تازہ ترین

تجھے ڈھونڈتی ہیں یہ پاگل نگاہیں

کہانی

تاریخ    21 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


زاہد ظفر
زندگی کچھ پنوں کی کتاب ہے، جو نئے پرانے،رنگین، بے رنگ،گردآلود،کٹے مڑے کھلی فضا میں کسی کبوتر  کے پنکھوں کی طرح پھڑ پھڑاتے روز کبھی کُھلتے اور کبھی بند ہوتے کہیں دور نکل جاتے ہیں۔ان پھڑپھڑاتے  پنوں میں سے ایک نے دل کے نہ جانے کون سے کونے میں اکیلے گہری سی جگہ بنا لی ہے۔ اس پہ وقت کا دیا ہوا برا لمحہ لکھا پڑا ہے، جسے میں بھولنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ زندگی کو نئی شروعات کی دہلیز پر کھڑا کر کے اس پنے ہی کو اس کتاب سے پھاڑ کر کہیں دور پھینک دینا چاہتی ہوں اور نئے رشتوں میں بندھی خود کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہوں۔
شادی کے بندھن میں خود کو باندھے ایک ہفتہ ہی  ہوا تھا اور کتنا کچھ نیا اپنانا اور پرانا چھوڑنا پڑ رہاہے، نیا گھر،نئے لوگ،نئے رشتے اور نئی جگہ، ان سب کو سمجھنے میں ایک ہفتہ نہیں کئی سال گزر جائیں گے۔۔۔ مدت کے بعد فرصت کے ایک لمحے نے میرے خیالوں کی دہلیز پہ دستک دی کہ میں نے شادی کے تحفے ایک ایک کر کے کھولنے شروع کیے۔ وہ میرے لئے تحفے نہیں بلکہ اُداس مسکراتے چہرے تھے۔ ان میں سے سب سے چھوٹا لال رنگ کی ربن سے بندھا تحفہ مجھے اپنی اور کھینچ رہا تھا۔ اس کے اوپر تہہ کیا ہوا  کاغذ کا ٹکڑا چپکا ہوا ملا۔ میں نے اس کاغذ کے ٹکڑے کو کھولا ایک جانی پہچانی لکھاوٹ تھی شاید کوئی خط تھا۔۔۔ لکھا تھا۔۔۔۔
” میں زیادہ تو آپ کو کچھ نہ دے سکا سوائے محبت کے اور ہاں !میں جانتا ہوں تمہیں زیادہ کی مجھ سے کبھی امید بھی نہیں تھی۔ آج تمہاری شادی ہے کچھ خاص دینا چاہتا تھا لیکن کیا کروں بے بسی کے عالم میں زیادہ سوچنے اور سمجھنے کا موقع ہی کہاں ملا۔ اس لئے دس پنوں والی نوٹ بک دے رہا ہوں. ان دس پنوں پہ تمہاری اور میری ادھوری زندگی کا گزرا ہوا ایک ایک پل اور لمحہ پورے حساب کے ساتھ درج ہے"۔۔۔
 بس اتنا سا تھا وہ خط
میں نے اس لال رنگ کی نوٹ بک کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا۔ جانے کیوں ہاتھوں میں لگی مہندی کا پھیکا رنگ اب نکھر نے لگا تھا۔ بازو میں پہنی خاموش چوڑیاں زور سے کھنکنے لگیں۔ اس نوٹ بک کے پہلے پنے پہ مختلف رنگوں سے سجائے ہوئے میرے اور اس کے نام کے پہلے دو حروف لکھے تھے۔ نہ جانے کیوں میں نے اپنی تھرتھراتی انگلیاں ان دو حروف کے اوپر آہستہ آہستہ پھرنا شروع کیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے دو حروف سے میرا نام مکمل ہوتا ہے ورنہ تو ادھورا ہے۔۔۔انگریزی کے دو حروف کے نیچے لکھا تھا۔۔۔
’’یاد ہے بچپن میں، میں اپنے اور تمہارے نام کے پہلے دو حروف اپنے بازو پہ لکھتا اور مٹاتا رہتا تھا‘‘ من ہی من میں۔’’ہتھیلی پہ تمہارا نام لکھتے ہیں مٹاتے ہیں‘‘ گنگناتا رہتا تھا۔ مجھے گنگناتا دیکھ کہ بہت سے لوگ میرا مذاق اُڑاتے۔ دوست طرح طرح کے سوال کرتے کہ کس کا نام لکھتے اور مٹاتے رہتے ہو۔ میں ہمیشہ ہلکا سا مسکرا تا اور بات ٹال دیتا۔ تم پاس سے گزرتی تو سہم جاتا کہیں تم بازو پہ اپنے نام کا پہلا حرف نہ دیکھ لو۔ یہ دو حروف میرے لئے لفظ بن چکے تھے جن کے معنی کی گہرائی مجھ سے بہتر کون جانتا تھا؟ انگریزی کے ان دو حرفوں سے مجھے اتنی زیادہ محبت ہوئی کہ پھر میں نے تمہارے نام کا ٹیٹو ہی بازو پہ کھدوا لیا۔ پھر دوست تو سمجھے! بس تم ہی نہیں سمجھے کہ تیرے نام کی اہمیت ہماری زندگی میں کتنی ہے۔ ہرے رنگ کا ٹیٹو آج بھی میرے بازو پہ سے نظر آتا ہے بس تمہیں نہیں دکھائی دیتے ۔۔۔
کیسے یاد نہیں ہوگا۔ دو حروف والے ٹیٹو میں نے کئی بار اس کے بائیں بازو پر دیکھا لیکن معنی آج سمجھ رہی تھی ۔۔۔بے پناہ مایوسی اور محبت آج امڈ کے میری رگ رگ میں پیوست ہو رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ میری آنکھیں نم ہو جاتیں میں نے وہ نوٹ بُک بند کر دی۔ میں نے اسے بسترکے اوپر رکھے تکیہ کے نیچے رکھ دیا۔ میں چاہتی تو اسے کہیں اور بھی رکھ سکتی تھیں لیکن نہ جانے کیوں میرے دل کو سکون اور من کو آرام ملتا، جب میں اپنا سر اس پر رکھ کر سو جاتی۔ حالانکہ میں اس نوٹ بک سے نظریں چرانے  کی  لاکھ کوشش کرتی مگر نہ جانے کیوں کبھی کبھی تکیہ اٹھا کے ایک بار دیکھ لیتی۔۔۔
پت جھڑ کے موسم کی ایک اداس رات تیز بارش کی طرح میرا من مچلا اور میں نے وہ نوٹ بک پھر سے نکالی۔ دوسرا پنا پلٹا اور پڑھنا شروع کیا لکھا تھا۔۔۔
 مانتا ہوں وقت کی کروٹ نے سب کچھ دھندلا دھندلا سا کر دیا۔ چھین لئے ہم سے مستقبل کے لمحے لیکن نہیں چھین پایا ماضی کے وہ لمحے جو دفن ہیں میرے احساسات اور جذبات کے پہلو میں ۔ ان دفنائے ہوئے لمحوں میں ایک لمحہ اُس وقت اکثر یاد آجاتا ہے جب میں اپنے کپڑوں کا واڑروب کھولتا ہوں ہو میں نے وہ بلیک ٹی شرٹ واڑ روب میں سب سے آگے ٹانک رکھی ہے جو گواہ ہے تمہاری اور میری پہلی ملاقات کی۔ وہ میری فیورٹ ٹی شرٹ ہوا کرتی تھی جو میں اکثر عید یا کسی خاص فنکشن کے دن پہنا کرتا تھا۔ بڑی مدت سے نہیں پہنی شاید اب میری سائز کی نہیں رہی یا پھر تمہارے جانے کے بعد نہ کوئی عید منائی نہ لسہ فنکشن میں شرکت کی۔۔۔
کتنا ڈرا اور سہما ہوا تھا جب مجھے پہلی بار ملا تھا۔ اس کی پہلی ملاقات میں جھلکتی آنکھیں بہت یاد آ رہی تھیں۔ دل کے دروازے پر ایک خواہش نے دستک دی اور میں اسے ملنے کی خواہش کرنے لگی تھی۔ خواہشات کا کیا وہ جب چاہیں اُبھر آئیں، سہنا تو وجود کو پڑتا ہے، نامکمل خواہشات کا بوجھ۔ ہزار خواہش، لاکھ کوشش لیکن یہ ضد پوری نہیں ہونے والی۔ میں جانتی تھی۔۔۔۔۔ اب تو ایسا لگ رہا تھا نہ جانے وہ کہاں چلے گئے جو دور دور تک بھی نظر نہیں آ رہے۔۔۔ میرا افسوس دھیرے دھیرے غم میں تبدیل ہو رہا تھا اس پورے خزاں میں میں نے خود پہ اختیار رکھا، کچھ اس جھوٹ پر بھی اعتبار کر لیا مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔
اس اعتبارپر خزاں کیسے گزر گیا پتا ہی نہیں چلا پہلی اپریل کو صبح میں نے نوٹ بک کا ایک اور پنہ پلٹا اور پڑھنا شروع کیا۔ شاید کوئی شعرلکھا تھا.....
اک عمر تک میں اس کی ضرورت بنا رہا
پھر یوں ہوا کہ اس کی ضرورت بدل گئی
شاعری اور اس میں پروئے ہوئے الفاظ بس پہیلیوں کی طرح تھے جو مجھ سے کبھی سلجھے نہیں!! آج سب الجھی ہوئی کڑیاں سلجھ تو رہی تھیں لیکن ان الجھی کڑیوں کو کیا خبر کہ تقدیر کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے۔
نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے جب وہ تھے تو کہیں نہیں تھے!! اب وہ نہیں ہیں تو کہیں ہیں۔۔۔
اس نوٹ بک کا ایک ایک لفظ میری زندگی بیان کر رہا تھا۔ نہیں ہو پا رہا تھا مجھ سے کہ ایک پنہ کے بعد دوسرے پنہ کو پڑھا جائے۔ نوٹ بک بند کرتے ہوئے خود کو آئینے میں دیکھا، چہرے پہ بکھری پڑی الجھی زلفیں اور پسینے کی ڈھلتی بوندیں کچھ ادھورا اور خالی خالی سا لگا جیسے کہیں کچھ بھول آئی ہوں میں۔۔۔۔۔ کوئی ایسا پل جو اب نہیں ملنے والا۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا میں زندگی کی بے تاب سڑکوں پہ ان گنت تمناؤں کا بوجھ اور دل میں ایک دھندلی سی یاد لئے بھٹکتی رہی۔ میرا اختیار مجھ پہ سے ختم ہو رہا تھا۔ میں الجھن میں الجھی سوچوں کے سمندر میں بل کھاتی تیرتی کنارے کی تلاش میں ڈوبتی چلی جارہی تھی۔
پردے کے پیچھے کھڑکی کے شیشے پر جمع بھاپ کو ہاتھ سے صاف کرکے باہر دیکھتی ہوں ہلکی ہلکی سی برف چاروں طرف ایک سفید رنگ کی چادر کا عکس چڑھا چکی تھی۔ میرا جسم تھرتھرانے لگا ان سرد لمحوں کو گرم کرنے کے لئے ایک بار پھر نوٹ بک میرے تھرتھراتے ہاتھوں میں آئی۔ تین پنے پلٹنے کے بعد چوتھاپنہ پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔ لکھا تھا!
سفید موتیوں کی مانند چمکتا ہوا تیرا بریسلیٹ، جو تم نے مجھے اپنی کلائی  سے کھول کے دیا تھا، آج سے پندرہ سال پہلے تمہارا کیا ہوا وعدہ یاد دلاتا ہے۔میں نے بھی تمہارے اس کئے ہوئے وعدے کے ساتھ رکھ لیا تھا کہ ہماری شادی کی پہلی رات تم پھر سے میری کلائی میں باندھنا... میں تو اُس رات کے انتظار میں نہ جانے کتنی راتیں جاگتے ہی گزر گیا۔۔۔
میں تمہیں وہ واپس کرنے والا تھا لیکن تمہارے جانے کے بعد میرے پاس ایک یہی تو ہے جس کا سائز دیکھ کر دل کو اس بات سے بہلا تا آیا ہوں کہ بچوں کے کیے ہوئے وعدے بھی کبھی سچ ہوتے ہیں کیا!!!!!!!!!!!!
میرے آنسووں کے قطرے اس کاغذ کے پنے پر گرتے ہوئے لفظوں کو مٹا تے ایک طرف سے دوسری طرف ٹہلتے ہوئے غائب ہو جاتے ہیں. میں جلدی ہاتھ کی ہتھیلی سے صاف کرنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن وہاں اور بہت سارے لفظ اپنا آکار کھو دیتے ہیں اور میں اس ڈر سے اسے بند کر دیتی ہوں۔ اپنے آنچل سے آنسو صاف کرتے ہوئے زندگی کے بیتاب لمحوں میں سے ایک کا سہارا لیتے ہوئے یادوں کی پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے کہیں دور نکل جاتی ہوں۔۔۔
اس نوٹ بک کا پانچواں پنہ بے صبری سے میرا اور میں اس کا انتظار کر رہی تھی کہ پنوں کو پلٹتے ہوئے پانچواں پنہ پڑھنا شروع کیا۔۔۔
 اس شام تم اور میں! تیز بارش لمبی سنسان سڑک کے کنارے گاڑی کے انتظار میں گھنٹوں ایک ہی جگہ بھیگ رہے تھے۔ بارش کا ایک ایک قطرہ تمہارے جسم کے گیلےانگوں کو نمایاں کر رہا تھا۔ تمہارے چہرے اور ہونٹوں پہ بارش کے نمایاں قطرے مجھے تمہاری اور کھینچ رہے تھے۔ بڑی مشکل سے خود کو سنبھال پا رہا تھا میں۔ اپنی جیکٹ اُتار کر تمہیں پہننے کو دی لیکن تم نے بھی یہ کہہ کر پہننے سے انکار کر دیا کہ مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت تمہیں ہے۔ تمہارے چہرے اور ہونٹوں سے گرتے ہوئے وہ بارش کے قطروں کے ساتھ بھیگے وہ لفظ احساس دلا رہے تھے کہ تم میرے لیے کتنی فکرمند ہو۔ تمہاری محبت کی گہرائی کا احساس ہوا اور یہ احساس ایک بار نہیں بار بار ہوتا جب تمہارے اور میرے بیچ میں محبت بھرے ایسے لمحے گزرتے۔ تمہاری مد ہوش آنکھیں ہمیشہ میری محبت کی گواہی دینے میرے سامنے ٹمٹماتی رہتی تھیں۔
    لیکن! پھر بھی تم نے اس رات اک اجنبی کو پہلی ہی نظر میں پسند کر لیا جو تمہیں دیکھنے اور پسند کرنے تمہارے گھر آیا تھا۔ قربان ہوگئی میری محبت اس رات تمہاری اور اس اجنبی کی پہلی ملاقات کے سامنے۔ کیسے نہیں ہوتی تمہیں جو لوایٹ فرسٹ سائٹ ہوا تھا۔۔۔ رشتہ توڑنے کی ہزار وجہیں مل سکتی ہیں دنیا کے بازار میں اور ایک نیا رشتہ بنانے کی صرف ایک ڈھونڈنی ہوتی ہے اپنے دل میں !!!! تم نے ڈھونڈ لی تھی وہ وجہ اس اجنبی کو اپنا بنانے کے لیے۔ تم نے کتنی جلدی اس اجنبی کے ساتھ آپ سے تم تک کا سفر طے کر لیا تھا وہ ایک لمحے کے لیے تمہاری زندگی میں آیا اور تم! برسوں کی امید کے ساتھ بہہ گئی!!!
میرے سامنے اپنے آنکھوں میں بسائے جھوٹ کو پلکوں کے اعتراض سے چھپانے کی کوشش کررہی تھی لیکن وہ ٹمٹماتی آنکھیں صاف گواہی دے رہی تھیں کہ تم کسی اور کے سپنے بن رہی ہو . پھر بھی میری محبت تمہارے فریب کی غلامی کر رہی تھی۔ تمہیں کیا لگا میں سمجھا نہیں کہ میری محبت تمہارے لیے قرضے کی طرح تھی جسے نبھانا نہیں بلکہ چکانا تھا۔ میں تمہارے جسم کی خواہش پوری کرنے والا ایک عام سا لڑکا تھا یا دہلیز پہ کھڑا وہ دربان جو آٹھوں پہر تیرے آگے پیچھے ہاں نا ہاں نا کرتے اپنی زندگی کے بہت سارے سال تمہاری زندگی کے تماشے میں شامل کرکے تمہیں سلجھانے میں ہی گزار گیا۔۔۔ آج بھی تجھے ڈھونڈتی ہیں یہ پاگل نگاہیں اور وجود در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ باقی بچی زندگی کے دن کیسے گزریں گے یہ سوچ کے زندگی جئے جا رہا ہوں۔
قدموں پہ نہ سہا جانے والا جسم کا بوجھ دیوار کا سہارا لیتے ہوئے گھٹنوں کے بل سسکیاں بھرتے فرش پر گر پڑا۔ فرش پر پڑے میری آنکھوں کے خاموش آنسو اور اندر سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز نے اس لمحے کو یاد دلایا جب اس کی آخری ملاقات میں جھلکتی آنکھیں اس کے دل ٹوٹنے کا درد اور  اضطراب بیان کر رہی تھیں۔ میرے دل سے نکلی ہر سسکتی آہ طرح طرح کے سوالات لئے میرے ذہن کی دہلیز پہ گھنٹوں اداسیوں کے ساتھ جواب کی تلاش میں بھٹک رہی تھی۔۔۔
میں اور وقت کتنے برے تھے اس کے لئے۔ خود کتنی آسانی سے بہت آگے نکل گئے اور پیچھے تکلیف میں سے تڑپتا چھوڑ دیا! وہ کہاں ہوگا! کس حال میں ہوگا! کیا کر رہا ہوگا! ٹوٹے دل کے درد اور غم کے ساتھ باقی بچی زندگی کیسے گزر رہا ہوگا۔ میری بے رخی اس کے لئے عذاب بن گئی ہو گی!  یہ احساس مجھے اب ہونےلگا کہ دل کے ٹوٹنے کا درد کیا ہوتا ہے۔ کسی کو سالوں اپنا بنا ئے رکھنا اور پھر اس سے بے رخی کتنی درد ناک ہوتی۔۔۔
میرے پاس بچا ہی کیا تھا۔ سب کچھ کھو چکی تھی میں... اُس کی کچھ یادیں اور میرے بہتے ہوئے آنسو۔ اب ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ نوٹ بک کے باقی بچے پانچ پنے پڑھے جائیں۔
میں نے فیصلہ کر لیا جلا دو گی میں اس نوٹ بک کو حالانکہ باقی بچے پنوں کو نہ پڑھنے کا افسوس مجھے زندگی بھر رہے گا لیکن میں نے ایسا ہی کیا۔ جلا دیا میں نے اس بے جان نوٹ بُک کو۔۔۔
���
کشمیر،ریسرچ سکارلر وشوا بھارتی یونیورسٹی 
موبائل نمبر؛9906700711
zahidzaffar70@gmail.com