تازہ ترین

اسلامی نظام اور اقلیت نوازی

جو اماں ملی تو کہاں ملی!

تاریخ    25 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سیدہ شائستہ مبارک بخاری
 
 اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان نے جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، وہی اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کے زیر اثر بعض غیر مسلم بھائی بہن بھی مسلمانوں سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔اسلام اور اسلامی تاریخ کی لاعلمی کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مسلمان کو دہشت گرد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسلامی نظام کو لوگوں خاص طور پر غیر مسلموں کے لئے ایک خطرہ گردانا جاتا ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔دنیا کے کسی بھی نضام حکومت کا جائزہ لیجیے تو آپ اس نتیجے پر پہنچ جائے گیں کہ اسلامی نظام ہی وہ واحد نظام ہے جہاں ہر ایک انسان کو تحفظ حاصل ہے پھر چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔یہ وہ واحد نظام  ہے جس کے تحت ایک حکمران خود کو بادشاہ تصور کرنے کے بجائے اللہ کا غلام اور انسانوں کا خادم تصور کرنے کا پابند ہے۔ 
 "مسلمانو! میں بادشاہ نہیںہوں کہ تم کو غلام بنانا چاہتا ہوں،میں خدا کا غلام ہوں۔البتہ خلافت کا بار میرے سر پر رکھا گیا ہے۔اگر میں اسی طرح تمہارا کام کروں کہ تم چین سے گھروں میں سو جائوتو میری سعادت ہے اور اگر یہ میری خواہش ہو کہ تم میرے دروازے پر حاضری دو تو میری( العیاذ باللہ) بدبختی ہے ‘‘(الفاروق صفحہ نمبر152)
جنگ ِ قادسیہ میں فتح پانے پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تاریخ کے سب سے زیادہ سخت مزاج مانے جانے والے حکمران حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان سنہری الفاظ پر غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ اسلامی نظام حکومت میں حکمرانی کا مطلب عیش وعشرت ، دولت کمانا اور لوگوں پر دھونس جمانا نہیںجو کہ آج کل کے حکمرانوں کا محبوب مشغلہ بنا ہوا ہے،بلکہ اسلام کو مطلوب حکمران پر قوم وملت کے تئیں وہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کی ادائیگی پر کل اْسے بارگاہ ِخداوندی میں تن تنہا جواب دہ ہونا پڑے گا، اْس کے ہر ہر کام کا باریک بینی سے محاسبہ ہوگا ، اْس کی ہر ہر حرکت کا نیکی اور بدی جانچنے والی میزان میں وزن ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں جب بھی کسی کو حکمرانی کے منصب پر چنا جاتا یا اْس کے ہاتھ پر اطاعت کی بیعت لی جاتی، تو اس حکمران( خلیفہ) پر خوف ِ خدا سے لرزہ طاری ہوجاتا اور وہ اکثر الاوقات اشک بار ہوجاتا۔ 
 اسلام انسانی خدمت ، ادائیگی فرائض اور احساسِ ذمہ داری کا دین ہے۔ یہ دہشت پسند ی کا نہیں بلکہ امن، انصاف، اعتدال وتوازن اور انسانیت کا علمبردار دین ہے۔آج کے دورمیں جب دنیا بھر میں اقلیتیں اکثریت کے ہاتھوں عدم تحفظ کی شکار ہیں، یہاں تک کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان میںجسے کبھی مولانا میاں صاحب علیہ رحمہ نے ’’انسانیت کا دارالخلافہ ‘‘ کہا تھا، اقلیتیں جن کرب ناک اذیتوں، ناانصافیوں، بے نوائیوں اور نفرتوں کے دورسے گزر رہی ہیں ،اْنہیں دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ بے شک اکثریتی طبقے کے سبھی لوگ منافرت اور تعصب کی آگ میں نہیں جھلس رہے مگر ایک مخصوص ذہن اور زورِبازو رکھنے والا طائفہ مسلمان تو مسلمان اپنی ہم مذہب نچلی ذاتوں پر تشدد اور تنفر کے جو تیر آزمائیاں کر رہاہے، وہ انسانیت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019کے ابتدائی چھ ماہ میں181مبینہ قابل نفرین واقعات پیش اAئے جن میں63افراد ہلاک ہوئے۔اسی طرح کے متعدد واقعات دلت برادری کے افراد کو سر عام چلنے،پانی اور اسکولوں سے دور رکھنے سے متعلق تھے۔گا ئے اور غیرت کے نام پر قتل کے 17واقعات رپورٹ ہوئے۔’’ہیومن رائٹس واچ ‘‘کے مطابق ’’ قتل کے اکثر واقعات میں پولیس خود بھی ملوث ہوتی ہے‘‘یہاں تک کہ’’ ڈان نیوز‘‘ کے مطابق2019کے انتخابات میں 40فیصد ایسے افراد کامیاب ہو کر ایوان میں پہنچے جن پر قتل اور بدکاری کے مقدمات قائم ہیں‘‘
 سیرت طیبہؐ گواہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف غیر مسلموں کی دعوت قبول فرماتے بلکہ غیر مسلموں کو مسجد نبوی ؐ تک رسائی دیتے، وہ آپ کی پاک مجلس میں اطمینان سے آجاسکتے اور ان کے لئے وہاں کھانے پینے کا مہمانانہ اہتمام تک کروایا جاتا۔ مولانا شبلی نعمانی اپنی یادگار کتاب ’’الفاروق‘‘ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دور حکمرانی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملکی حقوق کے لحاظ سے ذمیوں اور مسلمانوں میں کوئی تمیز نہیں رکھی تھی۔مسلمان اگر ذمی کو قتل کرتا ہے، تو بے دریغ اس کے قصاص میں قتل کر دیا جاتا تھا۔مسلمان اگر ذمی سے سخت کلامی کرتے تھے تو پاداش کے مستحق ہوتے تھے۔ذمیوں پر جزیہ اور عشر کے سوا کسی قسم کا محصول نہیں لیا جاتا تھا۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں سے زکوٰۃصول کی جاتی تھی جس کی مقدار دونوں سے زیادہ تھی۔‘‘
 چونکہ فاروق عادل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیرت مقدس ؐکے من وعن مقلد تھے،یہی وجہ ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ِخلافت میں غیر مسلم از خودمسلمانوں کے ما تحت رہنے کو خوشی خوشی ترجیح دیتے تھے،یہاں تک کہ کئی بار غیر مسلموں نے مسلمانوں کے ساتھ جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ جنگ ِیرموک کا پر خطر معرکہ پیش آنے سے جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ غیر مسلموں کی حفاظت نہیں کر سکیں گے تو اْن لوگوں کاجزیہ واپس کر دیا گیا ، اْن پر واضح کیا گیا کہ جب مسلمان اْن کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ نہیں لے سکتے تو اْنہیں جزیہ لینے کا بھی کوئی حق نہیں۔یہ لامثال سلوک دیکھ کر لوگ حیران وششدر ہوکررہ گئے۔ 
مساوات اور انسانی حقوق کی علمبرداری کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال کیا ہوسکتی ہے کہ ایک بار جب ایک غلام نے چھپ کر چندی سابور شہر کے لوگوں کو امن کا رقعہ لکھ دیا اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خبر ملی تو انہوں نے فرمایا ’’مسلمان غلام بھی ایک مسلمان ہے اور جس کو اس نے امان دی تمام مسلمان امان دے چکے۔‘‘
سبحان اللہ! ایک غلام کو جس نظام میں اس قدر بلند مقام ومرتبہ حاصل ہو ،بھلا وہ نظام ِانسانیت ورحمت کیوں کر کسی کے لئے خطرہ ہوسکتا ہے؟ جو لوگ حقیقت ِحال جانے بغیر حق دشمنوں کی دیکھا دیکھی میںیہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نعوذباللہ دہشت پسند مذہب ہے اور یہ کہ دین ِاسلام تلوار کے دم سے پھیلا ، وہ مستشرقین کی واہیات اور شدت پسندوں کے جھوٹ نہیں بلکہ سیرت رسول صلی ا للہ علیہ وسلم، دورِ خلافت راشدہ اور صحیح اسلامی تاریخ کا ضرور مطالعہ کریں، انہیں پتہ چلے گا یہ دین تلوار سے نہیں پھیلا بلکہ یہ پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ و سلم کے حسنِ اخلاق اور مسلمانوں کی عمومی انسانیت ہے جس نے لوگوں کو اسلام کا دل وجان سے گرویدہ بنا ڈالا۔
 یہاں اس واقعہ کی یادہانی کر نا شاید مناسب ہوگا کہ ہرمزان ،جو رومی سلطنت کا ایک بہت ہی اہم جنرل تھا، کو جب عمررضی اللہ عنہ کے پاس پابستہ سزا کے لئے حاضر کیا گیا تو ہرمزان نے یہ کہہ کر پینے کے لئے پانی مانگا کہ جب تک میں یہ پانی نہ پی لوں مجھے قتل نہ کیا جائے۔ جناب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بلا توقف مان لی کیونکہ اسلام یہی تعلیم دیتا ہے۔ اس کے بعد ہرمزان نے پانی کا پیالہ نیچے رکھ دیا اور پانی پینے سے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ شرط کے موافق تم مجھے قتل نہیں کر سکتے۔خلیفہ وقت اس مغالطہ پر حیران رہ گئے۔ہرمزان نے کلمہ پڑھا اور کہا کہ’’ میں پہلے ہی اسلام لاچکا تھا لیکن یہ تدبیر اس لئے کی کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ میں نے تلوار کے ڈر سے اسلام قبول کیا۔‘‘
اس سے بہتر حسنِ سلوک مخالفین ، معاندین اور اقلیتوں کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ کے وصال ِابدی کے وقت بھی لوگوں سے وصیت کرتے ہیں: ’’میں تمہیں بطور خاص ہدایت کرتا ہوں کہ اپنے درمیان رہنے والے غیر مسلموں کی جان و مال اور آبرو کے تم محافظ ہو۔اْن کی بابت قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا‘‘
حالانکہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس وقت جان لیوا زخم دینے والا ایک غیر مسلم مجوسی ابو ملجم تھا۔غرض اسلام ہی وہ واحد نظام ِ رحمت ہے جو ہر اعتبار سے انسانیت کے موافق اور امن وسکون کا حامی وداعی ہیاور یہی وہ نظام ِقدرت ہے جس کے تحت ایک چونٹی سے لے کر ایک آدم زاد تک ہر ایک کی جان کو تحفظ واَمان حاصل ہے۔اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کو حقیقی اسلام، قرآن وسنت اور اسلامی تاریخ سے روشناس کرائیں تاکہ لوگ ازخود جان جائیں کہ اسلام وہ مذہب نہیں جس سے کوئی خوف کھایا جائے، جس کے حسن کا تعصب اور تنگ نظری میں بھٹک کر انکارکیاجائے، جس کی روح پرور بہشتی تعلیمات سے اعراض کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس کی انسان دوستی اور اقلیت نوازی کا اعتراف کر نے میں پس وپیش کیا جائے۔ یہی وہ دین ہے جو امن عالم کا واحد ضامن ہے ، جو اقلیتوں کو وقار اور آزادی سے بہرہ ور کرتا ہے ،جو خد مت اور عبادت کو ایک ہی سکے کے دورْخ بتلاتا ہے اور دنیا کو فتح کر نے کی بجائے دلوں کو فتح کر نے کا درس دیتا ہے۔ اس دین ِ رحمت کے تئیں ہمارے دلوں میں جتنی بھی عزت اور محبت موجزن ہو ،وہ کم ہے   ؎
 شاید کہ اْتر جائے تیرے دل میں میری بات
پتہ۔آروہ بیروہ، بڈگام کشمیر
ای میل۔shaistamubark@gmail.com