تازہ ترین

آج کی حدود میں زندگی گزاریں!

کل کس نے دیکھا ہے؟

تاریخ    9 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


اے مجید وانی
اپنے طویل مستقبل کے بوجھ سے اپنے حال کو بوجھل بنائے رکھنا انسان کی ایک بھاری غلطی ہے۔بہت ساری اُمیدیں قائم کرکے انسانی سوچ کا دائرہ لامحدود ہوجاتا ہے ،پھر جلدی ہی ان اُمیدوں سے متعلق وسوسے اور ادہام پیدا ہونے لگتے ہیں ،پھر یہی وسوسے پریشان کُن فکرو غم کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔آخر ہم اپنے دل ودماغ میں شک وشبہ اور تشویش کو کیوں دخل انداز ہونے دیں۔ہم کیوں نہ ’’آج‘‘کی حدود میں زندگی گذاریں کہ یہی ہمارے لئے مناسب اور بہتر ہے۔کامیاب لوگ کل کی فکر میں پڑنے کے بجائے آج ہی کی فکر میں رہتے ہیں اور اسی کے مسائل کو حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھ کر آج اور کل دونوں کو محفوظ بنا لیتے ہیں ۔کامیاب لوگوں کا کام یہ نہیں ہوتا ہے کہ اپنی توجہ دُور دراز کے نشانوں پر مرکوز کریں بلکہ اُن کے سامنے جو واضح کام ہوتا ہے اُسی کو پورا کرنے کی کوشش کو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
آ ج کی حدود میں زندگی گذارنا رسول اللہ ؐ  کے اس قول سے ہم آہنگ ہے کہ ’’جس نے اس حالت میں صبح کی کہ اُس کا بدن صحیح سلامت ہے اور اُس کے پاس اِس دن کی روزی موجود ہے تو گویا اُس کے لئے دنیا تمام تر مہیاکردی گئی۔‘‘(ترمذی)
ہمیں یہ چیزیں حاصل ہیں تو گویا ہم ساری دنیا کے مالک ہیں لہٰذا ہمیں ان چیزوں کو حقیر اور معمولی سمجھنے سے بچنا چاہئے۔امن و عافیت اور ایک دن کی روزی کی موجودگی ایسی طاقت ہے جو روشن عقل کے لئے یہ مواقع فراہم کردیتی ہے کہ وہ پورے سکون اور استقامت کے ساتھ غور وفکر کرسکے جس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے کہ ایک فرد کی زندگی ہی نہیں بلکہ پوری تاریخ کا دھارا بدل جائے ۔ان نعمتوں کی موجودگی انسان کے لئے بہت بڑی ضمانت ہے کہ وہ ایسا وقت گذار سکے، جس میں اُس کی پیداواری صلاحیت اَڑچنوں اور رکاوٹوں کے بغیر پوری جلوہ گر ہوسکے۔سچ تو یہ ہے کہ جو مسائل ابھی پیش نہیں آئے اُن کی فکر میں لگ جانا بڑی حماقت ہے اور ایسا کرنا مایوسی و بدگمانی کی بِناء پر پیدا ہونے والے ادہام کی وجہ سے ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنا آج کا دن اس طرح شروع کرے کہ گویا وہ دِن زماں و مکاں کے ساتھ ایک مستقل دنیا ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ صبح ہوتے ہی یہ دعا فرمایا کرتے تھے’’اے پروردگار ! یہ نئی تخلیق ہے ،اِسے میرے اوپر اپنی اطاعت کے ساتھ شروع اور اپنی رضا مندی و مغفرت کے ساتھ ختم فرما،مجھے اس میں ایسی نیکی کی توفیق دے جِسے تُو قبول فرمائے اور اُسے میرے لئے پروان چڑھا اور مجھ سے جو بُرائی سرزَد ہوجائے اُسے معاف فرمادے۔بے شک تُو مغفرت ،رحمت اور محبت و کرم والا ہے۔‘‘(الاحیاء)
زندگی کے ایک ایک جُز کا نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ استقبال کرنے کے اس صحیح طریقے کی طرف رسول اللہ ؐ کی سیرت بھی ہماری رہنمائی کرتی ہے ،آپؐ صبح ہونے پر یہ دعا فرمایا کرتے تھے’’ہم نے صبح کی اور بادشاہت اللہ کے لئے ہی ہے اور اُسی کے لئے تعریف ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ،اُس کے سِوا کوئی معبود نہیں اور اُسی کی طرف دوبارہ اٹھایا جائے گا ۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسان کواپنے اور اپنے گھر والوں کے تعلق سے اطمینان اور سلامتی کی جو عظیم نعمتیں مرحمت فرمائی ہیں بعض لوگ اُن کی ناقدری کرتے ہیں اور دولت و اقتدار کے تعلق سے اپنی محرومیوں کو بڑھا چڑھاکر دیکھتے ہیں ۔یہ چیزحقیقت فراموشی اور دین و دنیا کی بربادی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن العاص سے عرض کیا :کیا میں فقرائے مہاجرین میں سے نہیں ہوں؟انہوں نے فرمایا کہ تمہارے پاس بیوی ہے؟ اس نے عرض کیا ،ہاں۔آپ نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے پاس رہنے کے لئے گھر ہے؟ اُس نے عرض کیا ،ہاں۔آپؓ نے فرمایا تم مالدار وں میں سے ہو ؟ اُس نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک خادم بھی ہے۔آپ نے فرمایا : تب تو تم بادشاہوں میں سے ہو ۔(مسلم شریف)
ایک بزرگ ابو حازم ؒ فرماتے ہیں :’’میرے اور بادشاہوں کے درمیان صرف ایک دن کا فاصلہ ہے۔گذرے ہوئے کل کی لذت انہیں بھی محسوس نہیں ہوتی اور میں اور وہ دونوں آنے والے کل کے اندیشوں میں گرفتار رہتے ہیں،صرف ’’آج‘‘بچتا ہے اور وہ ہے ہی کتنا ؟یہ نیک بزرگ بادشاہوں کو چیلنج کررہے ہیں ،ماضی کی لذتیں گذشتہ کل کے ساتھ چلی گئیں کوئی انہیں روک نہیں سکتا ،آئندہ کل پردۂ غیب میں ہے۔دولت مند اور غریب دونوں اُس کا انتظار ہی کرسکتے ہیں۔اب صرف آج کا دن بچتا ہے اور بس اُسی کے حدود میں عقل مند زندگی گذار تے ہیں۔اب جو اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے اوراپنی منزل جانتا ہے اُسے پراگندہ حال ہونے کی کیا ضرورت ہے اور صرف اتنی قدرت کے لئے باہم فرق کیا حیثیت رکھتا ہے ؟تاہم آج کی حدود میں زندگی گذارنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقبل کو نظر انداز کردیا جائے یا اس کے لئے تیاری نہ کی جائے ۔کل کے بارے میں سوچنا اور اہتمام کرنا پختہ عقل کا تقاضا ہے لیکن مستقبل کے تعلق سے اہتمام کرنے اور اس کے بارے میں مغموم ہونے، مستقبل کی تیاری کرنے اور اسی میں غرق ہوجانے اور آج کو استعمال کرنے میں بیدار مغزی سے کام لینے اور آنے والے کل کے بارے میں حیران و پریشان ہونے کے درمیان فرق ہے۔
دین جب اسراف کو منع کرتا ہے اور کفایت شعاری پر اظہار ِ پسندیدگی کرتا ہے تو وہ انسان کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے تاکہ انسان صحت ،جوانی اور امن و سکون کی حالتوں میں مرض ،بوڑھاپے اور بد امنی کی حالتوں کے لئے تیاری کرتا رہے ۔حق یہ ہے کہ یہ مسلک آج کی حدود میں اچھی طرح زندگی گذارنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ’’آج‘‘ مستقبل کی ٹھوس بنیاد بنتا ہے ،اس لئے تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔ایک شاعر اسی بات کو اپنے الفاظ میں یوں ادا کرتا ہے’’کچھ آنکھیں خواب ِ شریں کے مزے لے رہی ہیں جبکہ کچھ آنکھیں آنے والے دنوں کے تعلق سے خدشات میں مبتلا ہوکر خواب سے محروم ہیں،آخر لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ جس پروردگار نے گذشتہ کل کی ضروریات پوری کی تھیں وہی آئندہ کل کے حالات میں بھی تمہارا مددگار ہوگا ۔‘‘
ایک انوکھے انداز میں انسان سے اُس کی عمر چُرائی جاتی ہے ،وہ کل کی فکر میں ’’آج‘‘ سے غافل ہوجاتا ہے اور یہ حالات برابر جاری رہتی ہے یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور اُس کا ہاتھ بھلائیوں سے خالی رہ جاتا ہے۔زندگی کتنی حیرت انگیز ہے ،ایک مشہور فلاسفی Stephon decokلکھتا ہے:’’بچہ سوچتا ہے کہ میں لڑکا بن جائوں گا ،لڑکا سوچتا ہے کہ میں جوان بن جائوں گا ،جوان سوچتا ہے کہ جب شادی ہوجائے گی تب سکون سے کام کرلوں گا اور جب بوڑھا پا آنے پر وہ مُڑ کر اپنی پچھلی زندگی پر نگاہ ڈالتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ خالی میدان ہے جس پر تیز آندھی نے جھاڑو پھیر دی ہے۔‘‘الغرض ! ہم وقت گذرنے کے بعد ہی یہ جان پاتے ہیں کہ زندگی کی قیمت یہی ہے کہ اسے جِیا جائے اور ہر ہر لمحہ اور ہر ہر دن جِیا جائے۔
رابطہ۔احمد نگر سرینگر،کشمیر
فون نمبر۔9697334305
�������