روز اُس  پریس کلب میں غم غلط کرنے چلا جاتا ہو ں لیکن یہ کمبخت ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے …،،
اچھا   اینتھونی صاحب میرا حساب کردیں مجھے آٹو دینے کے لئے جانا ہے …،،
بزرگ کمرے میں داخل ہوا پھر تھوڑی دیر بعد واپس آکر برکت کے ہاتھ پر روپے رکھتے ہوئے بولا …،،تمہیں آٹو بیچنے کا کوئی ضروت نہیں ہے ،تم بیٹی کا داخلہ کالج میں ضرور کراؤ…،،
لیکن اینتھونی صاحب………!!!وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن بات اُس کے گلے میں اٹک کر رہ گئی ………،،
ارے مین  میرے لئے  تو یہ روپے  بیکار ہیں، بہتر ہے کسی کے کام آئیں ،
اینتھونی صاحب ! یہ روپے میں کیسے لے سکتا ہوں ؟
ارے مین  یہ روپے میں تمہیں پھوکٹ  میں تھوڑے دے رہا ہوں  آہستہ آہستہ چُکا دینا ،فی الحال اپنا کام نکالو … لیکن اینتھونی صاحب …………!!!!
لیکن کیا تم کہیں بھاگ تھوڑے ہی جاؤ گے ،پھر میں تمہیں بھاگنے بھی نہیں دوں گا…………!جاؤ جا کے بیٹی کا داخلہ کراؤ ………!کہہ کر وہ لڑکھڑاتا ہوا اندر چلا گیا ،،
برکت علی نے روپے ہاتھ میں لے کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،،واہ تیری خُدائی ……………تو مسبب الاسباب ہے _۔۔۔۔،،
اس طرح اُس نے اپنی بیٹی شائستہ کا داخلہ کالج میں کرا دیا پھر اُس  نے بھی اپنے باپ کی محنت کی قدر کرتے ہوئے  کے اے ایس کا امتحان پاس کیا اور اُس کی تعناتی بحثیت تحصیلدار شہر کے ایک علاقے میں ہو گئی ……!
گاڑی اپنی رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ اچانک ڈرائیور نے بر یک مار کر گاڑی روک دی تو شائستہ نے ڈرائیور سے ردیافت کیا ،،کیا بات ہے گاڑی کیوں روک دی ؟
میڈم جی سڑک پر لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہے ،لگتا ہے کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ،ڈرائیور نے کھڑکی سے باہر گردن نکالتے ہوئے کہا ،،
یہ سُن کر شائستہ گاڑی سے نیچے اُتر کر بھیڑ کی جانب بڑھ گئی جہاں ایک شخص. سڑک پر خون میں لت پت تڑپ رہا تھا اور لوگ اپنے موبائلوں سے ویڈیو بنانے میں مصروف تھے ،اُس کے کانوں سے کسی کی آواز ٹکرائی ۔۔۔،ارے چلو چلو ،کون پولیس کے جھمیلے میں پڑے ،شائستہ نے گھور کر اُن بے درد اور بے حس لوگوں کی طرف دیکھا پھر ڈرائیور کی مدد سے اُس بزرگ شخص کو اپنی گاڑی میں ڈال کر اسپتال پہنچایا۔۔۔۔،،
اسپتال میں کافی وقت لگ گیا تو شائستہ نے ڈرائیور سے کہا ،آپ جائیے ،آپ کا بچہ ٹھیک نہیں ہے ڈاکٹر کو دکھاؤ …،، لیکن میڈم جی وہ ………!
کوئی بات نہیں آج میں آٹو سے چلی جاؤں گی ،آپ بچے کو ڈٓکٹر کو دکھاؤ ،،میں اُس  وقت تک  نہیں جاؤں گی جب تک پولیس اس بزرگ کے گھر والوں کو ڈھونڈھ کر یہاں نہیں لاتی۔اس بزرگ کو تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔آپ کو تو میرے اصولوں کا پتہ ہی ہے ،،ڈرائیور نے اس کی جانب ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو،، کاش سارے آفیسر اپنے ماتحت کی مجبوری سمجھتے ،،پھر ڈرائیور اسپتال کے احاطے سے باہر نکل گیا ۔
برکت علی آج باقی دنوں کے برعکس جلدی گھر آگیا تھا کیونکہ پریس کلب پہنچ کر اُسے گیٹ کیپر سے پتہ چلا کہ آج اینتھونی صاحب نہیں آئے ہیں تو اُسے یاد آیا  کہ کل شام جب اُس نے اینتھونی صاحب کو گھر چھوڑا تھا تو اُن کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ پھر سیدھا گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ شائستہ ابھی تک گھر نہیں لوٹی۔ فون کیا لیکن شائستہ نے کال ریسیو  نہیں کی اُس نے سوچا کہ کہیں میٹنگ میں ہوئی ۔۔۔۔،
ہاں کچھ پتہ چلا ان کے گھر والوں کا ؟شائستہ نے تھانیدار سے دریافت کیا۔
نہیں میڈم ہم نے بہت کوشش کی لیکن کچھ پتہ نہیں چلا ،سوری ……!!
انہیں اس حالت میں یہاں چھوڑنا ٹھیک نہیں ،اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں اپنے گھر لے جاؤں ؟ان کے گھر والے ملنے تک ان کی دیکھ بھال ہو جائے گی ،،
ہاں ہاں کیوں نہیں آپ خود ایک ذمہ دار افسر ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کر لیں۔۔۔۔! تھانیدار نے کہا،، اتنے میں ڈاکٹرصاحب نے کہا ،،گلوکوز ختم ہوجائے تو آپ ایمبولینس میں انہیں لے جا سکتی ہیں ،انہیں آرام کی سخت  ضرورت ہے ،،
شائستہ بچپن سےہی بڑی ہمدرد اور حساس تھی۔ اُس سے کسی کا دُکھ درد دیکھا نہیں جاتا تھا پھر یہ ایک بزرگ شخص تھا۔۔۔۔
ایمبولینس برکت علی کے گھر کے باہر رکی تو دونوں شوہر اور بیوی  باہر نکلے تو دیکھا شائستہ آج پھر کسی بے سہارا اجنبی  کو اُٹھا کر گھر لائی ہے۔ اسپتال کے عملے نے بزرگ کو اندر بیڈ پر ڈالا تو ماں نے شائستہ کو ایک جانب لے جاتے ہو کہا،،بیٹی کس کو اُٹھا لائی ہے ؟ کون ہے؟ کیا ہے ؟کچھ معلوم بھی ہے ،یہ تو شکل سے ہی بھکاری لگتا ہے۔۔۔۔
ماں .....! میں صرف اتنا جانتی ہوں یہ ایک انسان ہے اور بے سہارا ہے اور کمرے میں داخل ہو گئی ،،بابا ……!آپ تھوڑا گرم پانی لائیے انہیں دوائی کھلانی ہے ،برکت علی با دِل نا خواستہ رسوئی میں گیا تو بیوی نے منہ بسورتے ہوئے کہا،،آپ کی لاڈلی آج پھر کسی  اجنبی بھکاری کو گھر اُٹھا لائی ہے۔ کہتی ہے بے سہارا ہے ،ہم نے کیا یہاں آشرم کھول رکھا ہے ؟ افسر بن گئی لیکن سمجھتی ہی نہیں ...،،کیا کریں  اُس کا دل ہی ایسا ہے ،کوئی بات نہیں ،اُس کے گھر والوں کا پتہ چلتے ہی وہ چلا جائے گا۔ چلو تھوڑا گرم پانی دو اُسے دوا کھلانی ہے ۔
پھر وہ پانی لے کر کمرے میں گیا تو شائستہ نے بزرگ کو  تھوڑا اوپر اُٹھا کر دوا کھلائی تو برکت اُسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا ،، اینتھونی صاحب …………؟؟؟
بابا آپ انہیں جانتے ہیں ؟.شائستہ نے باپ کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا ،، بیٹی یہ  تو فرشتہ ہیں  فرشتہ …………!!!
���
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9419463487