تازہ ترین

ہر بہو، بہن،ماں،بیٹی عزت کی طلبگار

محشر قلب

تاریخ    8 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


سہیل سالمؔ
اللہ تعالی نے اس کائنات کی بقا اور اس کے تحفظ کے لئے مرد و عورت کے نام سے دو جنسوں کے ذریعہ اس کائنات کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ہر صنف میں دوسری صنف کی طلب اور جذبات ایک دوسرے میں پنہاں رکھے تاکہ عورت مرد کی رفیق حیات بن کر زندگی کے نشیب وفراز میں ہر قدم پر اس کا ساتھ دے سکے اور اس کی مونس وغم خوار بن کر زندگی کی گاڑی کھینچ سکے۔ امر واقع یہ ہے کہ ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر نا مکمل اور ادھوری بن کر رہ جاتی ہے ۔ مرد کامل مرد رہتے ہوئے عورت سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ،اسی طرح عورت عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطمئن زندگی نہیں گزار سکتی، لہٰذا اس کار خانہ حیات کے تسلسل اور انسان کی تمدنی سرگرمیوں کی بقا کے لئے مرد اور عورت دونوں کا وجود نہایت ضروری ہے۔ازل سے ہی اس کائنات میں مرد و عورت دونوں کی برابر کی شرکت حاصل ہے۔ دنیاوی زندگی کے آغاز کے وقت بھی حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا ؑبرابر کی شریک رہیں۔جنت سے دنیا تک کے پہلے سفر میں حضرت آدمؑ کے ساتھ حضرت حوا ؑکا شریک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں کے طرز عمل یکساں ہیں اور ارتقا کے تخلیقی سفر میں مرد عورت سے الگ ایک نامکمل شے ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے" دونوں نے نافرمانی کی‘دونوں نے معافی مانگی دونوں پشیمان ہوئے اور دونوں کو معاف کیا گیا"۔(الاعرف۔19 تا27 )گویا ازل سے عورت ہر چیز میں برابر کی شریک رہی مگر اس کائنات میں برابر کی شریک عورت کا موجودہ زمانے میں کیا حال ہے۔ چنانچہ عورت قدرت کی ایک ایسی شاہکار تخلیق ہے جو خود ایک خالق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اپنی بے لوث محبت ،ایثار، خدمت اور رنگارنگ شخصیت کے سبب اس دنیا کے چمن کو سیراب بھی کر رہی ہے اور فروغ بھی دے رہی ہے۔بقول اقبالؔ   ؎ 
وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ
اسی کے سوز سے زندگی کا سوز دروں
زمانہ قدیم میں عورت کو بے انتہا ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مختلف ملکوں اور مذاہب میں اس کی نوعیت مختلف تھی لیکن اس کی بے حرمتی اور بے جاظلم و زیادتیاں ہر ملک اور ہر اقوام میں روا ںتھے۔ یونان‘روم‘چین‘عرب‘ایران اور مغربی ممالک کے ہر مذہب میں عورت مظلوم‘محکوم‘لونڈی اور گنہگار ہی تھی۔آہستہ آہستہ وقت بدلا ‘حالات بدلے‘سماجی تقاضے بدلے تو عورت کی زندگی میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ریشیوں‘منیوں‘مذہبی پشیوائوں‘دانشوروںنے اپنی موجودگی‘یا پھر یوں کہئے کہ مصلح قوم وملک کے روپ میں اپنی شمولیت درج کرائی جس کے سبب منفی اور مثبت اثرات بھی سامنے آئے۔ 
جی ڈبلو کرٹس نے کہا ہے کہ" تہذیب کا مطالعہ ہی اصل میں عورت کا مطالعہ ہے" ۔اس بات کو مد نظررکھتے ہوئے اگر ہم اپنی تہذیب کے اوراق پلٹیں تو اندازہ ہوتاہے کہ انیسویں صدی کے نصف اول تک ہندوستانی عوام کی زندگی قدامت پسندی اور دقیا نوسیت میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی جس کا شکار طبقہ نسواں زیادہ تھا۔اس کے برعکس جب ہم آج یعنی مابعد جدیدیت کے دور میں بین الاقومی سطح پر خواتین کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں تو خواتین کی حالت کسی ملک میں پریشان کن ہے تو کہیں بہت اچھی ۔اس کی وجہ جسمانی تشددہے۔ان پر تشدد ہمیشہ سے ہی بنا رہا۔ وہ اپنے حقوق کے لئے مجبورا ًدفتروں میں کلرک کی حیثیت سے کام کرتی ہیںتو کبھی غیر مردوں کی پرائیوٹ سیکرٹیری بنتی ہیں تو کبھی تجارت چمکانے کے لئے سیل گرل کے کردار میں خدمات انجام دیتی ہیںاور نہ جانے کتنے ہی روپ میں وہ اپنے حقوق کے خاطر اپنی حیثیت وعزت کو نیلام کرتی رہیں۔ ان سب کا نتیجہ مرد مسلط سماج ہے کہ اسے ہمیشہ دوسرے درجہ تک ہی محدود رکھا گیا جب کہ زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ بلکہ کئی جگہوں پر وہ مردوں سے آگے اپنے خدمات انجام دے رہی ہیں۔اس کے باوجود ہر روز میڈیا کے ذریعہ خواتین پر تشددکی رپورٹس اور خبریں پڑھنے‘سننے اور دیکھنے میں آتی ہیں۔
دنیا کی ہر تیسری اور جنوبی ایشیاکی ہر دوسری عورت آج تشدد کا شکار ہے۔امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعد ایک عورت زیادتی کا نشانہ بنتی ہے۔پاکستان میں ہر سال ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی جاتیں ہیں ۔ہندوستان میں ہر چھ گھنٹے کے بعد ایک شادی شدہ عورت کو زندہ جلایا جاتا ہے اور ہر روز سات ہزار بچیاں پیدائش سے پہلے مار دی جاتی ہیں۔ان موجودہ حالات میں خواتین کو حقوق کے لیبل پر سوائے جعل سازی اور دھوکہ کچھ نہیں ملتا کیونکہ اکثروبیشتر خواتین کو سب سے زیادہ گھر یلو زندگی میں عدم تحفظ کا شکار بنا دیا جاتا ہے مثلاشوہر،سسر‘
ساس‘دیور‘اور نندیں ذمہ دارہو تی ہیں۔غیر شادی شدہ مستورات پر تشدد کے ذمہ داران کے والدین یا بہن بھائی ہوتے ہیں۔ان واقعات کی وجوہات میں زیادہ تر جائیداد ‘وراثت‘ تنازعات‘ جبری شادی ‘غربت ‘غلط فہمی‘ہونے والے خاوند کا احساس محرومی اور بے جا شک وغیرہ ہیں۔تمام مسائل میں جنوبی ایشیائی ممالک دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ متاثر ہیں۔گھریلو تشدد کی شرح زیادہ تر غریب نا خواندہ افرادکی ہے جو اپنے حقوق سے بے بہرہ ا ور معاشی طور پر اپنے شوہروںپر انحصار کرتی ہوں۔اس کے علاوہ اونچے طبقات میں بھی اندازےکے مطابق پانچ خواتین میں ایک گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔ اس کی مختصر وجوہات بدمزہ کھانے پکانا، بدچلنی جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
خواتین کسی بھی معاشرے کے لئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس لیے ہمیں ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے خواتین کو حقوق دینا،تشددو استحصال کی روایات کو دفن کرنا اورمروجہ رجحانات کو یکسربدل کر مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہوگی ۔گھر سے باہر ہو یا گھر کے اندر  خواتین کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روارکھا جاتا ہے بلکہ متعصبا نہ سماجی رویے اور استحصال بھی کیے جاتے ہیں۔آج ترقی پذیر معاشروں میں صدیوں سے نسائی حقوق سے محروم رکھاگیا ہے یہ امر بڑا افسوس ناک ہے جو کسی بھی ملک کی بر بادی کے لیے کافی ہے۔لیکن ہمارا معاشرہ نسائی حقوق دینے سے قاصر ہے جس کے مضر اثرات ہیں خواتین کوزندہ در گور کرنا‘جسمانی‘روحانی‘جذباتی‘نفسیاتی اذیت،عصمت دری،جنسی بلیک میلنگ،چھیڑ چھاڑ ،ہوس کا نشانہ بنانا،نسائی تذلیل،دشمنیاں مٹانے کے لیے زبردستی شادیاں کرنا،جائیداد کے حصے سے محروم کرنا،زندہ جلاکر کے ان کی عزت وعفت کا جنازہ نکالنا۔ان بھیا نک جرائم کو مردسماج تشویش اور تکلیف کے بجائے ہنسی اور تفریحی تذکرے کا موضوع بناتے ہوئے بھی اذیت دینے کی سزا انڈین پنیل کوڑ میں ہے لیکن یہ قوانین ابھی پوری سختی سے نافذ نہیں ہو رہے ہیں جبکہ خواتین کو مذاہب میں اعلی مقام ہے۔بائبل کے مطابق عصمت دری کی سزا موت ہے۔(ایکسوڈس2014  ڈیوٹرونومی22:22  )۔ یہودیوں کے مذہبی صحیفہ میں عصمت دری کے مجرم کو بر سر عام سنگسار کر کے ہلاک کو دینے کی سزا ہے۔قرآن پاک میں عصمت دری کے مجرموں کو سر عام سو کوڑے مارنے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔برطانوی پارلیمنٹ نے1258 میں اس فعل کے لیے موت کی سزا مقرر کی تھی۔
 خواتین محض ایک جنسی وجود نہیں ہے بلکہ وہ ایک مکمل شخصیت کی مالک ہے ۔وہ جذبات اور احساسات بھی رکھتی ہیں۔سماج میں اس کے متعدد رول ہیں، وہ نسلوں کو پالنے پوسنے اور تر بیت کرنے کے اہم ترین فر یضہ کی حامل ہے۔مرد سماج اس کی ممتا،شفقت ،رحم دلی،مہربان فطرت،ایثار اور اس کی محبت کا مرہون منت ہے۔ اپنی مکمل شخصیت اور خدمات کے اعتبار سے عورت انتہائی عظمت واحترام کی حقدار ہے۔
پتہ۔رعناواری سرینگر،کشمیر
فون نمبر۔9103654553