تازہ ترین

کروٹ

کہانی

تاریخ    28 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


رحیم رہبر
صبح سویرے پرندوں کا ایک جُھنڈ میرے گھر کی چھت پر نغمہ سرا ہوتا تھا۔ نانی روز بڑے ہی انہماک سے اِن کو دانہ کھلاتی تھی۔ پرندے نانی کے ارد گرد ناچتے تھے، گاتے تھے۔ کبھی اُس کے کندھوں پر اور کبھی اُس کے قصابہ پر بیٹھے تھے۔
میرے آنگن میں ہر روز صبح سویرے یہ دلفریب منظر دیکھنے کو ملتا تھا۔ پرندوں کے لمس سے ہوا کے ہونٹوں میں شہد بھر جاتا تھا۔ میں تخیل کی دُنیا میں کھو جاتا تھا۔
’’چڑیاں گویا آسمان میں بادل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تیر رہے ہیں۔ ان پرندوں کے بغیر یہ آکاش سُونا سُونا سا لگتا ۔۔۔۔ طوطا مینا کی کہانی کچھ پھیکی پڑجاتی۔ پرندوں کی یہ چہچہاہٹ صبح کو دلکش بناتی ہے۔کبوتروں کا یہ گُٹرگُوں صبح کی پُرنور فضا کو نغمگی سے معطر کرتا ہے۔‘‘
پھر میرے ہاتھ خودبخود دعا کے لئے اُٹھتے تھے۔’’اے ربا! پرندوں کی دُنیا کو سدا آباد رکھنا۔ ابابیل بہار کی آمد پر ہمیشہ میرے گھر میں اپنا گھر بسائے۔ یا اللہ! ان ننھے مُنھے پرندوں کی حفاظت کر‘‘
میری دُعا سُنکر نانی آمین کہتی تھی۔ میری نانی پھر مجھ سے کہا کرتی تھی۔ 
’’بیٹا! ان پرندوں کی بدولت ہمارے حصے کا زمین و آسمان ہرا بھرا اور کِھلا کھلا سا لگتا ہے۔ اِن ہی کی وجہ سے دِل کو لبھانے والی چہل پہل ممکن ہوسکتی ہے۔ ان پرندوں کے بغیر صبح کا سماں دہشت کا سا سماں لگتا۔۔۔‘‘
جب بھی کبھی مجھے ماں کی یاد ستاتی تھی میں نانی کی گود میں سر رکھ کر نانی کے چہرے کو تکتا رہتا تھا۔ مجھے نانی کے چہرے کی جھریوں کے گراف میں ماں دکھائی دیتی تھی۔ پھر میں نانی کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کیا کرتا تھا۔
میری نانی اب اس دُنیا میں نہیں ہے۔ بیس سال ہوئے میری نانی کو مجھ سے رخصت ہوئے۔ میری نانی اب اُس دنیا میں ہے جہاں وہ غمِ دوران سے آزاد ہے۔ اب میرے حصے کا آسمان، میرا آنگن کچھ ویران سا لگتا ہے۔ میرے آس پاس اب صرف خموشیاں، اُداسیاں اور مایوسیاں ناچتی ہیں! وہ پرندے نانی کے چلے جانے کے بعد غائب ہوگئے۔ نہ اب مرغا سحر کے وقت ازان دیتا ہے اور نہ ہی اُس بوڑھے چنار پر پرندوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ مخملی گھاس پر وہ اوس کے قطرے ۔۔۔ وہ تتلیوں کا رقص اور وہ پرندوں کا روز صبح سویرے چہچہانا۔۔۔۔ سب کچھ دھیرے دھیرے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ 
’’یادِ ماضی عذاب ہے یا رب، سب یادیں میری سوچ کے ساتھ تحلیل ہوگئیں! میرے عالم محسوسات میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ نفی و اثبات کے خیالات آپس میں ٹکرانے لگے۔ میں خود سے ہم کلام ہوا۔۔۔۔!
’’جب لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں! حق اور فرض کو بھول جاتے ہیں۔ جب خدا بیزاری حد سے گزر جاتی ہے! جب مظلومیت کا گراف بڑھ جاتا ہے اور جب ابنِ آدم فطرت کا سودا گر بن بیٹھا ہے، تب انسان ظالم بن جاتا ہے اور اس میں فرعونی کردار پیدا ہوجاتا ہے۔۔۔‘‘
’’کب تک اپنی دنیا میں مگن رہو گے۔ آجائو کھانا سرد ہوگیا۔‘‘
سلمہ کی تیز آواز نے مجھے گویا گہری نیند سے بیدار کیا۔ آج میری شریک سفر سلمہ کو نہ جانے کیا ہوا تھا۔ وہ صبح سے ہی آزردہ لگتی تھی۔ کبھی خود کو کوستی تھی اور کبھی مجھے۔ جب وجہ پوچھی تو بولی۔ ’’ظالم ہاتھوں نے پرندوں کو بھی نہیں بخشا! کل یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ماہرِ ماحولیات پروفیسر صاحب، ماحول کے تحفظ، کے حوالے سے لیکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے لیکچر میں کہا ۔۔۔
’’آکاش سے باتیں کرنے والے یہ اُونچے اُونچے ٹاور پرندوں کی حسین دنیا کو اُجاڑ دیں گے۔ اِنسان نے فطرت کے ساتھ جنگ چھیڑی ہے! ترقی کے نام پر جنگلات کا صفایا ہورہا ہے۔ بادام اور اخروٹ کے درخت کاٹے جارہے ہیں! جو بھی ہمارے گرد و نواح میں ہورہا ہے۔ اس کا اثر موسم پر بھی پڑسکتا ہے۔ بے موسم بارش۔۔۔ تیز دھوپ۔۔۔ پانی کی قلت۔ ۔۔۔ یہ سب انسانی عمل کا ثمرہ ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہماری یہ خوبصورت وادی صحرا نہ بن جائے۔۔۔‘‘!
’’ہاں۔۔۔ہاںسلمہ۔۔۔ پروفیسر صاحب کا ملال درست ہے۔ صحیح فرمایا ہے اُس نے۔ ہماری اس حسین وادی، جسکو جنت ارضی بھی کہا جاتا ہے، کو درانتی چوم گئی۔
موسم نے کروٹ لے لی۔۔۔!
’’دوش کس کا ہے‘‘ سلمہ نے پوچھا
’’دوش ہر اُس بشر کا ہے جس نے حقیقت سے آنکھیں موند لیں اور ہر موڑ پر کروٹ لی۔۔۔‘‘
���
رابطہ: آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ، موبائل نمبر؛9906534724