تازہ ترین

۔12ماہ بعد پرائمری سطح کی تعلیمی سرگرمیاں شروع

ایک سال تک بند رہنے کے بعد سبھی تعلیمی ادارے فعال،کورونا عملیاتی طریقہ کار پر سختی سے عملدر آمد

تاریخ    16 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//وادی میںایک سال کے طویل عرصے کے بعد پرائمری سطح کے اسکولوں میں درس و تدریس کا سلسلہ پیر سے شروع ہوا۔اس طرح  کورونا وائرس لاک ڈائون کے بعد سکولوں کو 12ماہ بعد مکمل طور پر فعال بنایا گیا ہے۔یکم مارچ سے 9ویں جماعت سے 12ویں تک کے کلاسز شروع ہوئے۔ اسکے بعد 8مارچ سے چھٹی سے آٹھویں تک مڈل سطح کے کلاسزمیںتعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور اب 15مارچ سے پرائمری سطح تک سکول کھل گئے ہیں۔پیر کوشہر ،قصبہ جات اوردیہات کی سڑکوںپر بچے اوربچیاں اپنے والدین کے ہمراہ سکولی گاڑیوں کا انتظار کرتے نظر آئے۔ بچوں  نے طویل عرصے بعداسکولوں کارُخ کیا تواُن کے چہروں پرخوشی صاف نظرآرہی تھی،لیکن ماسک کی وجہ سے ان معصومین کی مسکان نظرنہیں آرہی تھی ۔ اسکولی وردیوں میں ملبوس کئی علاقوں کے بچوں کو خود ہی سکول جانا پڑا کیونکہ پہلے دن گاڑیوں کا انتظام کرنے میں انہین دشواریاں پیش آئیں۔بیشتر سکولوں میں تین دنوں تک نویں اور دسویں کے کلاسز لینے کا عمل شروع کیا گیا ہے جبکہ باقی تین دنوں میں مڈل کلاسز لئے جارہے ہیں۔پرائمری سطح کے کلاسز میں جفت طاق کی بنیاد پر بچوں کو آنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اسکول منتظمین نے معیاری عملیاتی طریقہ کار اپناتے ہوئے ہفتے کے پہلے تین دنوں میں طاق اور آئندہ تین دنوں میں جفت رول نمبر والے طلاب کو اسکولوں میں درس و تدریس کیلئے حاضری دینے کی ہدایت دی ہے۔نجی اسکولوں کے منتظمین نے فیصلہ کیاہے کہ پچاس فیصدطلاب کوہی اسکول آنے کیلئے کہاجائے گا ،اورہفتے میں تین تین دن مختلف کلاسز یاجماعتوں میں زیرتعلیم طلباء وطالبات کیلئے مخصوص رکھے جائیں گے ۔سبھی بچوں نے چہرے کو ماسک سے ڈھانپ لیا تھا اور ہاتھوں میں سینی ٹائزر تھا۔سبھی سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں کے داخلی دروازوں پربچے بچیوںکوعملیاتی طریقہ کار کے اُن قواعد وضوابط کی سرحدسے گزرناپڑا ،جو انتظامیہ نے کوروناوائرس کی روکتھام کیلئے لازمی قرار دئیے ہیں ۔داخلی دروازوں پر سکولوں کے ملازمین رکھے گئے تھے، جو ہر بچے کی تھرمل سکریننگ کرنے کے بعد انکے ہاتھوں پر سینی ٹائزر کی پھوار چھڑک کر ہی انہیں سکول کے اندر آنے کی اجازت دے رہے تھے۔بچوں کو قطاروں میں سکول کے اندر جانے کی اجازت دی جارہی تھی اور کمروں میں بچوں کے درمیان فاصلے رکھے گئے تھے۔یہی عمل سکولوں سے چھٹی ہونے کے بعد دہرایا گیا۔کئی سکولوں کے منتظمین نے کہا ہے کہ بچوں کی مکمل تعداد سکولوں میں حاضر نہیں ہوئی نیز کئی علاقوں میں قائم سکولوں میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات میسر نہیں تھی کیونکہ کورونا لاک ڈائون کے بعد بیشتر سکولوں نے گاڑیوں کے درائیوروں کی چھٹی کی تھی اور ابھی وہ نئے ڈرائیوروں کو لانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔بیشر سکولی بچوں نے کہا ہے کہ انہیں صبح کے وقت دو گھنٹے تک سکول کی گاڑیوں میں متعدد علاقوں سے گذرنا پڑا کیونکہ سکولوں کے منتظمین نے گاڑیوں کو پرانے روٹوں پر دوبارہ بحال نہیں کیا ہے بلکہ کم گاڑیوں کو استعمال کر کے بچوں کو کئی کئی گھنٹوں تک گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور کیا گیا۔