تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    14 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سرشار میرا قلب ہے میخوار کی طررح
اقرار عشق کرتا ہے انکار کی طرح
سانسوں کی پٹریوں پہ گزرتی ہے زندکی
بالکل بلٹ ٹرین کی رفتار کی طرح
جیسے پھٹی پڑانی سی گدڑی میں لعل ہو
پنجال میں پڑا ہوں میں بیکار کی طرح
جب سے وہ اپنے گاؤں کا پردھان ہوگیا
کلوا کے ہاؤ بھاؤ ہیں سردار کی طرح
ہم سے تو کوئی بات چھپائی نہ جائے ہے
چہرہ ہمارا دکھتا ہے اخبار کی طرح
چھٹی پھر ان کو چاہیے دو چار روز کی
صورت بنا کے آئے ہیں بیمار کی طرح
پھولوں کی طرح ہم نے سجائے تمام غم
رونق ہمارے دل میں ہے بازار کی طرح
وارث ہم آپ کو بھی بتائیں گے میر کے
کوئی غزل تو لائیے شہکار کی طرح
تیرا حریف اس قدر چالاک ہے اے شمسؔ
دکھتا ہے نہیں ہے برسر پیکار کی طرح
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛ 9086180380
 
 
کچھ حادثے ہیں مگر نوکِ زباں کہاں سے لائوں
اِس درد ناتمام کا عنواں کہان سے لائوں
میرؔ، حالیؔ و غالبؔ کی زباں کہاں سے لائوں
وہ روایاتِ ادب کے پاسباں کہاں سے لائوں
مئے اخوّت سے سرشار ہو قلب و وجود!
ایسا بادئہ کشاں کہاں سے لائوں
در از دستیٔ صَر صَر سے جو بچا ہو!
نشیمن کہاں سے لائوں آشیاں کہاں سے لائوں
موسم کے خونخوار جھونکوں سے لَت پَت!
لہو کے داغ نہ ہوں گریباں کہاں سے لائوں
گُم شُدہ ہیں منزلیں دل شکن مرحلے ہیں!
دِل کا شِناسا ہو راز داں کہاں سے لائوں
خون کے دھبے ہیں برگ و بار پہ فائقؔ!
اِنہیں سُنانے کا طرزِ بیاں کہاں سے لائوں
 
عبدالمجید فائقؔادھمپوری
ادھمپور جموں
موبائل نمبر؛9682129775
 
 
بسمل نے بنائی ہے تصویر اُداسی کی
پہنائی ہے دنیا کو زنجیر اُداسی کی
ہیں آپ اُداسی کے کس شہر کے باشندہ؟
ہے آپ کے لہجے میں تاثیر اُداسی کی
کل عشق و محبت کی تشریح مکمّل کی
لکھنے کو ہے اب خامہ تفسیر اُداسی کی
تقدیر کا مارا ہوں رنجوری ہے قسمت میں!
 لکّھی ہے خدایا کیوں تقدیر اُداسی کی
خوش دل ہوں نہایت ہی،میں ایک زمانے سے 
اب کوئی بتائے تو تدبیر اُداسی کی
حیران کیا بسملؔ نے مجلسِ فرحت کو
کر ڈالی وہاں اس نے تقریر اُداسی کی
 
سید مرتضیٰ بسمل
طالب علم شعبہ اردو، ساؤتھ کیمپس یونیورسٹی آف کشمیر 
موبائل نمبر؛6005901367
 
 
تم بھی اک بار تو ملنے کی تمنا کرتے
یا نہیں تو ذرا غیروں کو دکھاوا کرتے
تم گزرتے ہو سنور کے جو مرے کوچے سے
ہم اگر عشق نہ کرتے تو بتا کیا کرتے؟
لوگ کہتے ہیں کہ اعجاز صفت ہے تجھ میں
دردِ دل ٹھیک مرے آج مسیحا کرتے
پاسِ دنیا بھی ضروری ہے، سمجھتے ہیں ہم
چُھپ کے ملنے کا کوئی ایک اشارہ کرتے
تم مرے بس مرے ہو، بس میں نہیں ہے گرچہ
تم بھی اک بار مری طرح یہ دعویٰ کرتے
کوئی ہنستا ہے اگر تو انہیں ہنسنے دیجئے
یوں ہنسی کو مرے یارا نہیں چھینا کرتے
دشتِ وحشت ہے تری یاد بھی کیا کچھ کم تھی
غمِ دنیا سے غمِ عشق نکالا کرتے
تیرا الیاسؔ سہارا ہی غمِ جاناں ہے
غمِ دوراں کو بھی اچھا تھا کہ پالاکرتے
 
محمد الیاس کرگلی 
 پی ایچ ڈی اسکالر ، دہلی یونیورسٹی
موبائل نمبر؛6005412339   
 
 
اظہارِ شوخیٔ جذبات ابھی باقی ہے
اُن سے آخری ملاقات ابھی باقی ہے
 
کی ہیں کتنی ہی باتیں یوں ہم سے
دل کی ہے جو مگر بات ابھی باقی ہے
 
کہکشاں، چاند ستارے تو چمکتے ہیں
میرے پہلو میںجواں رات ابھی باقی ہے
 
دل کی حسرت سے یوں مایوس نا ہو تم
فرطِ جذبات کی وہ بات ابھی باقی ہے 
 
صورت دل میں چُھپائے ہے غم کے بادل
خوشیوں کی برسات ابھی باقی ہے
 
صورت سنگھ
رام بن ، جموں
موبائل نمبر؛9419364549
 
لوٹ آتے ہیں تو گھر وہ بلاتے ہیں اکثر 
تھوڑی مسکان کے بعد رُلاتے ہیں اکثر
 
کون لڑ سکتا ہے حالات سے، اپنے یاں تو
راکھ کے ڈھیر کو بھی جلاتے ہیں اکثر
 
شہرِ ناشاد میں کس کو کہیں گے اپنا
وہ جو اپنے ہیں وہی نام مٹاتے ہیں اکثر
 
بیت صدیاں گئیں غفلت میں یہاں پر میری
مرگ اور زیست کے رستے وہ دکھاتے ہیں اکثر
 
اُلجھے رہتے ہیں ہم روٹھے مقدر سے صدا
یاسؔ کو کھیل یہ کیوں وہ دکھاتے ہیں اکثر
 
یاسمینہ اقبال یاسؔ
شوپیان، کشمیر
khanyasmeena41141@gmail.com
 
 
جہانِ جسم میں بھی حلقۂ جگر میں رہوں 
جہاں جہاں میں رہوں شہر میں خبر میں رہوں 
میں بولتا ہی رہوں گا سخن کی خوشبو میں 
صریرِ خامۂ تہذیب کے ہنر میں رہوں 
چراغِ زیست جلاتا رہوں گا طوفاں میں 
دیارِ رقصِ ہوا کے شرر شرر میں رہوں 
سکوتِ ہجر سے بہتر ہے وصل کا غوغا 
سفر سفر میں رہوں اور نظر نظر میں رہوں 
نئے چراغ جلاؤں نئے دماغوں میں 
ہمیشہ تخم کی مانند ثمر ثمر میں رہوں 
یہ آرزو میری پیتی رہی لہو میرا 
حصارِ منزلِ عشرت میں بھی سفر میں رہوں 
سکوت بھی ہے سمندر میں اور سکون بھی ہے 
پلک پلک پہ ٹھہر جاؤں چشمِ تر میں رہوں 
 
اشرف عادل ؔ
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر 
موبائل نمبر؛7780806455
 
 
گیت غزلیں یونہی لکھائے جا
میری فکروں پہ یار چھائے جا
غیر کو دے کے قربتیں اپنی
مجھ کو بس دور سے لُبھائے جا
بھول جاؤں میں یار دنیا کو
مجھ کو تو اِتنا یاد آئے جا
وقتِ رخصت ہے پھر ملیں نہ ملیں
اب تو ہمدم گلے لگائے جا
دل سی دولت نواز دی لیکن
وصل کی ساعتیں چُرائے جا
آسماں ہوگا مٹھی میں اک دن
حوصلے اپنے آزمائے جا
تیرا ہو جائے میرا دل شاید
اس کو ہر لمحہ ورغلائے جا
ہے دعا میری عمر بھر یونہی
اے مرے یار مسکرائے جا
اوروں سے پیار کرکے میرے لئے
جھوٹی قسمیں فقط اٹھائے جا
 
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج۔بارہ بنکی،یوپی۔بھارت
موبائل نمبر؛7007368108
 
 
آزاد منش کے لئے تعزیر نہیں ہے
یہ قید و قفس اور یہ زنجیر نہیں ہے
رنگوں میں کسی اور کے اسرار ہیں پنہاں
تو حاملِ تصویر ہے تصویر نہیں ہے 
ہم قوم ہے ہم رائے ہے ہم راز بھی ہے تو
افسوس مگر صاحبِ تدبیر نہیں ہے
منصف کو اگر تونے خریدا تو عجب کیا
انصاف ترے باپ کی جاگیر نہیں ہے
تاثیر کو درکار ہے بازوئے امامت
گر ہاتھ نہیں پاک تو شمشیر نہیں ہے
کیسے نہ ترے غول کی حالت ہو دگرگوں
لہجے  میں  ترے  شوخئی تقریر نہیں ہے
اچھی ہے یا بری ہے یہ تو بات الگ ہے
جو آگہی سے دور ہے تذکیر نہیں ہے
یہ ٹھوس حقیقت کوئی جھٹلا نہیں سکتا
جو ربّ کا نا فرمان ہے با پیر نہیں ہے
جو سرورِ کونینؐ پہ نازل ہوئی ویسی
پاکیزہ کوئی دوسری تحریر نہیں ہے
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر،موبائل نمبر 7006087267
 
 
لوگ کہتے ہیں کہ کرنا نہ سفر شام کے بعد
ورنہ آتا میں کھبی آپ کے گھر شام کے بعد
 
خیر مقدم کیلئے پھول سجا راہوں میں 
آنے والا ہے کوئی تیرے نگر شام کے بعد
 
آپ ملنے مجھے آجائیے دن میں، ورنہ
ہوگی سنسان مری راہگذر شام کے بعد
 
ایسے لگتا ہے کہ اِس وقت ہو تم بھی مصروف
بات تو کرنی تھی کرتے ہیں مگر شام کے بعد
 
ہاتھ اور پاؤں کیا کرتے ہیں دن بھر محنت
اور پھر کرتا ہے آرام بشر شام کے بعد
 
بیٹیوں سے یہ گزارش کرو اؔحمد صاحب 
یوں اکیلے نہ کیا کرنا سفر شام کے بعد
 
احمدؔارسلان کشتواڑی
موبائل نمبر;؛7006882029
 کمل محلہ کشتواڑ