تازہ ترین

۔ 2021 میں اسمبلی انتخابات کے آثار نہیں،جو چھینا گیا اسے واپس دیا جائے

مشروط الحاق کے وقت کئے گئے وعدوں کو پورا کیاجائے: عمر عبداللہ

تاریخ    19 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


خالد جاوید
کولگام// نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ 2021 میں اسمبلی انتخابات ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے کیونکہ حد بندی کمیشن کو ایک سال کی توسیع دی گئی ہے اور کون جانتا ہے کہ مستقبل میں کمیشن کو مزید توسیع مل جائے گی یا نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح انتخابات نہیں بلکہ نچلی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانا ہے۔ دمہال ہانجی پورہ کولگام میں این سی کے سینئر لیڈرولی محمدایتو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منعقدہ تقریب کے موقع پر خطاب اور صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ وہ 2021 میں اسمبلی انتخابات ہوتے ہوئے نہیں دیکھتے،حد بندی میں کمیشن ایک سال کی توسیع دی گئی ہے اور اس میں مزید توسیع بھی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا’’میں یہ واضح کردوں کہ میری ترجیح انتخابات نہیں ، یہ دوسروں کے لئے ہوسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ انکی اولین ترجیح نچلی سطح پر پارٹی کو مضبوط بنانا ہے ، جو میں کر رہا ہوں۔
ڈی ڈی سی الیکشن
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے قیام سے خوش ہیں، تو عمر نے کہا ابھی تک انہیں کوئی ترقی نظر نہیں آرہی ہے، این سی کے دور حکومت میں جب پنچایت انتخابات ہوئے تھے تو 90 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی ممبران کو تصاویر بنانے کے مواقع اور سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے، کیونکہ نچلی سطح کو مضبوط بنانے کے لئے یہ انتخابات ہوئے تھے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ حکومت کو ڈی ڈی سی ممبروں کو اختیارات اور ذمہ داریاں بانٹنی چاہیں تاکہ جمہوریت پھل پھول سکے۔انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے کسی بھی لیڈر نے انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا ، ہم نے اُمیدوار کھڑے کئے اور فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیا اور عوام نے جو تعاون اور اشتراک دیا اُس سے ہمارے حوصلے بلند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے بعد ہمارے ڈی ڈی سی ممبران کو مختلف حربے اپنا کر ڈرا اور دھمکایا گیا، دھمکی دی گئی ’’ہم نے ڈاکٹر فاروق اور عمر عبداللہ پر پی ایس اے لگایا تم کون سے کھیت کی مولی ہو‘‘۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر دھاندلیاں نہیں کی گئیں ہوتیں تو ہمارے 14ڈی ڈی سی چیئرمین بن گئے ہوتے۔
مشروط الحاق 
 عمر عبداللہ نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام 5اگست2019کو قبول نہیں کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ جو ہم سے چھینا گیا وہ ہمیں واپس دیا جائے اور ہم اس بات پر قائم ہیں اور رہیں گے ۔انکا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کمزور کیا گیا۔ اور جو خدشات تھے بالکل وہی ہوا، نیشنل کانفرنس کمزور ہوئی اور 5اگست2019ممکن ہوپایا۔آج ہمارا آئین نہ جھنڈا،  ہماری زمین نہ نوکریاںاور نہ ہمارے افسررہے ،لیکن اس کا علاج آج بھی ممکن ہے اور اس کا علاج نیشنل کانفرنس کو طاقتور اور مضبوط بنانا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ جموں وکشمیر کے عوام کا بھلا چاہا ہے ،ہم ہمیشہ وکالت کرتے آئے ہیں اور آج بھی یہی کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مشروط الحاق کے وقت جو وعدے کئے گئے اور جن وعدوں کو آئینی میں درج کرکے عملی جامہ پہنایا گیا اُن کوپورا کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کی بات آتی ہے تو اس کا حل بھی ہم بات چیت کے ذریعے نکالنے کی وکالت کرتے ہیں،لیکن ہماری یہ باتیں کچھ لوگوںکو پسند نہیں آتی اور ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں، ہمیں بکائو اور ملک دشمن کہا جاتا ہے لیکن آخر پر ان لوگوں کو ہماری باتوں پر ہی عمل کرنا پڑتا ہے۔ 2003 کے سیز فائر معاہدے پر عمل پیرا ہونے کے بارے میں ہند پاک ڈی جی ڈی ایم اوز کی حالیہ مفاہمت کے بارے میں عمر نے کہا "ہمیں امید ہے کہ یہ قدم دونوں ملکوں کو قریب لائے گا تاکہ وہ پر امن ماحول میں آزادانہ گفتگو کریں‘‘۔
 

تازہ ترین