تازہ ترین

صاف ستھرائی اور سلیقہ مندی

خانگی ضرورت ہی نہیں بلکہ دین کا تقاضا بھی

تاریخ    18 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


پیر نو ر الدین پنڈت
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خواتین دن بھر کے کام کاج کو انجام دے کر اس قدر تھک جاتی ہیں کہ شام ہوتے ہوتے ذہنی اور جسمانی تھکن سے چور ہوجاتی ہیں ۔ صبح سویرے اٹھنا، بچوں اور شوہر کے لئے ناشتہ بنانا ، بچوں کو کھلانا پلانا ، نہادھو کر انہیں تیار کر کے سکول بھیجنا ، پھر پورے گھر کی صفائی کرنا ، دوسرے کام نمٹانا ، دوپہر سے پہلے پہلے ان کاموں کو نمٹا کر دوپہر کا کھانا بنا نا تاکہ بچوں کو سکول سے لوٹتے ہی کھانا تیار ملے، چائے وغیرہ بھی بنا کے رکھنا۔ غرضیکہ گھریلو کاموں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے۔کپڑوں کی دُھلائی تو آج کل بہت اہم کام ہے۔ بچوں کی آمد کے بعد بھی کئی کام ہوتے ہیں جو خواتین کو انجام دینے ہوتے ہیں ۔ اگر وقت دوپہر سے سہ پہر کے بیچ مل گیا تو آرام نصیب ہوگاورنہ پھر شام کے کام ، شوہر کے گھر لوٹنے کا وقت آپہنچتا ہے اور کام ہے کہ پھر بھی تکمیل کو نہیں پہنچتا۔
ایسے میں شوہر گھر تشریف لاتے ہیںاور گھر میں بچوں کی وردیاں اور دوسرے کپڑے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ کھلونے و دیگر سامان کا بکھرا پن دیکھ کر اُن کا موڈ کچھ بگڑ جاتا ہے ۔ بچوں کا بے ہنگم شور ناگواری کا احساس پیدا کرتا ہے ۔کچن سے نکلتی ہوئی اپنی بیگم صاحبہ کو میلے لباس ، اُلجھے بال اور تھکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر موڈ مزید بگڑ جاتا ہے ۔ وہ ایک کپ چائے کی فرمائش کرنا چاہتے ہیں لیکن بیگم کی بیزاری صورت انہیں ایسا کرنے سے روک دیتی ہے ۔ نتیجتاً شوہر کا دل چاہتا ہے کہ چلو بھاگ چلو کہیں اور صاف ستھری جگہ پر ،جہاں بچوں کا شور نہ ہو ،کوئی بیزاری شکل وصورت نہ ہو ،کوئی مسکر ا کر اس کا استقبال کر نے والا ہوبہت خوشگوار ماحول میں جہاں چائے کا لطف دوبالا ہو اور جہاں سکون کے چند لمحے میسر آسکیںمگر یہ سب کچھ نا ممکن نظر آتا ہے، اس لئے شوہر چڑ چڑا سا ہوجاتا ہے ۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنتی اور جفاکش ہوتی ہیں اور ذمہ داریوں کا بڑا بوجھ ان کے نازک کندھوں پر ہوتا ہے ۔ گھر گرہستی کے کام میں ان کی دلچسپی نہ ہو تو گھر گھر نہیں رہتا۔خواتین صبح سے شام تک گھریلو ذمہ داریاں پوری تن دہی کے ساتھ انجام دیتی ہیں ۔ مرد حضرات جو ملازمت ، تجارت ، دوکانداری ، دستکاری یا مزدوری کرنے کے لئے صبح اپنے گھر کو خیر باد کرتے ہیں اور شام کو تھکے ماندے گھر واپس لوٹتے نہیںتو گھر پہنچ کر انہیں تھوڑا سا سکون ملنا از حد ضروری ہے ۔ جبکہ گھر میں اس کی بیوی گھر کی چار دیواری میں بہت سارے مسائل کو اپنے فہم و شعور سے سلجھاتی ہے ۔اس کے بعد بھی مرد ناراض … خدا را خواتین بتائیں سوچ سمجھ کر بتائیں کہ کیا آپ کے جسم کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے؟کیا آپ کے شوہر کا آپ پر کوئی حق نہیں ہے ۔ آپ شوکر کے لئے بنائو سنگارکیوں نہیں کرتیں۔؟ایک عورت کو اپنے شوہر بنناسنورنا اسلا میں پسندیدہ فعل ہے۔عورت کو شوہر کے لئے بننا سنورنا اسلام میں پسندیدہ عمل ہے جو عورت آنکھ کو نہ لگے وہ دل کو کیا لگے گی ۔خواتین کو شوہروں کی دل بستگی کے لئے اپنے لباس و زیب و زینت کا خیال رکھنا چاہئے۔
حضوراکرم ؐ  کو عورتوں کا کتنا خیال تھا کہ لاعلمی میں وہ اُلجھے بالوں اور گندھے میلے لباس میں اَپنے شوہروں کے سامنے نہ آجائیں ۔ اس لئے انہیں نہاد دھوکر کنگھی کرنے کی مہلت دینا چاہتے تھے ۔ تاکہ شوہر کے دل میں بیزاری یا نفرت احساس پید ا نہ ہو۔آنحضرت ؐ کے زمانہ میں عورتیں اَپنے خاوندوں کی خاطر زیب و زینت سے یا جس طرح اس دور کی عورت شوہر کی موجود گی میں بالعموم آراستہ ہوتی تھیں ۔اس کا ثبوت اس موقعہ سے بھی ملتا ہے ۔ کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عثمان بن مظعون ؓ کی بیوی کو دیکھا۔ اسباب زینت و اچھے لباس سے خالی تھیں ۔ آپ ؓ نے فوراً دریافت کیا  اور کہا ’’ کیا عثمان ؓ کہیں سفر پر گئے ہوئے ہیں‘‘ ( مسند احمد) ۔ یعنی حضرت عائشہ ؓ نے حضرت عثمان ؓ کی بیوی کو تمام لوازمات سے آراستہ نہیں دیکھا تو انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ حضرت عثمان ؓ کہیں باہر گئے ہوئے ہیں ،گھر پر موجود نہیں ہیں ۔
اس کے برعکس جب ہم اپنے سماج اور معاشرے کی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہماری مائیں ، بہنیں ، بہبو ، بیٹیاں اپنے گھروں میں اپنے شوہروں کے سامنے لباس اور ساف ستھرائی کے حوالے سے اتنی گندھی اور میلی کچیلی صورت بناکر سامنے آتی ہیں کہ شوہر اُن کی طرف دیکھنا تو درکنار بات کرنا بھی معیوب سمجھتا ہے ۔ پھر جب انہی حوا کی بیٹیوں کو اپنے گھر سے باہر قدم رکھنا ہوتا ہے تو ایک دُلہن کی طرح اپنے آپ کو سنوارتی اور نکھارتی ہیں اور اس پرطرہ ہے کہ اپنے کپڑوں کو خوشبو دار عطر سے معطر کر کے گھر کے باہر قدم رنجہ ہوتی ہیں… اللہ تعالیٰ ہماری مائوں ، بہنوں ، بہبو بیٹیوں کو عقل سلیم عطا کرے تاکہ وہ دین کے تابع اپنی زندگی گزار سکیں… خواتین کو شوہروں کی دل بستگی کے لئے اپنے آپ کا اپنی صحت کا ، اپنے رہن سہن کا، اپنے لباس و زینت کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔ دن بھر کے کام کاج کا ٹائم ٹیبل اس طرح ترتیب دیں کہ سارا کام شوہر کے آنے سے پہلے نمٹ جائے اور آپ نہا دھو کر خوش خرم تیار ہوجائیں اور جب صبح گئے ہوئے تھکے ماندے شوہر گھر آئیں تو انہیں اچھا خوشگوار ماحول دیں۔ ان کا ہنستے ہنستے استقبال کریں۔ آپ کی مسکراہٹ دیکھ کر ہی ان کی آدھی تھکان دُور ہوجائے گی۔ دم سنبھالتے ہی ان کے لئے گرم چائے کا کپ تیار کر کے لائیں اور خوش کن باتوں سے انکا دل لبھائیں ۔ دن بھر کے کمر توڑ کام کا رونا نہ روئیں۔ آپ کی محنت و مشقت ان سے چھپی تو نہیں رہتی ۔ وہ آپ کی جانفشانی کا دل سے اعتراف کرتے ہیں۔دل ہی دل میں تعریف بھی کرتے ہیں۔ ہاں کچھ مرد تعریف کے معاملے میں کنجوس ہوتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کی خدمات اور جانفشانی کے معترف نہیں ہیں ۔ اگر مرد حضرات بھی اپنی بیوی کی محنت اور لگن زندگی کے تئیں ان کی ایمانداری ، وفاداری اور سنجیدگی کا کھلے دِل سے اعتراف کریں تو بیوی کے لئے شوہر کے چند پیار بھر میٹھے بول محبت ، شفقت اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ قوت بدن بڑھانے کی ایک اکسیر ٹانک ثابت ہوں گے۔ بنائو سِنگار عورت کا فطری حق ہے اور اسلام اس جذبے کو مٹاتا نہیں بلکہ اُبھارتا ہے البتہ اس جذبے کے لئے ایک مرکز مہیا کرتا ہے اور عورت کو تاکید کرتا ہے کہ اس کی ساری زیب و زینت اور رعنائی صرف اپنے رفیق حیات کے لئے ہونی چاہئے ۔ اگر کوئی عورت ظاہری حسن و جمال سے محروم ہو،وہ بھی اپنی سلیقہ شعاری اور ہنر مندی سے شوہر کے لئے پیارو محبت کا مرکز بن سکتی ہے ۔ پھر سلیقہ مندی اور آرائش و زیبائش کے لئے ضروری نہیں کہ عورت دولت مند ہو اور گھر میں ہر طرح کا قیمتی سامان موجود ہو ۔ بلکہ خدا نے جوکچھ دیا ہے اُسی پر اکتفا کر کے حُسن ِ ذوق سے گھر صاف ستھرا رکھ کر بالکل قرینے سے ہر چیز اپنی اپنی جگہ ترتیب سے رکھیں۔یہ وہ خوبیاں ہیں جن کے ذریعے گھریلو زندگی عیش عشرت سکون و اطمینان پیارو محبت اور خیرو برکت سے جنت کا نمونہ بن جاتی ہے ۔
شوہر کی نظر میں وہی بیوی قابل قدر ہے جو شوہر کو دوسروں کا احسان مند بنانے کے بجائے دوسروں کی نظر میں شوہر کی قدر و قیمت بڑھائے۔صبر و قناعت کے ساتھ خوشی خوشی زندگی بسر کرے اور اس حکمت اور سلیقے سے گھر کا نظام چلائے کہ کسی بھی وقت دوسروں کی محتاج نہ رہے ۔ صاف ستھرائی اور سلیقہ مندی محض ایک خانگی ضرورت ہی نہیں بلکہ دین و مذہب کا تقاضا بھی ہے ۔ بد ن اور لباس کی پاکی و صفائی شوہر کی خاطر بنائو سنگار، گھر کے سازو سامان کا سلیقے سے استعمال اور حفاظت مسلمان بیوی کی وہ خوبیاں ہیں جن سے وہ محض اپنے شوہر کے دل میں جگہ کرتی ہے بلکہ اپنے خدا اور پیغمبر خدا ؐ کو بھی خوش کرتی ہیں اور اپنی عاقبت بھی سنوارتی ہیں۔اللہ تعالیٰ میاں بیوی کو عقل سلیم عطا کرے۔آمین 
(مضمون نگارصدر فلاح وبہبود کمیٹی خواجہ بازار ،نوہٹہ سرینگر ہیں ۔رابطہ۔2471176)