تازہ ترین

کانگریس دھڑ ہ بندی

ہاتھ سے ہاتھ کھسکنے کا عمل کب رُکے گا؟

تاریخ    9 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


ایم شفیع میر،گول رام بن
یوں تو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کانگریس کی حالت برسوںسے بگڑی ہوئی ہے جس کا اعتراف کانگریس کے کئی سینئر لیڈران وقتاً فوقتاً کر چکے ہیں اور لگاتارکبھی میڈیا کے سامنے تو کبھی عوامی اجتماعات میں اپنے سیاسی خطابات کے ذریعے کر بھی رہے ہیں لیکن پارٹی کی حالت سدھارنے کیلئے ابھی تک بھی کوئی متفقہ رائے نہیں بن پا رہی ہے،ٹانگ کھینچائی، ناک کھینچائی ،ہاتھ کھینچائی اور بانت بانت کی بولیوں کے ذریعے جماعت کی ’’ساکھ مٹائی ‘‘کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور نہ جانے کب تک اِس عمل کو جاری رکھتے ہوئے آپسی رنجشوں اور بغاوتوںکی کشتی لڑوائی جائیگی۔
کانگریس جماعت میں لیڈرشپ کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ ایک ہی جماعت کے پہلوانوں کو آپس میں لڑوایا جارہا ہے اور حیران کن امر تو یہ ہے کہ ’’پہلوان ‘‘آپس میں لڑتے جا رہے ہیں،کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ، کوئی کہنے والا نہیں ،کوئی سننے والا نہیں، کوئی سوچنے والا نہیں ، کوئی نظم و ضبط نہیں ،نظریات کا تنائوہے ، اختلافات کا بڑھائوہے ،ہر ہاتھ کا کنول کی طرف جھکائو ہے،ہاتھ سے ہاتھ کھسکتا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ہاتھ کی لکیروں میں صاف طور عیاں ہے کہ کانگریس کے ستارے گردش میں ہیں۔ اسٹیج سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے ، ہاتھوں میں ہاتھ نہیں بلکہ ہاتھوں میں کنول تھمائے جانے کی سازشیں عروج پر ہیں، اسٹیج خالی پڑاہے اور کوئی آسانی سے آکر ’’من کی بات‘‘ کرتا جا رہا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ کانگریس کے یہاں اپنے لیڈران کا پارٹی کے تئیں آئے روز من خراب ہوتا جا رہا ہے۔انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ کڑوا گھونٹ جلدی جلدی کوئی نہیں پیتا ،پھر سیاسی فطرت میں تو کڑوا گھونٹ پینا کنویں میں کودنے کے مترادف ہے کیونکہ سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں، کب کس سے دوستی کرنی پڑے اورکب دشمنی کے روپ میں ظاہر ہونا پڑے معلوم نہیں ہوتا!!اِسی لئے شائد کانگریس کے لیڈران بھی عقل سلیم کا کڑوا گھونٹ پینے کیلئے تیار نہیں ہورہے ہیں۔کسی کو راہل پسند نہیں تو کسی کو پرینکا سے بیر،ایسے ہی بھید بھائو اور ہیر پھیر نے ’’کانگریس آئی ‘‘کو ’’کانگریس لڑائی ‘‘بنا کر رکھ دیا ہے۔جیسے منموہن دور میں ریموٹ کہیں اور روبوٹ کہیں ہوتاتھا بالکل اْسی طرح سے آج بھی کانگریس خیمے سے ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے ’’آلا رے آلا!! رندیپ سروجے والا!! کب کھلے گا بند ذہنوں کا تالا؟؟سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ملک کی سب سے بڑی جماعت کانگریس بانت بانت کی بولیاںکیوں بولی جا رہی ہے ،کیوں اک جماعت بکھرتی نظر آرہی ہے اور کیوں اِ س صورتحال پر قابو پانے کیلئے کوئی حکمت عملی اپنانے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا ہے؟ کون سپولا آستین میں بیٹھ کر دودھ بھی پی رہا ہے اور ڈسنے کا کام بھی آسانی سے انجام دے رہا ہے، کیا کانگریس ایسی لیڈرشپ سے محروم ہو گئی ہے جس میں سیاسی شعور ہو، بیداری ہو اور چالاکی ہو؟یا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہر لیڈر خود کو ترم خان سمجھ کر آگے رہنے کی جستجو میں ہے اور پیچھے کھڑا رہنے والے اک اک کر کے رفوچکر ہو رہے ہیں۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ لیڈران کی آپسی چپقلش ، پسند اور ناپسند کی وجہ سے کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے کی بنیادیں آئے روز کمزور ہو تی جارہی ہیں، تنظیمی ڈھانچے سے کھسکتی اینٹوں کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے جو کہ ملک کی عوام کیلئے بھی اک نیاچیلنج بنتا جا رہاہے،نئے ہندوستان میں کچھ نیا ہونے جا رہا ہے ، کوئی نیا متبادل ڈھونڈے جانے کی الارم بج رہی ہے کیونکہ حکومت کی پالیسیوں سے تنگ ملک کی عوام نے اب جب کہ بدلائو کا من بنا لیا تھا لیکن اب کانگریس کی صورت میں متبادل آپشن ہی غائب ہے ، وہ ’آپشن ‘اپنا وقار بحال ہونے میں ناکام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ گو کہ روزِ اول سے ہی کانگریس میں دھڑا بندی اورگروپ بندی کا دستور رہا ہے لیکن موجودہ وقت میں قیادت کے فقدان سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ گروپ بندی اور دھڑا بندی کے اِسی دھیمک نے کانگریس جیسی بڑی سیاسی جماعت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کر دیا ہے جہاںکانگریس کے ہر لیڈر کو آگے کنواں اور پیچھے کھائی نظر آرہی ہے، ماضی کے گناہ مٹائے نہیں مٹتے، لیڈران بکھرائو کا شکار ہوکر قیادت کی نس بندی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔
قابل غور ہے کہ کانگریس جماعت میں گروپ بندی کا رجحان صرف اعلیٰ قیادت تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ اک وقت میں جموں و کشمیر میں آزادگروپ اور سوزگروپ کا سلسلہ کافی عروج پر تھا لیکن وقت کی دشوار گزار سیاسی راہوں نے اِ ن کو تھکا دیا اور دونوں فریقوں میں گروپ ازم کا جنون پھیکا پڑ گیا۔ سیاسی اتار چڑھائونے دونوں دھڑوں کوایسے گڑھے میں گرا دیا جہاں سے بس ایک ہی آواز گونج رہی ہے کہ جموں و کشمیر کے ساتھ نا انصافی ہوئی،کاش یہ آواز اُس وقت بلند ہوئی ہوتی جب سیاسی جنون دونوں دھڑوں میں موجیں مار رہاتھا لیکن افسوس ہے کہ بروقت عقل مات کھا جانے کی وجہ سے جموں و کشمیر کی عوام کیلئے کچھ کر گزرنے کا جنون،جوش اور ولولہ ’’ دھڑہ بندی اور گروپ بندی ‘‘کی نذر ہوگیا۔
موجودہ دور میں جب کہ کانگریس کواپنا تنظیمی ڈھانچہ ملکی سطح پر مضبوط کرنے کیلئے دھڑہ بندی، گروپ بندی اور ٹانگ کھینچائی سے اوپر اٹھ کر متحد ہونا چاہیے تھا لیکن نا جانے کیوںسب کچھ اِس کے برعکس ہورہا ہے ؟بالخصوص جموں و کشمیر میں کانگریس لیڈرا ن کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گروپ ازم سے بچنے کی از حد کوشش کرنی چاہیے تھی لیکن جموں و کشمیر کانگریس خیمے میںلیڈران کے مابین تنگ نظری کا ایسا ماحول گرمایا جارہا ہے جس سے لیڈران کو یہ بھی معلوم نہیں رہتا کہ کون لیڈر کہاں اور کس کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں قبل پارلیمنٹ سے سبکدوش ہوئے غلام نبی آزاد کو گویا کانگریس سے آزادی ملی۔سبکدوشی کے فوراً بعد غلام نبی آزادکی قیادت میںG-23کا گروپ جموں و کشمیر کے جموں میںوارد ہوا ، آمد پرریاستی سطح کے تقریبا ًتمام کانگریس لیڈران نے گروپ کا برجوش استقبال کیا، پھول مالائیںپہنائی گئیں،مالائوں سے جھکی گردنوں نے دوسرے ہی روز سر اٹھاکرخطاب کئے توبولی پہلے سے مختلف تھی ،متضاد قسم کے بیانات سامنے آئے۔ G-23کے دورہ ٔ جموں نے جموں و کشمیر کانگریس خیمے میں طوفان برپا کر دیا، کل کے بھیدی بھی کانگریسی ہونے کا راگ الاپنے لگے۔عجیب اتفاق ہے کہ کانگریس جماعت کے ہی لوگ کئی خانوں میں بٹ گئے، کچھ لوگ غلام نبی آزاد کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آئے ، کچھ حمایتی آزاد کے حق میں نعرے بلند کرتے دکھائی دیئے اور کچھ خاموش مزاج لوگوں نے چپ رہنے میں ہی اپنی سیاسی عافیت سمجھیں لہٰذا وہ خاموش ہی رہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے تھا اور عوامی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ ’’آزاد مخالف ‘‘اور’’آزاد حمایت ‘‘ماحول کو جنم دینے میں اِنہی خاموش مزاج کانگریس لیڈران کا مبینہ رول ہے ،اب حقیقت کیا ہے اور ’’اصلی ‘‘کون ہے اور ’’نقلی ‘‘کون آنے والے دنوں میں اِس راز کی پرتیں بھی کھلیں گی۔
شہنواز چودھری کی قیادت میں جو ٹولہ غلام نبی آزاد کے خلاف سڑکوں پر اْترا اور احتجاج کیا ،اْن کا الزام تھا کہ غلام نبی آزاد بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشاروں پر کام کرکے کانگریس پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پارٹی دیوانے احتجاجیوں نے جم کر نعرہ بازی کی اور غلام نبی آزاد کا  پتلابھی نذر آتش کر دیا۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کانگریس نے غلام نبی آزاد کو ہمیشہ اونچائی پر رکھا لیکن آج جب پارٹی کو ان کی ضرورت تھی تو وہ جموں وکشمیر میں پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں۔انھوں نے یہ تک سونیا گاندھی سے کہہ دیا کہ غلام نبی آزاد کو پارٹی سے نکال باہر کر دیا جائے۔ ایسے میں اک گروپ نے آزاد کے حق میں نعرے بلند کئے ،اْن کا ماننا ہے کہ اصلی کانگریسی تو غلام نبی آزاد ہی ہیں باقی تو خام مال ہے اور جو لوگ غلام نبی آزاد پربھاجپا کیساتھ ساز باز رکھنے کے جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگا رہے ہیں حقیقی معنوں میں وہ خود آر ایس ایس کے اشاروں پر ناچتے ہیں ،جموںو کشمیر میں کانگریس کو کمزور کرنے پر تْلے ہوئے ہیں اور ’’کانگریس مکت ‘‘جموں و کشمیر کی ٹھیکیداری لی ہوئی ہے۔
اختلاف ، اختلاف اور اختلاف کی میں آگ لگاتارسلگائی ہی جا رہی ہے ،آزاد معاملے پر آہستہ آہستہ خاموشی کا جمود و سکوت ٹوٹ رہاہے، نالآخر جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرغلام احمد میر نے بھی کچھ روز بعد خاموشی کا روزہ توڑا۔ میر نے غلام نبی آزاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوںنے دیگر لیڈران کے ساتھ پارٹی کے اندرونی معاملے کو میڈیا میں موضوع ِبحث بنایا ہے جس کے نتیجے میں پارٹی کی امیج خراب کی گئی ہے۔کانگریس کے دو’’غلام‘‘اب سرِ عام آگئے ہیں اور یوں جموں و کشمیر کانگریس میں کھلبلی کے کچھ مزید حقائق منظر عام پر آ رہے ہیں۔ اک بات تو آئینے کی طرح صاف ہوتی نظر آرہی ہے کہ جموں و کشمیر کانگریس میں کھلبلی کی اک اہم وجہ نئے صدر کے چنے جانے کی بھی ہے کیونکہ یہاں کچھ ایسے لیڈر ان بھی ہیں جو’’ پک اینڈ چوز ‘‘پر یقین رکھتے ہیں اورکچھ باضابطہ طور الیکشن کے ذریعے صدر چنے جانے کی کوشش میں ہاتھ پائوں مار رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اختلافات کا گراف بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
ایسے میں عوامی حلقوں میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، کوئی G-23کو نئی سیاسی جماعت کے طور دیکھتا ہے تو کوئی اِسے اصلی ،شدھ گاندھی کانگریس گردانتا ہے۔بحرحال ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو جس طرح کانگریس میں ’’بغاوت مہم ‘‘کا سلسلہ ایک قدیم روایت رہی ہے،حال کا ’’حال ‘‘بھی کچھ ایسا ہی ہے بلکہ قدرے بد حال ہے۔ گزشتہ چند برسوں کی بات کی جائے تو کانگریس سے شام لال چوہدری،اعجاز احمد خان،وکرم ملہوتر اورچوہدری لال وغیرہ جیسے بڑے لیڈران نے بغاوت اختیار کر کے کانگریس کا ہاتھ چھوڑا لیکن جماعت کے نظم و ضبط میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی جس یہ صاف طور اخذ ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر کانگریس بھی قیادت سے لاوارث ،یتیم ہے اوربے یارومددگار ہے بلکہ یوں کہاں جائے کہ ’’جس کی لاٹھی اْس کی بھینس ‘‘والے فارمولے پر سبھی لیڈران عمل پیرا ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔اِس عملی مشق کے چلتے گزشتہ برسوں کی طرح آج بھی کانگریس خیمے میں بغاوتی مہم مزیدرفتار پکڑ سکتی ہے اور کئی لیڈران کے باغی ہونے کا خدشہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ عوامی حلقوں میں آج کل یہ تبصرے ہر زبان زدِ عام سننے کو مل رہے ہیں کہ اگر جموں و کشمیر کانگریس نے اک پلیٹ فارم پر کھڑا ہوکر غلط فہمیوں کا ازالہ نہیں کیا تو جموں و کشمیر کو ’’کانگریس مکت ‘‘ہونے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ خیر اب جموں و کشمیر میں کانگریس کی ڈوبتی نیا کو بچانے کی پہل کون کرتا ہے یہ دیکھناقبل از وقت ہوگا لیکن کانگریس لیڈان کی آپسی چپقلش اور الزام در الزام کے باعث موجودہ وقت میں جموں و کشمیر کانگریس لیڈران کا حال کچھ اِس طرح سے ہے اور ہر لیڈر اِسی سوچ میں گم دکھائی دے رہا ہے کہ
ڈوبے گی کشتی تو ڈوبیں گے سارے
نہ ہم رہیں گے نہ دشمن ہمارے!!!
 

تازہ ترین