تازہ ترین

قصابوں کی دکانوں پرنوٹسیں چسپاں

لائسنس منسوخ کرنےکی کاروائی کا انتباہ|حکام اور مٹن ڈیلروں کے درمیان بات چیت پھر شروع، تعطل ٹوٹنے کا امکان

تاریخ    7 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
 سرینگر//صوبائی انتظامیہ نے قصابوںکو لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری انفورسمنٹ ونگ نے ہفتہ کو سرینگر میں قصابوں کی دکانوں پر نوٹسیں چسپاں کیں،جن میں کہا گیا ہے” غیر قانونی طریقوں سے گوشت کی تجارت اور دکانیں بند کرکے مصنوعی و عارضی قلت پیدا کرنے کی صورت میں شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی“۔ ڈائریکٹر امور صارفین نے نوٹس کے ذریعے گوشت کے پرچون کاروباریوں کو مطلع کرتے ہوئے کہا” اشیائے ضرورریہ قانون کے تحت ان دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو دکانیں بند کرکے گوشت کی قلت پیدا کریں گے“۔ انہوں نے کہا ” ان دکانوں کو مسلسل طور پر بند کیا جائے گا اور تحت ضابطہ کارروائی شروع کی جائے گی“۔ ادھر مٹن ڈیلروں اور حکام کے مابین بات چیت کے تعطل کو ختم کرنے کےلئے 8مارچ کو طرفین کے درمیان یہ معاملہ حل کرنے کیلئے ممکنہ میٹنگ ہوگی ،جس کے دوران یہ مسئلہ حل ہونے کی توقع ہے۔ صوبائی انتظامیہ اور مٹن ڈیلروں کے درمیان27فروری کو میٹنگ کی ناکامی کے بعدکشمیر اکنامک الائنس نے معاملے میں ایک بار پھر مداخلت کرتے ہوے طرفین کے درمیان ثالثی شروع کردی ہے،جس کے بعد برف پگلنے کے آثار نظر آرہے ہیں۔الائنس کے صدر اور فیکٹ فاینڈنگ کمیٹی کے کنونیر فاروق احمد ڈار کی سربراہی میں ہول سیل مٹن ڈیلروں، قصابوں اور متعلقہ محکمہ کے افسراں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ میٹنگوں کا سلسلہ شررع کیا ہے، جس کے نتیجے میں گوشت کی قیمتوں پر چار ماہ سے جاری تعطل حل ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ معراج العالم سے قبل یہ مسئلہ حل ہونے کا قوی امکاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ طرفین کے رابطے میں ہیں اور عنقریب ہی بازاروں میں گوشت دستیاب ہوگا۔
 

تازہ ترین