تازہ ترین

سڑکوں پہ اُڑتے جہاز

طنز و مزاح

تاریخ    11 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


ترنم صدیق
قارئین! اسلام علیکم …ہاں مجھے پتا ہے آپ نے کبھی بھی اپنی زندگی میں جہازوں کو سڑک پہ اُڑتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا لیکن میں نے دیکھا ہے ۔آپ نے بھی دیکھا ہوگا ۔ایک بار نہیں، دوبار نہیں ،بلکہ ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ جی ہاں سچ کہہ رہی ہوں ۔اب آپ پوچھیں گے کہ ہم نے تو کبھی بھی نہیں دیکھا اور تُم نے کب،کہاں اور کیسے دیکھا ؟اُف …اُف ایک ہی سانس میں اتنے سوال! میں تو نہیں بتاؤں گی کیونکہ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ آپ نے بھی ضرور دیکھا ہوگا ۔ذرا اپنی عقل کے گھوڑے تو دوڑایئے …دوڑایئے…دوڑایئے۔آہا …آپ سے نہ ہوپائے گا ۔چلو میں ہی بتادیتی ہوں ۔تو سنئے!!میری بات آپ کو عجیب ضرور لگے گی مگر یہی حقیقت ہے ۔یہ جہاز کچھ اور نہیںبلکہ ہماری کالی سی ،لمبی سی ،کھڈوں والی کچھ بھی ہوہے تو ہماری اپنی مصیبت میں کام آنے والی سڑک پہ چلنے والی گاڑیاں ۔بس فرق اتنا ساہے کہ کچھ جہاز دیکھنے میں چھوٹے اور کچھ بڑے دکھائی دیتے ہیں ۔مگر میں آپ کو یہ بتاتی چلو ں کہ ان کا کام ایک سا ہے ۔ہاں تو بتایئے کیا آپ مانتے ہیں نا کہ یہ سڑکوں پہ اُڑنے والے جہازہیں کہ نہیں ؟میں تو مانتی ہوں اور کیوں نہ مانوں ۔دیکھئے اگر آپ اس بات سے انکار کررہے ہیں تو یہ ہمارے جہاز نما گاڑیوں کے پائلٹس کی بے عزتی کرنا ہوئی ۔یہ تو ہمارے پائلٹس کا ایک طرح کا ہنر ہے کہ سڑکوں پہ گاڑیوں کو جہاز کی طرح اُڑاتے ہیں ،ہنر کو تو سراہا جاتا ہے نا۔پھر؟جی ہاں ہماری گاڑیوں کے ڈرائیور گاڑی چلاتے نہیں بلکہ اڑاتے ہیں اور ساتھ میں اُن کو بھی اڑاتے ہیں جو ان جہازوں پہ سوار ہونے سے ڈرتے ہیں یا پیدل چلنا پسند کرتے ہیں ۔ہماری گاڑیوں کے کنڈیکٹر اتنے ہمدرد ہیں کہ کیا کہنے ۔اگر گاڑی میں ہوا کے سرکنے کی بھی جگہ نہ ہو تو مسافر کو ڈرائیو ،ڈرائیور کی گود میں بٹھا لیتے ہیں  ۔مطلب یہ کہ ایک پنتھ دو کاج ۔گاڑی بھی چلتی رہے اور مسافر بھی منزل تک پہنچ جائے، اتنا ہمدرد آج کے زمانے میں کون ہوتا ہے اور ہم یہ تو نہیں کہتے کہ انسانیت ختم ہوچکی ہے ۔ہمارے جہازوں پر مسافر سیٹوں پر ڈبل اور ٹربّل نہیں ہوتے بلکہ کچھ لوگ چھت پر کھلی ہوا میں اور کچھ گاڑی کے پیچھے پائپ کے ساتھ ۔آدھے زمین پر اور آدھے گاڑی پر ۔ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ سردیوں میں مسافر کو ایسی لدی ہوئی گاڑیوں میں سفر کرنا چاہیے تاکہ وہ سردی سے بچ سکے مگر گرمی میں گاڑی میں پاؤ ں رکھتے ہی اُس کا دم گھٹنے لگتا ہے اور کچھ مسافروں کو بے ہوش ہونے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے ۔ارے ! ارے ! سنیے !جب گاڑی سے اترنے کی باری آئے تو سنبھل کر اتریے۔خبردار کوئی غلطی کربیٹھیں ورنہ آپ کی ایک ٹانگ آگے اور دوسری پیچھے ہی کہیں پھنس جائے گی ۔رش میں عورتیں سنبھل کے اتریں ورنہ دوپٹا نہ جانے کس کے گلے میں یا کس کے پیروں میں اٹک جائے ۔ذرا صبر سے کام لیں ۔جب سب نیچے اتر جائیں تو کسی سیٹ کے نیچے ،اوپر ،دائیں بائیں کہیں نہ کہیں مل جائے گا۔نا بھی ملے تو کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔اگر آپ صحیح سلامت اتر جائیں تو جلدی کھسکنے کی کوشش ہرگز نہ کریں ۔ابھی ایک آدھ گھنٹہ کرایہ وصولی اور بحث ومباحثہ میں لگنے والاہے ۔زیادہ وقت اسکول اور کالج کے بچّوں کو لگے گا کیونکہ غلطی سے جو اُن کا آدھا کرایہ معاف رکھا گیا ہے اس معاملے میں بچّوں کو ڈرائیور لوگوں کے پرسنل لا کے بارے میں معلوم ہونا ضروری ہے ۔اس لئے بغیر تکرار کیے ،بغیر صفائیاں پیش کیے یہ چیخ چیخ کے کہنا پڑے گا کہ ارے! ہم تو اسکولی بچّے ہیں ۔یہ سب کچھ کہنے کے باوجود کوئی فائدہ  ہونے والانہیں ہے ۔عقل مندی اسی میں ہے کہ منہ مانگی قیمت ادا کی جائے ۔ورنہ اسکول دیر سے پہنچنے پہ استاد کی ڈانٹ کا خدشہ الگ اور کلاس سے نکل جانے کاخوف الگ ۔اب سارا کریڈٹ صرف ایک ہی قسم کی گاڑی کو نہیں ملنا چاہیے۔سڑکوں پہ چلنے والی ہر قسم کی گاڑیاں چاہے وہ کسی کی ذاتی ہو یا پبلک ٹرانسپورٹ جب سڑک پہ چلتے ہیں تو آؤ دیکھتے ہیں نا تاؤ،کسی پر بھی چڑھا دیتے ہیں ۔یہ بھی نہیں دیکھتے کہ گاڑی کے نیچے آنے والے کا بینگن کا برتا بنا ہے یا ٹماٹر کی چٹنی ۔اوپر سے ہماری سڑکوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ لگتا ہے گاڑی سڑک کے بجائے کسی پتھریلی سرنگ سے گزررہی ہو اور کھڈوں میںجونہی گاڑی کا پہیہ جاتا ہے تو زور کا جھٹکا لگتا ہے ۔جسمانی نظام میں زلزلہ سا آجاتا ہے مگر مجال ہے ان سب مشکلات کے باوجود گاڑی کی تیز رفتاری میں کوئی کمی دیکھنے کو ملے ۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔میں تو یوں کہوں گی کہ بھیا! زندگی میں اگر آپ نے کبھی ایسی گاڑی پہ سفر نہ کیا ہو تو آپ نے کچھ نہیں کیا۔
 اب آتے ہیں ایک خاص ہوائی جہاز کی طرف جو رفتار میں ان سب کو مات دے ۔جی ہاں میں کسی اور کی بات نہیں کررہی ہوں بلکہ موٹر سائیکل کی بات کررہی ہوں جو ساتویں آسمان پر چلتے ہیں ۔ان کے پائلٹس کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہم جماعت کچھ کام سے اور کچھ آوارہ بھائی جو دن بھر سڑکوں پر بغیر کسی کام کے چکر کاٹتے ہیں ۔سڑکوں پہ سٹنٹس( (Stuntsکی دہشت قائم کرتے ہیں لیکن ہمارے بھائی اس چیز سے بالکل بے خبر ہیں کہ کب ان کا ایکسیڈنٹ ہوجائے گا ،انھیں خبر تک نہ لگے گی ۔یہ تو موت سے کھیلنے کے عادی ہوچکے ہیں ۔عجیب قسم کے موٹر سائکلسٹ (Motorcyclist)ہیں کہ راہ چلنے والے ان سے خوف کھاتے ہیں اور جونہی کسی راہ پہ چلتے اسکول ،کالج کے لڑکے یا خاص کر لڑکی پر اُن کی نظر پڑتی ہے تو زور کا ہارن بجاتے ہیں کہ اس راہ پہ چلنے والے کے کان اور روح لرز اُٹھتے ہیں ۔ایسا وہ صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ اُن کے گھر پہ بھی ماں بہن ہے ۔اگر ان کے ساتھ بھی ایسا کیا جائے تو انھیں کیسا محسوس ہوگا ۔خیر میں یہاں داد دینا چاہوں گی اپنے اُن بھائیوں کے ملٹی ٹیلنٹ(Maltitalent)کو جن سے زیادہ ٹیلنٹڈ(Talented)مجھے کوئی معلوم نہیں ہوتا۔
اُن کی چند خصوصیات یہ ہیں؛ایک ہاتھ کلچ پر(On Clutch)۔ایک ہاتھ ایکسیلیٹر پر(Accelator)۔ایک کان گاڑیوں کی آواز پر (Traffic sounds)۔ایک کان موبائل پر(On Mobile)۔ایک ٹانگ گیر پر(On Gear)۔ایک ٹانگ بریک پر (On break)اور دو آنکھیں لڑکیوں پر۔بتائیے یہ ملٹی ٹیلنٹ نہیں تو اور کیا ہے ؟ان حالات کے ذمہ دار ہماری ٹریفک پولیس کے وہ اہلکار ہیں جو کبھی کبھی خاص خاص موقعوں پر سڑکوں پر دکھائی دیتے ہیں ،وہ بھی صرف اپنی اوپر کی سفید کمائی کے لئے ۔سب کی ملی بھگت ہے ۔یہاں کسی کو کوئی نہیں پوچھتا ۔ہر جگہ پیسے کا بول بالا ہے ۔یہ ہماری زندگی کا ایک اہم مسلہ ہے ۔یہ مسلہ اُن کا ہے جو روز روز گاڑیوں پہ سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔تو کیا ہم گاڑیوں پر سفر کرنا چھوڑ دیں ؟نہیں ایسا تو ہرگز ممکن نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے بغیر ترقی کرپانا ناممکن ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے :
 تیرے ساتھ رہنے پہ میرا بس نہیں تجھے بھولنا بھی محال ہے
میں کہاں گزاروں زندگی  میرے سامنے  یہ سوال ہے
رابطہ۔طالبہ سمسٹر چہارم،شعبۂ اسلامک سٹیڈیز
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری( جموں کشمیر)