تازہ ترین

تشویش

کہانی

تاریخ    28 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
مجید دریا کے کنارے چہل قدمی کرتے کرتے دریا کی روانی پر غور کر رہا تھا ۔وہ سوچ رہا تھا کہ دریا ہمیشہ خاموشی سے ایک ہی راستے دو کناروں کے بیچ بہتا رہتا ہے.اس کے مقابلے میں انسان کی عمر اور طاقت بہت کم ہےلیکن وہ ہر حد پار کرتا ہے۔دریا نہ انسانوں کی طرح  راستے بدلتا ہے اور نہ ہی رنگ۔۔۔انسان اپنی چھوٹی سی عمر میں غرور ،تکبر اور لالچ  کے اندھیروں میں کھو جاتا ہے ا ور پھر اچانک موت کا شکار۔پر یہ دریا اپنے سینے میں لاکھوں راز چھپائے بہتا رہتا ہے ۔
گاؤں کے صاف ستھرے ماحول سے نکل کر شہر کی غلاظت میں بھی اپنا وجود باقی رکھتا ہے ۔ایک انسان ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہےاور ہمیشہ کشمکش میں رہتاہے۔نہ حق کا قائل اور نہ ہی باطل سے مائل۔اسی اثنا میں وہ انورسے ملا اوروہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
مجید :انور اتنے پریشان کیوں ہو ؟ سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے نا! 
انور :سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی ہے لیکن میری دو بیٹیاں شادی کی عمر پار کرنیوالی ہیں ۔۔۔میں پریشان ہوں ۔۔ان کی شادی نہیں ہورہی ہے ۔۔۔یہ غم‌ مجھے  من ہی من میں کھائیے جارہا ہے ۔۔
مجید :تمہاری بیٹیاں تو پڑی لکھی اور خوبصورت ہیں ۔۔ان کا رشتہ تو آسانی سے ہونا چاہیے۔ 
انور :وہ تو ہے۔۔لیکن لڑکے والے تو زمین پر پاؤں ہی نہیں رکھتے ہیں۔ انہیں کسی کی بیٹیوں کی قدر ہی نہیں ۔  ۔۔۔کئی رشتے آئے تھے ۔۔لیکن‌ کوئی نہ کوئی مشکل درپیش آہی جاتی ہے ۔۔۔۔کوئی ہماری حیثیت سے زیادہ جہیز مانگتا ہے تو کوئی اپنی برادری کا نہیں ہوتا ہے ۔
مجید :حبیب کا بیٹا بھی یونیورسٹی سے پی جی کر کے نکلا ہے ۔۔۔تم اگر کہو گے تو میں بات کرسکتا ہوں ۔۔وہ شریف گھرانہ ہے ۔لڑکا نیک ہے اور شرافت کا پیکر بھی۔
انور :لیکن وہ تو بیکار ہے ۔کوئی کام دھندا نہیں کرتا ۔۔
مجید :رزق تو خدا کے ہاتھ میں ہے ۔۔آج نہیں تو کل نوکری مل ہی جائے گی ۔۔اس کا باپ ابھی اچھی کمائی کررہا ہے۔
انور :نہیں ۔۔لڑکا کم‌‌ پڑھا لکھا ہو ۔مگر کمائی اچھی کرتا ہو ۔
میں بے روزگار کو بیٹی نہیں دوں گا ۔
مجید :یکن جو اچھی کمائی کرتا ہے وہ جہیز بھی اچھا مانگتا ہے یا برسر روزگارلڑکی ڈھونڈتا ہے۔
انور :وہ تو ہے ۔
مجید:میری گاؤں میں جان پہچان ہے ۔تم‌اگر چاہو گے تو میں دیکھ لوں گا ۔۔شاید کوئی سرکاری نوکر یا بڑا زمیندار گھرانہ مل جائے۔وہاں لڑکیاں راج کریں گی ۔
انور :گاؤں میں؟ کیا کہہ رہے ہو ۔۔اتنے بھی برے دن نہیں آئے میرے ۔۔
میری بیٹیاں شہر میں پلی بڑی ہیں ۔ان‌ کا رہن سہن ماڈرن ہے۔ انکی پرورش اچھے ماحول میں ہوئی ہے ۔گاوں والے تو آج بھی دھول ،گوبر اور گندگی میں رہتے ہیں ۔میری بیٹیاں اس ماحول میں نہیں رہ سکتیں ۔گاوں والوں سے توشہر کا لولا لنگڑا بہتر ہے۔
مجید :پھر خدا سے دعا مانگو ۔وہ آسمان سے ہی خریدار بھیجے گا۔۔۔ گائوں اب شہروں سے آگے بڑھ چکے ہیں ۔
انور اٹھ کر چلا گیا ۔۔
مجید خود سے کہنے لگا ۔۔۔عجیب انسان ہے۔
اگر ہم یوں ہی بال کی کھال کھینچتے رہے  اور عیب ڈھونڈتے رہے تو لڑکیوں کی شادیاں نہیں جنازے اُٹھنے لگیں گے،لڑکیاں شادی کی عمر ہی نہیں بلکہ پوری زندگی عبور کریں گی اور نکاح کی سنت سے محروم رہیں گی۔۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ زندگی میں وہی کچھ ملے جو ہم چاہتے ہیں۔ کیوں کہ " چاہ" سے بڑھ کر بھی ایک شے ہوتی ہے اور وہ ہے مقدر۔۔۔۔جو بدلتا نہیں بدل دیتا ہے ۔
افسوس ! غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ۔اور ہم  قدامت پرستی ،جہیز اور قوم پرستی کے الجھنوں میں‌ آج بھی قید ہیں ۔۔ یہ معاشرہ کب بدلے گا ۔یہ سوچ کب بدلے گی۔۔۔ہمیں بدلنا ہی ہوگا ۔۔۔اور ان بدعات اور انسانیت سوز رسموں کو کچلنا ہوگا ۔۔یہ سوچتے سوچتے وہ گھر چلا گیا ۔۔
���
قصبہ کھُل کولگام ،موبائل نمبر؛9906598163