تازہ ترین

جنگل کا قیدی

افسانہ

تاریخ    14 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


مشتاق مہدی
جنگل خوشبوئوںکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوش رنگ پھولوں کاــــــ۔۔ہرے بھرے درختوں کا۔۔لاکھوں کروڈوں حشرات الارض کا۔۔چرند، پرند، درندوں کا  اور انسانوں کا ۔۔۔۔۔۔۔جنگل  ۔۔۔۱
کئی دہائیوں سے  وہ  اُس جنگل میں مقیم تھا َ ۔جنگل کی سرسبز حسین دنیا اُسے بہت بھلی لگ رہی تھی۔جنگل کے موسم،پرندوں کی میٹھی سریلی آوازیںاور ندی نالوں کا دل لبھانے والا سازوسُروداُسے جنون کی حد تک پسند تھا ۔۔۔۔وہ اپنی انہی میٹھی دھڑکنوں میںمسرور و خوش تھا کہ ایک روز چونک اٹھا ۔اسے محسوس ہوا کہ کوئی چور جنگل میںگھُس آیا ہے ۔ چھُپ کے بیٹھا کہیںخوشبوئیں چرارہا ہے کہ  دن بدن خوشبوئیں کم ہوئی جارہی تھیں۔کوئلیںاور رنگ برنگے پرندے جوپہلے پہروں سامنے بیٹھ کے  گاتے گنگناتے ۔۔۔خوش نظر آتے تھے۔ اب اپنے بول سنائے بغیر ہی چونچ پنکھوں میں چھُپا کے  سوجاتے ہیں۔اور خوبصورت  ناگنیں جو بین کی دھن پر پہلے بے اختیار ہوکرسامنے آکے والہانہ طور  ناچتی تھیں اب  نامعلوم خوف کی وجہ سے ہر وقت سہمی ہوئی سی نظر آتی ہیں ۔ دور بھاگتی پھرتی ہیں۔۔۔۔
یہ سب کچھ جنگل کی روایت میں نہ تھا۔ پہلے اس نے کبھی دیکھا نہ تھا ۔پھر یہ سب کیا ہورہا تھا۔
کچھ بھی سمجھ نہ پارہا تھا وہ ۔ کافی سوچ وچار کے بعدایک روز اُس نے برادری کے لوگوں میں اعلان  کر دیا ۔۔۔۔
ـ’’  دوستو۔۔۔میرے ساتھیو۔۔۔۔بزرگو  ۔تمہیں بھی وہ سب دکھائی دے رہا ہے جو میں دیکھ رہا  ہوں ۔۔۔۔‘‘
’’ کیا۔۔۔؟‘‘ ایک عمر رسیدہ بزرگ نے کرخت آواز میں پوچھا ۔’’ کیا دیکھتے ہو تم۔؟‘‘
اُس نے قدرے توقف کے بعد کہا
’’  موسم دن بدن بے دھڑکن ہو رہے ہیں ۔ خوشبوئیں کوئی چُرا رہا ہے ۔ہواوئں میں نمی و  تازگی بھی نہ رہی بلکہ زہر بھری لگتی ہیں ۔۔۔اور سارے پھول پتے اپنا  رنگ کھو رہے ہیں ۔‘‘
’’  تو ہم کیا کریں۔۔۔‘‘ بزرگ نے روکھی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’ ہونی ہو کر رہتی ہے  ‘‘
’’  ہمیں اِس جنگل کو  تباہی سے بچانا ہوگا ۔ہاں۔۔۔۔ سب کو  مِل کے  ‘‘اُسکے لہجے میں ایک التجا تھی ۔اُسکے ٹھیک سامنے کھڑا نوجوان اکتاہٹ کے ساتھ بولا۔
’’ تو بچائو نا یار ۔۔۔۔‘‘  اُسکے ساتھی نے قہقہہ لگا کر کہا ۔
’’ کس کم بخت نے روکا ہے تمہیں۔۔۔فضول آدمی۔۔۔آو چلیں ۔‘‘ وہ سب ایک ایک کرکے وہاں سے نکل گئے  اور بچے اُنکے پیچھے تالیاں بجاتے نظر آگئے ۔
کچھ دیر تک وہ  انہیں جاتا دیکھتا رہا۔ کچھ سوچتا رہا ۔جنگل کے مکینوں کی بے حسی پر جلتا کڑُھتا رہا۔ پھریک بریک اُسے کچھ گھٹن سی محسوس ہوئی ۔وہ اپنے ہاتھ ملنے لگا۔اُسے لگا کہ زہریلی ہوائیں اسکے جسم کا کوئی حصہ گھائل کر چکی ہیں ۔اُسے وحشت سی ہونے لگی۔۔۔۔اس جنگل سے ،  جنگل کے مکینوں  کی بے حسی سے۔۔۔اور گشت کرتی ہوئی بدبودار ہواوئں سے۔ دوسرے ہی لمحے اندر سے آواز آئی ۔ ۔۔۔۔بھاگ جا۔۔یہ جنگل اب تیرے کام کا نہیں رہا ۔۔۔ بھاگ جا۔۔۔
مزید کچھ سوچے بغیر وہ ایک طرف کو نکل پڑا ۔راستے میں اپنے پرائے  ۔۔۔کئی قسم کے لوگ ملے۔لیکن اس نے کسی کو اپنا  ہمراز نہ بنایا ۔اپنی د ھُن میںچپ چاپ چلتا رہا۔کئی ہفتوں کے مسلسل سفر کے بعدجب وہ اس  راستے کے انت تک  پہونچا۔۔تو وہاں اُس نے ایک اونچی اور بہت ہی موٹی دیوار کھڑی پائی ۔دیوار کے محافظ نے پوچھا
’’ کہاں جانا چاہتے ہو  ‘‘
’’ اُس پار۔۔۔‘‘
’’ اُس پار تم نہیں جا سکتے۔واپس لوٹو ۔۔۔‘‘
’’ کیوں نہیں جا سکتا ۔۔۔۔۔؟ ‘‘ اُس نے محافظ کو گھور کرپوچھا 
محافظ نے سمجھادیا ۔ ’’ اجازت نہیں ہے ۔اپنی خیر چاہتے ہو  تو نکلو یہاں سے ‘‘
چار و ناچار  وہ مڑ گیا ۔
ایک خیال نے اُسکے ذہن میںجوت جگائی ۔یہ راستہ تو بند ہے۔۔۔۔مخالف سمت کا راستہ ضرورکھلاہوگا۔پھر اُسی سمت میں نکل پڑا۔مغرب کی طرف چلتے ہوئے جب وہ آخری سرے پر پہنچا تووہاں بھی اُس نے ایک اونچی دیوار کھڑی پائی اور بہت سے محافظ  نظر آگئے ۔باتیں بھی ویسی ہی ہوئیں ۔۔۔جو پہلی سر حد کے محافظ سے ہو چکی تھیں ۔اُس نے ہمت نہیں ہاری۔ رہائی پانے  کے لئے سفر جاری رکھا۔پھر جب شمالی سمت کے آخری سرے پر پہنچ گیا۔۔۔۔۔تو وہاں کھڑی موٹی اور اونچی دیوارجیسے اُسکا منہ چڑانے لگی۔اُسکی بے بسی اور تھکن پر قہقہے برسانے لگی۔جنوب کی طرف جانے کا خیال اُس نے ترک کرلیا ۔کیونکہ تیسری سرحدکے محافظ نے اسے سمجھادیاتھاکہ۔۔۔۔۔تم جس زمین پر رہتے ہو وہ زمین گول ہے 
’’ تو پھر میری رہائی کیسے ممکن ہے ‘‘
’’ یہ میں نہیں جانتا  ۔ہاں اتنا معلوم ہے  ایک دن ضرور ملے گی  ‘‘
’’ کب۔۔۔‘‘  اُس نےچہک کر پوچھا ’’وہ دن کب آئے گا ؟ ‘‘
محافظ نے خوش دلی کا مظاہرہ کیا ۔مسکراکر بولا 
’’  وہی جانتا ہے ۔۔۔صرف  وہ۔۔۔اوپر بیٹھا۔ چھتری والا  ‘‘
’’ تو۔۔۔۔۔تو کیا میں۔۔۔۔۔۔‘‘ الفاظ اُسکے حلق میں اٹک کر رہ گئے ۔ خالی خالی نظروں سے  دیوار کو کچھ دیر تک تکتا رہا ۔پھرایک آہ بھرکرتھکے ہارے قدموں کے ساتھ واپس جنگل کی طرف مڑ گیا۔
جنگل۔۔۔۔۔۔جہاں اُس نے بچپن میں پریوں کی پُراسرار میٹھی لوریاں سنی تھیں ۔
جہاں  اُسکے خواب جاگ اٹھے تھے۔ اُسکی امنگیںجوان ہوئی تھیں۔جہاں وہ ساون ُرتوں  میں ندی کنارے بیٹھ کے پہروں میٹھی سریلی آوازیں سنتا ۔طرح طرح کی خوشبوئوں کو سونگھتا اور کھو سا جاتا کہیںدور۔یہ میرا جنگل ۔۔۔۔تب کیا تھا یہ ۔۔۔۔کتنا حسین۔۔۔۔کتنا دلکش۔۔۔۔کتنا دلفریب ۔۔ا ور اب۔۔۔؟
اب یہ سیاہ ذہر آلود ہوائوںکی زد میں آچکا تھا۔عفریت کا شکار تھا ۔وحشتیں ناچ رہی تھیں ۔اطراف و اکناف میں آگ کی لپٹیں اُٹھ رہی تھیں۔درخت جل رہے تھے ۔پتے جل رہے تھے پھول اور پھل جل رہے تھے۔چرند، پرند ،درندے اورانسان سب شعلوںکے نرغے میں تھے۔چیخ  رہے تھے چلا رہے تھے۔درد سے کراہ رہے تھے ۔لیکن آواز کسی کی سنائی نہیں دیتی۔وہ سب رو رہے تھے ۔ماتم کر رہے تھے لیکن آنسو کسی کے دکھائی نہیں دیتے۔وہ سب موت سے ہمکلام تھے لیکن فرشتے کو کوئی دیکھ نہیں پارہا تھا۔
ہر طرف ہولناکی تھی ۔۔۔۔۔ویرانی تھی۔
ایک دہشت ناک خاموشی طاری تھی ۔پھر اچانک ہی اُسکے منہ سے ایک آوازنکلی ۔
’اے میرے پروردگار۔۔۔میرے پالن ہار۔۔۔یہ قہر۔۔۔یہ عذاب۔۔۔یہ آگ۔۔۔یہ احساس میری بے بسی ۔۔۔میری کم مائیگی کا۔۔۔اورکب تک۔۔۔۔۔کتنی صدیوں تک ۔۔بتا میرے رب۔۔۔۔بتا۔‘
وہ چیختا چلاتا رہا ۔
آسمان خاموش تھا۔۔۔۔ بے جان چٹان کی مانند خاموش ہی رہا ۔دور کچھ پیڑ۔۔۔ پودے جل  کرادھراُدھر گر رہے تھے ۔ساتھ ہی انسانوں کی چیخیں  اور جانوروں کی دھاڑیں بھی بلند ہونے لگیں۔
فضا میںجلے ہوئے گوشت کی بو بھی تیزی سے پھیلنے لگی تھی۔سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔اُسکا دم بُری طرح گھٹنے لگا۔پھر وہ بے ہوشی کی گودمیں جاچھپنے ہی والا تھاکہ اُسے سامنے سے  روشن ماتھے کا قد بلند شخص اپنی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا ۔
قریب آکر اُس نے کمر سے لٹکی پانی کی مشک اُتارکے رکھ دی۔ماتھے کا پسینہ پونچھا۔پھر اداس کھڑے شخص سے گویا ہوا۔۔۔
’’ میں اِس جنگل کا رازدار ہوں۔تم مجھے جنگل کا بیٹا بھی کہہ سکتے ہو ۔میں اِس آگ کا مفہوم جانتا ہوں ۔یہ بھی جانتا ہوں۔۔۔یہ آگ کیوں ہے ‘‘
’’ اے معتبر۔۔۔مجھے آپ کی ہی تلاش تھی  ‘‘
قد بلند روشن ماتھے کا والافرد مسکرا دیا۔
’’مجھے معلوم ہے  ‘‘
اُداس شخص جلدی سے اپنے ہاتھ کی لکیریں دیکھنے لگا۔لکیریں بھی کچھ ایسا ہی کہہ رہی تھیں۔۔۔
کہ جسکی جسے تلاش ہوتی ہے ۔۔۔اُس کو وہ مل ہی جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن کہاں۔۔۔۔۔۔۔وقت کے کس موڑ پر۔۔۔۔؟ یہ  وقت ہی جانتا ہے۔یا پھر وقت کو جاننے والے۔۔۔۔۔۔۱  
بالآخر اُس نے اپنی بات کہہ ڈالی۔ ’’ اے روشن ضمیر ۔۔۔مہرباں بزرگ۔۔۔میں اس جنگل سے بیزار ہو چکا ہوں۔کہیں دوربھاگ جانا چاہتا ہوں۔کوشِش بھی کی لیکن راستوں کے انت پر دیواریں کھڑی ہیں اور محافظ بھی تیار۔۔۔کوئی ترکیب بتاو کہ اِس قید خانے سے رہائی ملے ‘‘
’’ایک راستہ ہے  لیکن  وہ غیر قدرتی ہے ۔تمہارے حق میں ٹھیک نہ رہے گا ‘‘
’’ کیامطلب۔۔‘‘ اُس نے بے بسی کے ساتھ پوچھا ’’پھرمیری رہائی کیسے ہوگی۔ کب ہوگی ؟‘‘
’’ ایک دن مقرر ہے اُسکا بھی۔لیکن سنو۔۔۔ایک راز کی بات ۔۔۔۔۔۔ ‘‘کچھ لمحے خاموشی کے بعد قد بلندشخص بولا  ۔ ۔ ۔’’اصل میں تم یہ آگ بُجھانے کے لئے ہی اِس جنگل میں لائے گئے ہو ۔‘‘
اُداس شخص مسکرا پڑا
’’ ایسا میں نے بھی کئی بار سوچامحترم۔لیکن چار سولگی ہوئی آگ بجھانا نا ممکن ہے‘‘
’’کوشِش زندگی ہے ۔یہی میرا عقیدہ ہے۔۔۔مشکلات پر قابو پانے سے ذات اپنے آئینےمیں کھِل اٹھتی ہے ۔یقین جیت جاتا ہے۔۔۔ اچھامیں چلتا ہوں  ۔‘‘
کہہ کر اُس نے پانی کی مشک کندھوں پر رکھ دی ۔اور چل دیا کچھ دیر بعد وہ بھی دور جلتے ویران جنگل کی طرف نکل گیا۔
 
���
ملہ باغ ۔حضرت بل سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9419072053

تازہ ترین