تازہ ترین

ہند۔ پاک رشتوں کی بحالی

کیا آگے کا سفر جاری رہ سکتا ہے؟

تاریخ    10 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
جموں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول اپنے قیام سے ہی شہ سرخیوں میں رہی ہے ۔اس سے متعلق اکثر و بیشترناخوشگوار خبریں ہی پڑھنے کو ملتی رہی ہیں کیونکہ بھارت اور پاکستان کی فورسزاس لائن پر ایک دوسرے کو نشانہ بناتی آئی ہیں جس کے نتیجے میں اس لائن پر شہری اور فوجی ہلاکتیں معمول کی باتوں میں شامل رہی ہیں۔دو نیوکلیائی ہمسایوں کے مابین کشیدگی تو ویسے بھی کافی پرانی ہے اور اب دنیا نے بھی اسی کو بھارت اور پاکستان کے مابین معمول مان رکھا ہے۔لیکن حالیہ دنوں نئی دلی اور اسلام آباد نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔اچانک یہ خبر منظر عام پر آگئی کہ بھارت اور پاکستان کے فوجی حکام نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر اُس جنگ بندی معاہدے پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہونے پر اتفاق کرلیا ہے جس کا اعلان2003میں ہوا تھا لیکن جس پر کبھی بھی نیک نیتی کے ساتھ عمل نہیں ہوا۔یہ خبر خاص طور سے کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے شہریوں کیلئے کسی نوید سے کم نہیں تھی جو سرحدی کشیدگی کا اولین شکار بنتے آئے ہیں۔
بھارت اور پاکستان نے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا اعلان ایک ایسے وقت کیا جب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ دو ایسے  ممالک جو ایک دوسرے کیخلاف بیان بازیوں سے تھکتے نہیں ہیں اور جو ہمیشہ الزامات و جوابی الزامات کی تاک میں رہتے ہیں، اس طرح ایک جھٹکے میں آپسی کشیدگی زائل کریں گے۔لیکن بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہاں جارہا ہے کہ اس میں نریندرمودی اور عمران خان کی سربراہی والی سرکاروں کے تین ماہ صرف ہوگئے ،پھر کہیں جاکر دونوں کسی نتیجے پر پہنچ گئے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس خفیہ سفارتکاری میں بھارت کی نمائندگی قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول کررہے تھے۔پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کے بارے میں اگر چہ وثوق سے کچھ نہیں کہا جارہا ہے تاہم مبصرین پاک فوج کے سربراہ قمر جاوید باجواہ کے اُس بیان کو اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل دیا تھا اور جس کی بنیاد پر باور کیا جاتا ہے کہ ہند۔پاک کے مابین ہوئی حالیہ پیش رفت کو پاکستانی فوج کی مکمل حمایت اور تائید حاصل ہے۔ باجواہ نے اپنے بیان میں کہا تھا’’پاکستان باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی اور تعاون پر کاربند ہے، اب وقت آگیا ہے کہ تمام شعبوں میں امن کا ہاتھ بڑھایا جائے‘‘۔
تجزیہ نگار اس لئے بھی نئی دلی اور اسلام آباد کے مابین رشتوں کی نئی بحالی اور اس سلسلے میں ہوئی پیش رفت کو اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کیونکہ ایسا کرنے کیلئے دونوں کو اپنی اپنی اسٹیٹیڈ پوزیشنز کو کافی حد تک پس پشت ڈالنا پڑا۔ اسلام آباد کا موقف تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ تب تک کوئی معاہدہ یا کسی قسم کی انگیجمنٹ نہیں رکھے کا جب تک نئی دلی5اگست2019کے فیصلے کو واپس نہیں لے گا۔دوسری جانب نئی دلی نے بھی اپنا موقف سخت کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ساتھ ساتھ چین کے زیر کنٹرول اکسائیچن کو ’’آزاد‘‘ کرنے کا بار بار اعادہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں باضابطہ طور پارلیمنٹ کے اندر اعلان کیا تھا۔ حالانکہ بھارت اور پاکستان کے مابین کوئی نیا معاہدہ نہیں بلکہ پرانے معاہدے کی پاسداری کا اعلان ہوا ہے جو اپنے آپ میں دونوں کی باہمی انگیجمنٹ کا نتیجہ ہے۔نیز یہ معاہدہ بھارت اور چین کے درمیان لداخ میں واقع پینگانگ جھیل سے متعلق معاہدے کے فوراً بعد عمل آیا جو اس اعلان کو اہم بنانے کیلئے کافی ہے۔لداخ میںچین اور بھارت کی سرحدی کشیدگی اگست2019کے نئی دلی فیصلے کے بعد ہی شروع ہوئی تھی اور متعدد مبصرین اس کشیدگی کو اسی فیصلے کی وجہ قرار دیتے آرہے ہیں۔اگر اس تجزیہ کو صحیح مان کر چلیں تو 25فروری کو بھارت اور پاکستان کے مابین جو اعلان ہوا، اُس میں چین کا عمل دخل صاف چھلکتا ہے۔بالفاظ دیگر ہند۔پاک خارجہ پالیسی پر حسب سابق بیرون ممالک کا اثر و نفوز مسلسل جاری ہے۔ اگر چہ اس میں اپنی مخصوص اقتصادی حالت کے پیش نظر ابھی تک پاکستان ہی آگے رہاہے ،لیکن یہ بات طے ہے کہ دونوں ہمساے بیرون ممالک کی شہ پر باہمی سرگرمیاں انجام دیتے آئے ہیں پھر وہ بیجنگ ہو ، واشنگٹن ہو یا ماسکو۔ اس سے یہ بات بھی مسلمہ بن جاتی ہے کہ نئی دلی اور اسلام آباد کے مابین کشمیر کو لیکر تیسرے ملک نے کئی بار مداخلت کی ہے اور دونوں نے اس مداخلت کو عملاً قبول کیا ہے۔  
 بھارت اور پاکستان کے درمیان رابطے اور اس کے نتیجے میں ایک مشترکہ اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسلام آباد ہر بین الاقوامی فورم پر بھارت پر شدید نوعیت کے الزمات عائد کررہا تھا۔ پھر وہ اقوام متحدہ تھا یا کوئی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم، عمران کی سربراہی والی حکومت کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی۔پاکستان کے اس بھارت مخالف سفارتی مہم میں2019کے بعد شدت آئی تھی جب سابق جموں کشمیر ریاست کی خصوصی پوزیشن چھین لی گئی اور اس کومرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔اصل میں پاکستان کی اس مہم کا آغاز اگست2019کے فیصلے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی زور دار تقریر سے ہوا۔اس مہم کا توڑ کرنے کیلئے نئی دلی نے سفارتی محاذ پر سرگرمیاں شروع کیں اور دونوں طرف کی مہم اب باضابطہ جنگ کی طرز پر جاری تھی۔ اس دوران امریکہ میں ڈونالڈٹرمپ کو شکست ہوئی اور جو بائیڈن نے نئے امریکی صدر کی حیثیت سے کام سنبھالا جسے ٹرمپ کے برعکس پاکستان کے قریب سمجھا جاتا ہے۔اسی اثناء میں چین اوربھارت کے مابین بھی پینگانگ معاہدہ عمل میں آیا ، جس نے مقامی حالات میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی ۔مبصرین کے مطابق اسی نئی تبدیلی کے زیر اثر بھارت اور پاکستان کی افواج کا مشترکہ اعلان ہوا جس پر بے شک کم و بیش گذشتہ برس کے ماہ دسمبر سے خفیہ طورکام ہورہا تھا اور جس کیلئے کہا جاتا ہے کہ بیجنگ نے سب سے زیادہ کام کیا ۔
ہند۔پاک مشترکہ اعلان کو لیکر جو لوگ سب سے زیادہ مطمئن ہوگئے وہ کنٹرول لائن کے نزدیک رہائش پذیر لوگ ہیں جنہیں ہر ہفتے آر پار گولی باری اور مارٹر شیلنگ کی وجہ سے جان کے لالے پڑتے تھے۔ اعدادوشمار کے مطابق صرف پچھلے تین برس کے دوران بھارتی اور پاکستانی افواج کی فائرنگ کی وجہ سے کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے70 افراد ہلاک اور 341 زخمی ہوگئے ہیں۔ اس لائن کے نزدیک رہائش پذیردونوں طرف کے لوگ بھارت اور پاکستان کے مابین صلح کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے ہیں تاکہ وہ سکون سے زندگیاں گذار سکیں اور اُنہیں کسی طرف کے گولے کی زد میں آنے کا ڈر نہ لگا رہے۔
پھر کشمیر کے جملہ عوام ہیں جن میں دونوں ممالک کے مابین رشتوں کی بحالی سے نئی اُمیدیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں کے عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ نئی دلی اور اسلام آباد شایدآخر کار اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ ٹکرائو کی صورتحال سے ٹکرائو کی شدت میں اضافے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ہے، اس لئے افہام و تفہیم ہی ایک ایسی راہ ہے جس پر چل کر دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات حاصل کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ عام لوگوں کا تحفظ بھی یقینی بن سکتا ہے۔ موجودہ اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تودونوں کے مفادات کشمیر کی راہ سے وسطی ایشیا تک کی رسائی سر فہرست ہے۔اس رسائی سے بھارت اور پاکستان ،دونوں کو حیرت انگیز تجارتی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ شورش زدہ کشمیر کے شہریوں کو بھی ناقابل یقین حد تک ترقی کے مواقع ہاتھ آسکتے ہیں جس سے وہ کافی حد تک مطمئن ہوسکتے ہیں تاہم اس اطمینان کیلئے زمین سے متعلق ان کے حقوق کی بحالی ضروری ہے۔ لیکن کیا مودی سرکار اپنے فیصلے کو واپس لینے کا سیاسی رسک لے سکتی ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ نئی دلی اور اسلام آباد نے اگر رشتوں کی بحالی کی راہ میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے توان چھوٹے چھوٹے فیصلوں کورکاوٹ بننے نہیں جاتا ہے اور ان کو بدلنے کے کئی طریقے ہمیشہ پہلے سے ہی موجود رکھے جاتے ہیں ۔     
بعض مبصرین تاہم بھارت اور پاکستان کے مابین عمل میں لائے گئے ماضی کے معاہدوں اور اُن کی دھجیاں اُڑانے کی روایت کو بنیاد بناکر خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگر حالیہ مشترکہ اعلان کے پیچھے کا رفرما قوتوںنے ڈھیلا پن اختیا ر کیاتو وہ جنگ بندی معاہدہ ایک بار پھر بے معنی ثابت ہوسکتا ہے جس کیخلاف ورزیوں کی دہائیاں دونوں ممالک دیتے آرہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ 2003جنگ بندی معاہدے کے بعد 2008 نومبر تک مجموعی طور پر ایل او سی پر امن رہا اور فریقوں نے معاہدے کا بحیثیت مجموعی احترام کیا۔بعد ازاں جنگ بندی معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ماضی قریب تک جاری رہا۔

تازہ ترین