تازہ ترین

اپنی پارٹی کا نئی دہلی کو انتباہ

ریاستی درجہ بحال کریںورنہ سڑکوں پر نکلیں گے

تاریخ    9 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی

بیرو کریسی نظام سے لوگ مایوس، یومِ تاسیس پر الطاف بخاری کا خطاب

 
سرینگر// اپنی پارٹی سربراہ سید الطاف بخاری نے کہا ہے کہ اگر جموں کشمیر کاریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جاتا تو وہ سڑکوں پر آکر احتجاجی تحریک چھیڑ دینگے۔جموں کشمیر اپنی پارٹی کے پہلے یوم تاسیس پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سید الطاف بخاری نے کہا کہ دفعہ370 کوصرف پارلیمنٹ ہی بحال کرسکتی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ وہ خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیوں نہیں کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹے وعدے نہیں کرسکتے کیونکہ ہندوستان کی پارلیمنٹ ہی جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت بحال کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا’’ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ 5 اگست ، 2019 ،جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ،جسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا‘‘۔ا نہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کیلئے بھرپور جدوجہد کریں گے اور اگر دہلی اس میں تاخیر کرتی ہے تو ہم سڑکوں پر آنے سے دریغ نہیں کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ 1947 میں بہت کچھ وعدے کئے گئے تھے، لیکن کچھ بھی واپس نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے لڑنا ہوگا،ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد اسمبلی انتخابات کروائے جائیں۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح یکساں حقوق کے مستحق ہیں،’’حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی بے دریغ تڑپ کو پورا کرنے کیلئے مزید وقت ضائع نہ کرے جو اس خطے میں امن ، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں‘‘۔بخاری نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ وہ بلاکسی تاخیر ریاستی درجہ کی بحالی اور جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے وعدے کو پورا کریں۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت جموں وکشمیر کے لوگوں پر موٹی چمڑی والے بیوروکریٹس حکمرانی کر رہے ہیں جنہیں اِس سرزمین سے کچھ لینا دینا نہیں اور نہ ہی لوگوں کو درپیش مشکلات ومسائل کی نشاندہی کرنے اور حل کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔ بخاری نے کہا’’منتخبہ عوامی حکومت کی عدم موجودگی میں جموں وکشمیر کے لوگ مایوسی کا شکار ہیں، بیروکریسی نظام جوکہ اِس وقت جموں وکشمیر کے لوگوں پر حکمرانی کر رہا ہے، نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے جن کا ازالہ صرف جمہوری منتخب حکومت کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے‘‘۔بخاری نے نیشنل کانفرنس کے حد بندی مشق سے دور رہنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’سب سے بڑی جماعت اس عمل میں حصہ لے سکتی تھی اور اپنا نقطہ سامنے رکھ سکتی تھی ،لیکن بائیکاٹ کرنے کا مقصد بڑے منصوبوں کو سہولت فراہم کرنا ہے‘‘۔ بخاری نے کہاشاید ، دہلی کا منصوبہ دور ہی رہ کر کامیاب بنایا جانا تھا۔بخاری نے حد بندی کمیشن پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اپنا کام ختم کریں ، یہ مشق آسان ہے اور اتنی پیچیدہ نہیں جتنا پیش کیا جارہا ہے۔ بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی کا قیام جس دن عمل میں لایا گیا تھا اس وقت جو ایجنڈا وضع کیا گیا تھا  اورہم من و عن اسی پر عمل پیرا ہیں، تاہم دفعہ370 کی منسوخی اور سابق ریاست کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے نتیجے میں طویل ہڑتال کے بعد کورونا وائرس پھیل گیا اور’’ہم اپنے منشور کے مطابق  اس پر عمل نہیں کرسکے‘‘۔ بخاری کا کہنا تھا’’اس کے باوجود ، ہم نے پوری کوشش کی اور اپنے گھروں میں نہیں بیٹھے،بلکہ  جموں و کشمیر کے لوگوں کو نہ ہی کھوکھلے خواب دکھائے اور نہ ہی کبھی کسی ایسی چیز کا وعدہ کیا جو قابل حصول نہیں ہے‘‘۔بخاری نے گذشتہ ایک سال میں اپنی پارٹی کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ملازمین پالیسی میں صرف درجہ چہارم اسامیوں کے احکامات کو منسوخ کرایا گیا، جو سب سے بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے کہا ’’ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل کی حصولیابی کیلئے  15 سال مقرر کرنا ہے اورپارٹی اس کام میں لگی ہوئی ہے‘‘۔ بخاری نے کہا کہ وہ ان منصوبوں سے بھی واقف ہیں کہ جموں کشمیر بینک کی خود مختاری چھین کر کس طرح کمزور کیا گیا،جبکہ یہ ادارہ ہماری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ہم اس کی خودمختاری کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اسمبلی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ اگر اپنی پارٹی کو اقتدار کیلئے ووٹ دیا جاتا ہے تو وہ تاریخی اقدامات اٹھائے گی، خاص طور پر ریاست کا ڈومیسائل بننے کے لئے 25 سال کو لازمی قرار دے گی۔
انہوں نے کہا’’ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اراضی حصول قانون میں ترمیم کی جائے اور آج ، ہماری 88 فیصد اراضی محفوظ ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ہماری ملاقات کا نتیجہ ہے‘‘۔بخاری نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے کشمیر میں گوشت کے بحران پر کہا کہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ چار ماہ کے تعطل کے بعد بھی حکومت وادی میں گوشت کے مسئلے کو حل نہیں کرسکی ہے۔ بخاری کا کہنا تھا کہ مٹن ڈیلرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے اور بحران جلد از جلد ختم ہونا چاہئے۔پریس کانفرنس میں پارٹی کے صوبائی صدر محمد اشرف میر ، ایس ایم سی کے میئر جنید متو بھی موجود تھے۔اس موقعہ پر پارٹی نے ایک قراداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ سال 2020میں جدوجہد کیلئے وعدہ کیاگیا،ریاستی درجے کی بحالی،زمین اور نوکریوں کے حقو ق کا تحفظ کرنے کے لئے ڈومیسائل حقوق،جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کی بحالی کے لئے عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت عرضی کی جلد سماعت،کویڈ وباء کی وجہ سے ملک اور بیرون ملک درماندہ جموں وکشمیر کے شہریوں کا انخلاء اور محفوظ گھر واپسی،بلالحاظ سیاستی نظریات سبھی سیاسی ورکروں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پی ایس اے ہٹانا،نوجوانوں کے خلاف دائر مقدمات واپس لینا،انٹرنیٹ/فورجی خدمات کی بحالی،صنعت اور دیگر اہم اقتصادی شعبہ جات کیلئے پیکیج ،جیالونی اور معدنی وسائل کے حقوق مقامی لوگوں کو دینا،جنگلات حقوق قانون کی عمل آوری اور قبائلی طبقہ جات کی فلاح وبہبود،سرکاری محکمہ جات میں خالی آسامیوں کے لئے خصوصی بھرتی مہم ،ایس آر او202کو ہٹانا،ایس آر او 103کی تنسیخ،سول سروسز امتحانات کے خواہشمندوں کو عمر میں رعایت،ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی،جموں وکشمیر کے دونوں راجدھانیوں میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل(CAT)بنچ کا قیام،کھاد اور ایگرو کیمیکلز کو خصوصی اشیاء میں شامل کرنا،جموں وکشمیر بینک کی خود مختیار فعالیت، غیر مقامی کی بطور سی ایف او تعیناتی کی مخالفت ،جموں وکشمیر بینک کے حصص لداخ یونین ٹیراٹری کو منتقل کرنے کی پرزور مخالفت،2800کے قریب جموں وکشمیر بینک ملازمین کی تنخواہیں واگذار کرنے کا مطالبہ،مرکزی فارمیسی قانون سے باہر کئے گئے 20ہزار میڈیکل اسسٹنٹوں کے مستقل کا تحفظ،سرینگر میں آل انڈیا بار ایگزامی نیشن (AIBE)کا امتحانی مرکز قائم کرنا،مارکیٹ انٹرونشن اسکیم (فریج سبسڈی/کولڈ سٹوریج سبسڈی)کی عمل آوری،کاروباری طبقہ کو دیئے گئے بنک قرضہ جات پر سود کی معافی،زراعت اور باغبانی شعبہ جات کا احیا، میرٹ پر جموں وکشمیر حدبندی عمل انجام دینا،سرحدی علاقوں میں زیر زمین پختہ بینکروں کی تعمیر،جموں، سرینگر، وادی چناب اور پیر پنچال خطہ میں بلاخلل سڑک رابطہ، مغل اور کشتواڑ سنتھن شاہراہ کو کھولنا، کیجول لیبررز، ڈیلی ویجرز، نیڈ بیسڈ، آئی ٹی آئی سکلڈ، کنسالیڈیٹیڈ اور این وائی سی ورکروں کی ریگولر آئزیشن، جائیداد ٹیکس کو عملانے کی مخالفت،جموں وکشمیر اور لداخ یونین ٹیراٹرز میں اثاثہ جات اورواجبات کی ریشنلائزیشن،یوٹی لداخ میں تعینات جموں وکشمیر کے ملازمین کی واپسی،نئی میڈیا پالیسی پر نظرثانی،جموں وکشمیر میں معیشت کی بحالی کے لئے خصوصی پیکیج ،نوجوانوں کی فلاح وبہبود کے لئے جامع پالیسی شامل ہے۔