تازہ ترین

ڈوڈہ اور کشتواڑ میں گستاخِ قران وسیم رضوی کے خلاف احتجاج

تاریخ    16 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک+عاصف بٹ
ڈوڈہ+کشتواڑ //قرآن مجید کی گستاخی کرنے پر ڈوڈہ کی مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وسیم رضوی جیسے سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھرضلع کشتواڑ کی تحصیل ٹھکرائی میں عوام نے گستاخِ قران وسیم رضوی کے خلاف زودداراحتجاج کیا اور اسکے خلاف نعرے بازی کی۔ڈوڈہ میں سیاسی و سماجی کارکن ریاض احمد زرگر نے کہا کہ ایسے لوگ کسی بھی مذہب کے خیر خواہ نہیں ہوتے بلکہ وہ جھوٹی شہرت حاصل کرنے و سماج کو تقسیم کرنے کی خاطر اسطرح کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وسیم رضوی کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس دوران امام و خطیب مرکزی جامع مسجد کاہرہ مفتی پرویز احمد کی سربراہی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران وسیم رضوی کے خلاف سخت نعرہ بازی کرتے ہوئے یوٹی و مرکزی حکومت سے سنجیدہ قدم اٹھانے کی مانگ کی۔ مفتی پرویز نے کہا کہ قرآن مجید عالم انسانیت کے لئے باعث ہدائت و رحمت ہے اور وسیم رضوی جیسے گستاخ کی مجال نہیں ہے کہ وہ قرآن پر سوال اٹھائے۔انجمن اسلامیہ جنرل سیکرٹری نیلی بھلیسہ مولانا عرفان ندوی نے قرآن کریم کے بارے میں استعمال کئے گئے توہین آمیز الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے اسے معاشرے میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس دوران ضلع کشتواڑ کی تحصیل ٹھکرائی میں عوام نے گستاخِ قران وسیم رضوی کے خلاف زودداراحتجاج کیا اور اسکے خلاف نعرے بازی کی۔ منتتھالہ ٹھکرائی میں احتجاج کررہے مقامی لوگوں نے گستاخِ قرآن وسیم رضوی کو پھانسی لگانے کی مانگ کی۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے امام مسجدٹھکرائی نے کہا کہ وسیم رضوی قران کریم کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہے یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور اس کتاب کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے گستاخی ہے۔ انھوں نے اسے پھانسی دی جانی چاہئے ۔وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم مورچہ کشتواڑ کے ضلع صدرشاکر حسین گیری نے بھی اسکی مذمت کی۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں وسیم رضوی کی طرف سے قران قریم و اسکی آیتوں پر دائر کی گی عرضی کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ناقابل برداشت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم مورچہ کشتواڑ گستاخِ قران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
 
 
 

پونچھ کے سیاسی، سماجی مذہبی شخصیات کا وسیم رضوی سے اظہار برأت و بیزاری

 حسین محتشم
پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ کے تمام انصاف پسند انسان اور ہر باشعور مسلمان وسیم رضوی فتنہ گر سے اظہار برائت و بیزاری کررہے ہیں اور ملک کی سب سے مقتدر عدالت سے یہ درخواست کررہے ہیں کہ وہ اس فتنہ پرور کی شیطنت پر توجہ نہ دیں بلکہ اس کی فتنہ پروری کے پیچھے کار فرما اوقاف کے سلسلے میں اس کی بے ایمانیوں پر اسے قرار واقعی سزا سنائے۔ قرآن کریم کے سلسلے میں وسیم رضوی کے حالیہ بے بنیاد بیان پر مذمتی پریس کانفرنس کے دوران سابق ڈپٹی چیئرمین قانون سازکونسل جہانگیر حسین میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید کی شان میں گستاخی اور تحریف کا الزام لگا کر وسیم رضوی نے اپنے جاہل اور مجنون ہونے کا کھلا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ شخص مجنون ہے جس نے ناقابل معافی شیطانی حرکت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نے جہاں مالک کائنات سے بغاوت اور دشمنی کااعلان کیا ہے وہیں دنیاکے ایک ارب سے زیادہ قران پر ایمان رکھنے والوں کی دل آزاری کی ہے ۔انہوں نے کہا ہر انصاف پسند انسان اور ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فتنہ گر سے اظہار برائت و بیزاری کرے اور ملک کی سب سے مقتدر عدالت سے یہ درخواست کرے کہ وہ اس فتنہ پرور کی شیطنت پر توجہ نہ دیں بلکہ اس کی فتنہ پروری کے پیچھے کار فرما اوقاف کے سلسلے میں اس کی بے ایمانیوں پر اسے قرار واقعی سزا سنائے۔سابق ایم ایل اے پونچھ شاہ محمد تانترے نے بھی کہا کہ وہ اس شخص کا نام بھی نہیں لینا چاہتے جس نے اللہ کی مقدس کتاب کی توہین کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم مذہب اسلام سے تعلق رکھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قرآن مقدس واحد کتاب ہے جو کروڑوں لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جو بھی اس پاک کتاب سے ٹکرائے گا وہ چور چور ہوجائے گا ۔گردوارہ پر بندھک کمیٹی پونچھ کے سکریٹری سردار سرجن سنگھ نے بھی اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مقدس کتاب میں ترمیم یا تحریف کرنا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وسیم رضوی کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔عوامی پیر پنچال پارٹی کے بانی ایڈوکیٹ محمد یونس چوہان نے بھی ایک پریس کانفرنس کر کے وسیم رضوی کے اقدام پر اظہار برہمی کیا۔ریسرچ سکالر صدر الدین محمدی، ایڈوکیٹ محمد زمان، تاج میر اور سجاد پونچھی نے بھی اپنے اپنے بیانات میں وسیم رضوی کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سوچی سمجھی سازش کو سمجھتے ہوئے امن و امان کی صورت حال کو قائم رکھیں۔ ادھر بار سرنکوٹ کی جانب سے سرنکوٹ کے صدر مقام پر ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی جس میں بار سرنکوٹ کے سینئر وکلاء نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلا واقعہ ملک میں پیش آیا ہے جس میں قرآن کی آیتوں کو کھلے عام انکار کرنا اورقرآن میں مداخلت کرنے کی عدالت میں پی آئی ایل دائر کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے مرتد کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔انھوں نے کہا کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے خلاف ایک سخت قانون بنائے جس میں کسی کو بھی ایک دوسرے کے مذہب کو ٹھس پہنچانے کی کوشش نہ کر سکے۔ انھوں نے کہاکہ وسیم رضوی سلمان رشدی کی طرح اسلام کو بدنام کرنا چاہتا ہے اور امت میں تفرقہ پھیلانے کا کام کر رہا ہے۔
 
 
 

پولیس سٹیشن تھنہ منڈی میں وسیم رضوی کے خلاف شکایت درج | حکومت سے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت فوری گرفتاری کی مانگ 

 نمائندہ عظمیٰ
تھنہ منڈی //تھنہ منڈی کے نوجوانوں نے علماء کرام اور سیاسی کارکنان کے ہمراہ غوثیہ جامع مسجد تھنہ منڈی کے امام وخطیب حافظ محمد نصیر الدین نقشبندی کی قیادت میں وسیم رضوی کے متنازعہ بیان کے خلاف تھنہ منڈی پولیس سٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا موصوف نے کہا کہ وسیم رضوی نے غیر انسانی طور پر قرآنی آیات پر اعتراض کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر بہتان تراشی کی جسارت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی کی یہ جسارت کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایسی طاقتیں اور ایسے  شر پسند عناصر کارفرما ہیں کہ جن کو وطن عزیز بھارت کے لوگوں کا آپسی بھائی چارہ اور امن و آشتی ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔انھوں نے وسیم رضوی کی حماقت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس شخص سے ملک میں بدامنی پھیلنے کا اندیشہ ہو اس کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمہ درج کر کے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے۔ انہوں نے کہا وسیم رضوی کی جانب سے کلام مجید کی 26 آیتوں کو ختم کرنے کی سپریم کورٹ میں دائر عرضی کے خلاف ملک میں ہر طرف مذمت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا کی وساطت سے عدالت عالیہ سے درخواست کی کہ وسیم رضوی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کو مسترد کیا جائے کیونکہ یہ عرضی بحث کے لائق نہیں ہے۔بلکہ وسیم رضوی کے خلاف فوری طور پر PSA کے تحت کارروائی کی جائے ۔