تازہ ترین

بنیادی اقدار کا فقدان…ہمارا اجتماعی رویہ

حسبِ حال

تاریخ    16 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل بشیر کار بارہمولہ
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھا جس میں کچھ غیرملکی سیّاح سرینگر کے سڑکوں کی صفائی کر رہے تھے۔بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ کشمیر کے حسن سے متاثر ہوئے لیکن شہر سرینگرکے بازار میںجب انہوں نے گندگی اور کوڑاکرکٹ دیکھا تو آپ ہی بڑے لفافے اٹھائے اور اس میں کوڑا جمع کرنے لگ گئے۔ویڈیو میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہی پاس ہی کوڈہ دان تھا، اس کے باوجود لوگوں نے گندگی سڑک پر ڈالی ہوئی تھی۔ ویڈیو میں ایک مقامی کشمیری ہنس ہنس کر دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ دیکھو اب انگریز ہماری صفائی کرنے کے لیے آگئے ہیں۔ یہ ویڈیو دیکھ کر سر شرم سے جھک جانا چاہیے تھا۔ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سڑک پر کیچڑ ڈالنے والے کو شفاعت نہیں ملے گی۔ یہ وہ دین ہے جس میں طہارت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ہم گھروں کا کیچڑ اٹھا کر ہمسایہ کے گھر کے سامنے یا سڑک پر ڈالتے ہیں۔ حیرت اور افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم غلط کر رہے ہیں۔کئی بارٹرین میںبارہمولہ سے بانہال جانے کا اتفاق ہوا۔ٹرین نے کوڈہ دان کی شکل اختیارکی تھی۔برادرانِ قوم کی ایسی بے حسی دیکھ کر شرم سے سر جھک جاتا ہے ۔ لوگ اکل وشرب کی چیزیںسُپردشکم کرکے چھلکے اور کاغذ ٹرین میں ڈالتے ہیں۔ کسی بھی پبلک لیٹرین میں جائیں یقین نہیں ہوتا کہ اس کو استعمال کرنے والا انسان ہی تھاحتیٰ کہ مساجد میں بنائے گئے پاخانوںکی حالت بھی انتہائی گندی ہوتی ہے ۔ جو چیز کبھی ہمارا اثاثہ اور ہماری شان ہوا کرتی تھی اب وہ مغربی معاشرہ کی خصوصیات ہیں۔
 کچھ ہی عرصہ قبل ایک ہسپتال میں کسی مریض کا انتقال ہوا۔ لواحقین کا الزام تھا کہ ڈاکٹروں کی لاپروائی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے ہسپتال کے شیشے توڑنے شروع کئے۔ کئی مشینوں کو بھی توڑا۔ اگر یہ تسلیم بھی کیا جائے کہ ڈاکٹروں کی غلطی تھی اس کے باوجود ہسپتال کے شیشے ٹوڑنا، پبلک اثاثہ کوتہہ وبالاکرنا،اس عمل کی کیا تک بنتی ہے؟سرکاری اسکولوں یا دفاتر کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے کیونکہ ہم پبلک پراپرٹی کو اپنی پراپرٹی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ ہی نہیں آتا کہ یہ سب ہمارے ٹکس سے بنی پراپرٹی ہے۔
نماز جمعہ مسجد شریف میں نماز پڑھنے کے دوران کئی لوگ کھانس رہے تھے۔میرے پاس میں بیٹھا ہوا شخص بار بار کھانس رہا تھا، اس کو زکام بھی تھا لیکن اس نے ماسک نہیں پہنی تھی۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ کرونا کی دوسری لہر چل رہی ہے اور اثرات ہونے کے باوجود وہ ماسک پہنے نہیں تھا۔ میں نے سوچا کب نماز ختم ہو اور میں گھر کی طرف کھسک لوں۔راقم نے کئی احباب کو کرونا سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ کس طرح پوری فیملی پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ خدا نہ کرے یہ شخص پازیٹو ہو،ہوسکتا ہے اس کی قوت مدافعت اچھی ہو لیکن پوری مسجد میں سینکڑوں افراد ہیں جن میں کسی کی قوت مدافعت کم بھی ہو سکتی ہے، ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہماری لاپرواہی سے کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ہمارے دین میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے لہسن کھایا ہو اس کو چاہئے مسجد نہ آئے تاکہ کسی کو بدبو سے تکلیف نہ ہو۔ دیہات کی مساجد میں حمام پر بہت زیادہ بدبو ہوتی ہے کیونکہ لوگ موزے، ٹاول. حمام پر ہی سکھاتے ہیں۔ 
یہ چند مثالیں صرف اس وجہ سے دیں تاکہ ہم اپنے اجتماعی رویہ کا جائزہ لیں، لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قوم کے مصلحین بھی اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ لوگوں کو بنیادی اقدار نہیں سکھاتے۔ صبح ریڈیو پر ایک مولوی صاحب ’سپانسر پروگرام‘ میں لوگوں کو نام تبدیل کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔مسجد کے امام صاحب خطبہ کے دوران لوگوں کو کہہ رہا تھا کہ معراج کے موقع پر حضورﷺ کو جو پیالے پیش کیے گئے وہ دو تھے یا چار۔۔۔اگر ہم عالمی یا لوکل مسائل پر بات کرنے سے قاصر ہیں کم از کم ہمیں قوم کو بنیادی اقدار سکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمارے پاس جمعہ خطبہ ایک بہترین وموثر میڈیا ہے لیکن یہ میڈیا ہم فروعی مسائل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قوم کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ تھوکنا کیسے ہے،ڈسٹ بن کیسے استعمال کرنا ہے، پبلک لیٹرین کیسے استعمال کرنی ہے، پبلک پراپرٹی کی حفاظت کیسے کرنی چاہئے، پینے کا پانی ضائع نہیں کرنا چاہیے وغیرہ۔ اسلام میں اعلیٰ اخلاقی اقدار لازم و ملزوم ہیں۔ اس کے بغیر قومیں عروج نہیں پاتیں۔