تازہ ترین

درد کے شہر میں

کہانی

تاریخ    28 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


شبنم بنت رشید
دن ڈھلنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا۔ شہر سے دور بہت دور سرحد کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں حالات سے بے خبر ہاجرہ گنگناتے ہوئے مرغیوں کو رات کا دانہ ڈال رہی تھی ۔ اچانک گاؤں میں سرحد کی طرف سے دھویں کا ایک طوفان اٹھ گیا ۔ ساتھ ساتھ موت کا پیغام لانے والے دھماکوں اور گولوں کی گڑگڑاہٹ ۔ لوگوں کو سانس لینا دشوار ہوگیا۔ ایک دم ایسے لگا کہ جیسے قیامت سے پہلے قیامت آگئی ہو۔ گاؤں کے بزرگ، بچے، مرد اور عورتیں محفوظ پناہ گاہوں کی طرف دوڑ نے لگے ۔ سہمے ہوئے لوگوں نے اسی طرح پوری رات گزاری ۔ ہاجرہ بھی ایک جگہ کچھ لوگوں کے بیچ اپنے بیٹے ایاز کو اپنے سینے سے لگا کر خدا وند کریم سے رات بھر دعا کرتی رہی کہ اے میرے مالک ہم بےبسوں پر رحم کر ۔ اپنے نیک بندوں کے صدقے ہمیں دنیا میں رہنے کے لیے کوئی ایسی جگہ عطا کر جہاں ہم زندگی کے چار دن سکون سے گزار سکیں ۔ تقریبا فجر تک یہ سلسلہ چلتا رہا اسکے بعد حالات میں ٹھرائو آگیا۔ صبح گاؤں کا منظر اتنا درد ناک تھا کہ لوگوں کی روح کانپنے لگ گئی۔ نہ جانے گائوں کے کتنے چراغ بجھ گئے تھے ۔ کئی معصوم پھول بھی کھلنے سے پہلے مرجھا گئے۔ ہر طرف موت اور تباہی کا منظر، چیخ پکار اور آہ زاری تھی۔ گاؤں کی تقریبا ساری کھیتی بہت سارے مکانات، یہاں تک بے شمار، مال مویشی، پیڑ پودے اکھڑ کر زمیں بوس ہوچکے تھے۔ بہت پہلے ہاجرہ کے والدین بھی انہی حالات کا شکار ہوئے تھے۔ رحم کھا کر پڑوسیوں نے اسکی پرورش کی ۔ پھر عہد جوانی میں اسکا شوہر بھی انہی جیسے حالات کا شکار ہوکر حاجرہ کو اکیلا کرگیا تھا۔ شوہر کے چلے جانے سے ہاجرہ بالکل ٹوٹ کر بکھر گئی۔ مگر کچھ وقت کے بعد خود کو سنبھال لیا اور پھر گاوں کی دوسری عورتوں کی طرح بھی زندگی مصروف ہوگئی۔ ایک گھر، میکے اور سسرال کی بہت ساری زمین، کچھ پیڑ ، کچھ بکریاں اور چند مرغیاں اسکی زندگی کے اہم حصے تھے۔ اس نے سب کچھ اکیلے سنبھالا اور اپنے شوہر کی جدائی کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہ دیا۔ اسکا بچہ بھی وقت کے ساتھ بڑا ہورہا تھا لہٰذا وہ اس گاؤں میں رہتے ہوئے خود کو کبھی اکیلا نہ سمجھتی تھی ۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی کسی معمولی بات پر سرحد پر تناو بڑھتے ہی حالات بگڑ گئے۔ اس طرف کی کسی ہاجرہ اور اِسکے گاؤں کا حال تو نہیں معلوم مگر اِس طرف ہاجرہ اور اِسکے گاؤں کا حال بہت ہی درد ناک تھا۔ ہاجرہ اور اسکے بیٹے کی جان تو بچ گئی مگر انکا گھر، کھیتی، پیڑ پودے اور مال مویشی سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ حاجرہ کے ساتھ ساتھ پورا گاؤں بے بسی اور ظلم کی داستان بن چکا تھا۔ گاؤں کے مظلوم اور لاچار لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو مٹی میں سلا کر رو دھو کے خاموش ہوگئے۔ ایک بار پھر اپنی زندگی کو نئے سرے سے سنوارنے میں جٹ گئے۔
زندگی میں پہلی بار اتنا درد ناک منظر دیکھ کر حاجرہ کو بڑی تکلیف ہوئی ۔ اس لئے اس کے لیے یہ منظر بھولنا محال ہوگیا۔ اسے اپنا یہ گاؤں بڑا عزیز تھا۔ یہاں کے لوگوں اور یہاں کی ہر چیز سے محبت تھی۔ اس نے اپنا بچپن، لڑکپن اسی گاؤں میں گزارا تھا ۔ جوانی بھی تو خیر گزر ہی رہی تھی ۔ مگر اس گاؤں میں رہتے ہوئے دل پہ بڑے گہرے زخم بھی لگے تھے۔ بہت کچھ کھویا بھی تھا اب اور کچھ کھو دینے کی ہمت اسکے اندر موجود نہ تھی۔ لحاظہ اولاد کی محبت ہر چیز ، ہر جذبے پر غالب آگئی ۔ کچھ دنوں بعد چپ چاپ ایاز کی انگلی پکڑ کر کئ میل پیدل چل کر شہر جانے والی ایک گاڑی میں سوار ہوگئی۔ گاڑی شہر کی طرف جانے والی سڑک پر دوڑنے لگی۔ حاجرہ اور ایاز کی زبانیں خاموش اور آنکھیں خشک تھیں کیونکہ وہ دونوں اپنی منزل سے بے خبر تھے۔ لمبی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی شہر کی حدود میں داخل ہوئی ۔ ایک مصروف ترین جگہ گاڑی سے اتر کر حاجرہ نے تاحد نظر شہر کو دیکھا۔ ہر طرف بے فکر ہو کر لوگوں کا سمندر ٹھاٹیں مارتا نظر آیا۔ اسکی جان میں جان آئی ۔ حاجرہ نے کچھ دیر اپنی آنکھیں بند کیں۔ بند آنکھوں میں والدین، شوہر اور گاؤں اور اس دن کے درد ناک منا ظر کو سامنے لایا۔ کچھ دیر ہر اُس چیز کے متعلق سوچا جن سے حاجرہ کی زندگی وابستہ تھی۔ جن چیزوں کی عادت تھی اُن سے اسے بے حد الفت تھی۔ جن کاموں کا بچپن سے تجربہ تھا ان کاموں سے زندگی کا کارواں چل رہا۔ مگر سب کچھ تو تباہ برباد ہوکے بہت پیچھے چھوٹ گیا تھا۔ دل میں درد اور کرب کے علاوہ کچھ باقی نہ تھا۔ اسے اس بات کی کوئی فکر نہ تھی کہ اب آگے کیا ہوگا اور آیندہ زندگی کیسے کٹے گی کیونکہ اولاد کی دولت، جینے کی تمنا، ہمت اور ممتا کا خزانہ ساتھ تھا۔
چلتے چلتے شام ہوگئی۔ بیٹے کو سینے سے لگاکر کھلے آسمان تلے ایک درگاہ کی دیوار کے سائے میں حاجرہ نے پہلی رات گزاری۔ نہ کھانا پینا، نہ بستر نہ تکیہ نہ چھت نہ آس پاس کوئی اپنا پرایا، اللہ کے بعد صرف ایک چادر کا سہارا تھا۔صبح ہوئی اس لاچار ماں نے لاڑلے بیٹے کو بے تحاشا پیار کیا۔ پھر اپنے رب کے حضور دامن پھیلاکر فریاد کرنے لگی۔ تیرے سوا میرا کوئی مددگار نہیں ۔ اے میرے رب یہاں نہ میرا میکہ ہے نا ہی سسرال اور نہ ہی کوئی رشتہ دار ۔مجھے اس شہر سے کوئی واقفیت ہی نہیں ہے لیکن میرے رب تو تو میرا موقف حال ہے۔ اے میرے مولا تیرے سوا کوئی مددگار نہیں ۔ اس شہر کو میرے اور میرے بیٹے کے لئے خیر کا شہر بنا دے۔ حاجرہ بڑی بہادر اور محنت کش خاتون تھی، جلد ہی حالات سے لڑنا سیکھ لیا۔ کچھ دنوں میں ہی ایک محلے میں اپنا پڑائو ڈالنے میں کامیاب ہوئی۔ پھر دھیرے دھیرے زندگی کے مرحلے طے کرنے لگی۔ مرحلے طے کرتے کرتے اپنے اور اپنے بیٹے کے لئے جینے کی راہ ڈھونڈلی۔ اپنے بیٹے کو اپنی آنکھوں میں رکھ کر تکلیف سہہ سہہ کر اس محلے کے کئی گھروں میں کام کرتے کرتے حاجرہ کو یہاں کئی سال ہوگئے۔ قران شریف کے ساتھ ساتھ دسویں تک ایاز کو پڑھایا۔ وہ آگے بھی پڑھنا چاہتا تھا مگر غریبی، یتیمی اور جلاوطنی نے اسکے خواب بکھیر کر رکھ دیئے۔ ایاز اپنی پڑھائی کو الوداع کہہ کر کمسنی میں ہی پُر جوش ہو کر خوداری سے اپنی ماں کی کفالت کرنے کے علاوہ اس محلے میں ہر ایک کے کام آنے لگا۔
شکل صورت، انسانیت اور شرافت کی مثال یہ سرحدی شہزادہ آہستہ آہستہ محلے والوں کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے صفائی نفاست سے جینے کا طریقہ اور سلیقہ رکھنے والے یہ پر خلوص ماں، بیٹا خود کو اس محلے کا حصہ سمجھنے لگے۔ اپنی محنت اور محبت سے اپنی ماں کا لاڑلا وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کے زخم بھرنے لگا۔ فارغ وقت ایاز اکثر اپنے دوست ساحل کی دکان پر جا کر اسکا ہاتھ بٹاتا تھا۔ ساحل بھی خوش شکل اور اچھا لڑکا تھا جو اپنے ابا کے انتقال کے بعد محلے میں ہی ایک کریانے کی چھوٹی سی دکان چلا رہا تھا ۔ دونوں کی دوستی بچپن میں درسگاہ میں شروع ہوئی تھی۔ ساحل کی چھوٹی بہن شرین اور ایار ایک دوسرے کو بہت پہلے سے جانتے بھی تھے اور چاہتے بھی تھے۔ دونوں میں اکثر تھوڑی تھوڑی بات چیت کے علاوہ مختصر ملاقاتیں بھی ہوتیں تھیں۔ اسلئے ایاز کو دیکھتے ہی شرین کا دل زور زور دھڑکتا تھا۔ وہ شرما جاتی تھی۔ اس کا رنگ سرخ گلاب کی مانند کھل اُٹھتا تھا۔ وہ اپنی پلکیں جھکا کر مسکراتی تھی۔ اس خاموش سی مسکراہٹ میں گلے ، شکوے، خوشی، خیر، خبر، دعا، سلام کے ساتھ اقرار محبت بھی ہوتا تھا۔ ایاز شرین کی اس باحیا ادا پر فدا تھا۔ صبح، شام گلی میں ایاز کے قدموں کی آہٹ سن کر پہچاننا، صبح سلائی سینٹر جاتے ہوے پھر وہاں سے آتے ہوئے، کبھی کبھار اپنے بھائی کی دکان پر اُسے دیکھنا شرین کا معمول ہی نہیں بلکہ ضروری بن گیا۔ ایاز کی امی حاجرہ بھی ان دونوں کی محبت سے واقف تھی۔ جب بھی وہ ان دونوں کے بارے میں سوچتی تھی تو اُسے بھی ان دونوں کی جوڑی اچھی لگتی تھی۔ مگر وہ تو سمجھ دار اور دور اندیش خاتون تھی۔ اپنی حیثیت اور حالات سے بھی واقف تھی۔ جانتی تھی کہ اس دنیا میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر کسی چیز کی تمنا کرنا جرم ہے اسی لئے آج تک اُس نے یہ بات کسی کے سامنے زبان پر نہ لائی۔۔۔
ساحل ایاز کا اتنا جان نثار تھا کہ وہ شرین کو ایاز کے ساتھ ہی بیاینا چاہتا تھا کیوں کہ ساحل بھی اپنے یار اور چھوٹی بہن کی محبت کی خاموش زبان کو سمجھتا تھا۔ وہ ان دو معصوم دلوں کو ملا کر اپنی دوستی اور بڑا بھائی ہونے کا فرض نبھانا چہتاتھا۔ مگر وہ تو اپنی ماں کی بری عادتوں اور اُسکے ارادوں سے بھی واقف تھا۔ انکی ماں صفیہ انا پرست اور سخت گیر خاتون تھی ۔ امیر لوگوں سے رشتہ جوڑ کر انہی کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ مفلس لوگوں کو حقیر سمجھنا انکے اندر عیب اور نقص ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُچھالنا اسکی بری عادت تھی جو وہ شاید اپنے میکے سے جہیز کے ساتھ لائی تھی۔ صفیہ کے خاندان میں نہ کوئی پڑھا لکھا تھا اور نہ ہی دور دور تک کوئی دولت مند تھا اور نا ہی صفیہ کی خود کی اتنی حیثیت تھی۔
ایک نہایت ہی چھوٹی سی دکان کے اوپر ڈیڑھ کمرے کا گھر اسکی کل پونجی تھی۔ فضول کا گھمنڈ ، غرور اور جہالت تھی۔ اسے اپنے بیٹے کی شادی کسی امیر تریں گھرانے میں کراکے بلا محنت دولت کمانے کا ارادہ تھا۔ اسلئے رشتے لانے والی ایک خاتون کو رشوت دے دے کر واقعی ایک دن اُس نے ساحل کے لئے ایک امیر گھر سے رشتہ لایا۔انکو لڑکا پسند آیا تو انہوں نے رشتے کے لیے حامی بھرلی۔
شرین سلائی سینٹر جا چکی تھی۔ ساحل نے موقع غنیمت جان کر ماں سے کہا ’’ماں آپ کی خاطر آپ کا منتخب کیا ہوا رشتہ مجھے منظور ہے۔ مگر ماں میری ایک شرط ہے‘‘ صفیہ بہت خوش تھی۔ اس کی دلی مراد پوری ہونے والی تھی اسلئے ساحل سےکہا ہاں ’’کہو بچے وہ کون سی شرط ہے؟ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے‘‘۔ ’’ماں شرین بھی تو شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہے۔ میں اپنی شادی سے پہلے شرین کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرنا چاہتا ہوں‘‘ ساحل نے جواب دیتے ہوئے کہا۔ ہاں میرے بیٹے !بتائو اگر تمہاری نظر میں کوئی امیر گھر ہے، لڑکا جیسا بھی ہو بنا جہیز کے شادی کرنا چاہتا ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ شرین اپنی آئندہ زندگی میں عیش و عشرت سے رہے ۔‘‘ صفیہ نے بڑے میٹھے اور فخریہ انداز میں جواب دیا۔ ’’ماں میں جن لوگوں کی بات کرنے والا ہوں وہ امیر تو نہیں مگر یہ میرا یقین ہے کہ شرین ان کے ساتھ عمر بھر خوش رہے گی۔ لیکن اس کے لیے آپکو میرے ساتھ ایاز کی امی کے پاس چلنا ہوگا تاکہ اسکی ماں سے ہم کھل کر بات کر سکیں‘‘۔ ساحل نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’’ماں وہ بہت ہی اچھے اور شریف لوگ ہیں ۔ مگر انکے اندر اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس رشتے کے لئے پہل کر سکیں۔ ماں میں آپکو بتانا چاہتا ہوں کہ شرین اور ایاز ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ میری نظر میں جہاں دو دلوں کی مرضی ہو وہاں امیری اور غریبی کا مسئلہ اٹھانا ٹھیک نہیں۔‘‘ ساحل نے ماں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ کر کہا۔ اگلے ہی پل ماں کی اصلی صورت سامنے آئی۔ ’’شاباش بیٹا! تمہیں ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ آج کے بعد تمہیں شرین کے بارے میں سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اسکی ماں ہوں جب تک زندہ ہوں ایسا کچھ ہونے نہیں دوں گی۔ تمہیں خبردار کر رہی ہوں کہ آج کے بعد تمہاری زبان پر ایاز کا ذکر بھی نہیں آنا چاہیے۔ شرین کی شادی تو دور کی بات مجھے ایاز کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں ہوتا کیونکہ مجھے اس سرحدی پسماندہ لڑکے اور اسکی ماں سے پہلے سے نفرت ہے ۔‘‘ صفیہ نے دھمکی والے انداز میں ساحل کو جواب دیا۔ ساحل نے اپنی ماں کو ایک بار پھر سمجھایا کہ ’’ماں ایاز با کردار، با ادب، خوبصورت اور محنتی لڑکا ہے ۔ ماں مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ محنتی لوگوں پر اللہ تعالی کسی نہ کسی موڑ پر رزق کے ساتھ ساتھ دولت کے دروازے بھی کھول دیتا ہے۔ ہماری شرین ایاز کے ساتھ خوشگوار زندگی گذار سکتی ہے کیونکہ ماں ہماری شرین بہت ہی مضبوط لڑکی ہے۔ ماں! اپنی بیٹی کو اپنی سوچ کی وجہ سے زندہ لاش مت بناو۔ اسکی خوشیوں کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرو اپنے گھر کے ساتھ ساتھ دوسرے کا گھر جلانا ٹھیک نہیں‘‘ مگر صفیہ نے بیٹے کی خواہش کو رد کردیا۔ ’’تو ماں پھر مجھے بھی معاف کرنا۔ مجھے بھی کسی امیر گھر کا زرخرید غلام بننا منظور نہیں۔‘‘ آج تک اپنی ماں کے کہنے پر چلنے والے بیٹے ساحل نے دو ٹوک لفظوں میں جواب دیا۔ ساحل کا انکار سن کر صفیہ بوکھلاکر آپے سے باہر ہوگئی ۔ ساحل سہم گیا مگر وہ ساحل کو وہیں چھوڑ کر حاجرہ کے پاس جھگڑنے جا پہنچی۔ حاجرہ گھر کا کوئی کام کر رہی تھی۔ باہر صفیہ کی چلانے کی آواز سن کر وہ پہلے حیران ہوئی ۔ اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ لیتی صفیہ جوتوں سمیت کمرے میں گھس گئی۔ چیخ کر حاجرہ سے کہا ’’اے سرحدی دہاتن اگر بیٹے کی شادی کا شوق ہے تو واپس سرحد پر کیوں نہیں جاتی۔ میری بیٹی شرین کو اپنی بہو بنانے کے خواب چھوڑ دے ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ اُس نے بے ہودہ اور فضول باتیں سنا سنا کر حاجرہ کو بے دردی سے زلیل و خوار کیا۔ صبر سے کام لے کر حاجرہ نے اپنے ہاتھ جوڑ کر اپنا دامن پھیلاکر صفیہ سے ایاز اور شرین کی زندگیوں اور خوشیوں کی بھیک مانگ لی۔ ہاتھ جوڑ کر صفیہ کو پیار اور سلیقے سے سمجھاتے ہوئے کہا ’’بہن آپکا ناراض ہونا جائز ہے کیونکہ ہمارے سماج میں شہر سرحد، دیہات قصبہ ، امیری غریبی، ذات پات ، رنگ و نسل اور خاندانوں کے فرق کی روایت کو آج تک بڑے بڑے لوگ، دانشور، عالم اور طاقت والے لوگ مٹا نہ سکے۔ لیکن میری بہن جب بچوں کی زندگی اور خوشیوں کی بات ہو تو ان چیزوں کو نظر انداز کرنا سمجھ داری کا کام ہے ۔ میری بہن ماں تم بھی ہو اور ماں میں بھی ہو اگر ہمارے بچے دکھی رہیں گے تو اسکا درد ہم دونوں کو سہنا پڑے گا ۔ ایک بار سوچ کر تو دیکھ لو‘‘ اسکے لہجے میں درد اور ممتا کی عاجزی تھی مگر صفیہ اس پر حقیرانہ نظر ڈال کر آگ اگلتے اگلتے گھر واپس آگئی ۔ ساحل اپنی ماں کے سامنے ایک بار پھر اپنی بہن کے لئے گڑگڑایا مگر وہ نفی میں سر ہلاتی رہی کیونکہ اس کی نظر میں شرافت، انسانیت اور محبت کی کوئی وقعت نہیں تھی بلکہ اسکی نظر میں غریبی عیب ہی نہیں بلکہ جرم تھا۔
اسکے بعد ایاز نے ساحل کی دوکان پر آنا چھوڑ دیا اور نا ہی کبھی وہ شرین سے ملا۔ داڑھی  کے ساتھ ساتھ بال بڑھ گئے۔ راتوں کو جاگنے سے آنکھیں لال اور سر میں درد ہونے لگا۔ بدن اور لباس پر میل چڑھتے چڑھتے اسکی بری حالت ہوئی ۔ حاجرہ اپنے اور اپنے بیٹے کے آنسوں اپنے آنچل میں جذب کرتے کرتے تھک گئی ۔ ایک بار پھر اسکے زخم ہرے ہوگئے ۔ ایک رات موت کو گلے لگاکر ایاز کو اکیلا چھوڑ گئی ۔ ایاز رات بھر ماں کے سراہنے تنہا بیٹھا رہا۔ ماں کی موت کے ساتھ ساتھ اپنی محبت کا ماتم کرتا رہا۔ اپنے ہاتھ گھسانے کے باوجود نا وہ اپنی محبت کو پا سکا اور نا ہی اس درد کے شہر میں ماں کے لیے دو گز زمین خرید سکا اور نا ہی شہر والے اسے ماں کے لئے دو گز زمین دے سکے۔ دونوں محبتوں کو کھو کر ایاز کے لیے اس درد کے شہر میں رکنے کا کوئی جواز نہ رہا ۔ لاچار ہو کر وہ اپنی محبت کو ماں کی میت کے ساتھ دفنانے سرحد کی طرف روانہ ہوا جہاں حسب معمول آج بھی تنائو کی خبریں آرہی تھیں ۔
ایاز کے چلے جاتے ہی صفیہ کے گھر میں سناٹا چھا گیا۔ شرین نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ۔۔درد کے شہر میں رہتے ہوئے یہ شہر کی شہزادی شرین سرحد اور سرحدی باشندوں کو یاد کرتے کرتے اپنی جوانی کی سرحد کو پار کر گئی مگر مدتوں کے بعد آج بھی وہ جالی لگی کھڑکی کے پیچھے رہ کر اس کوچے کو تکتی رہتی ہے جس کوچے سے کبھی ایاز کے قدموں کی آیا ہوا کرتی تھی ۔
���
پہلگام اننت ناگ،موبائل نمبر؛ 9419038028