تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    7 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


 زندہ رہنے کے لئے کوئی بہانا چاہئے
زندگی جیسی بھی گزرے مسکرانا چاہئے
اپنی چادر دیکھ کر ہی پاؤں پھیلائیں جناب
استطاعت کے مطابق بوجھ اٹھانا چاہئے
غم کی کیفیت کو چہرے پر نہ آنے دیں کبھی
درد اپنا اک خدا کو ہی سنانا چاہئے
واسطہ پڑتا ہے کم ظرفوں سے اب ہر گام پر
رازِ دل ہرگز نہ ہر اک کوبتانا چاہئے
درسگاہوں میں کہاں تہذیب زندہ رہ گئی
یہ سبق بچوں کو گھر میں ہی پڑھانا چاہئے
دوست کہنے میں بہت محتاط رہئے گا حضور
اور جب کہدیں تو پھر رشتہ نبھانا چاہئے
جنگ کی صورت کبھی پیدا نہ ہونے دیجئے
ایسی دلدل میں کوئی دانا نہ آنا چاہئے
مرغِ بسمل کی طرح ہیں نوجواں ہر شہر میں
اب نئی بستی کو دھرتی پر بسانا چاہئے
قول داناؤں کا  ہے اسکو رکھیں جاں سے عزیز
کرکے نیکی ہم کو بسملؔ بھول جانا چاہئے
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منُڈى راجوری جموں کشمیر،موبائل نمبر؛9086395995
 
 
 
ہر طرف نالہ و بکا کیا ہے
کیاہوا ہے بھلا  ہوا کیا ہے
 
کون منصف ہے طے جو کرتا ہے
کیا ہے اچھا یہاں بُرا کیا ہے
 
درمیاں رہ کے تم نہ سمجھو گے
ابتدا کیا ہے انتہا کیا ہے
 
جیتے رہتے ہیں مرتے رہتے ہیں
عشق والوں کی یہ ادا کیا ہے
 
مٹ ہی جائے گا ایک دن سب کچھ
آنکھ میں پھر غرور سا کیا ہے
 
دشمنوں میں گرے یہ سوچتے ہیں
دوستی نام کی بلا کیا ہے 
 
ان کو عرفانؔ سے شکایت ہے
یہ بتاتے نہیں خطا کیا ہے
 
عرفان عارف
اسسٹنٹ پروفیسر اردو،SPMRکالج جموں
موبائل نمبر؛9682698032
 
 
 
عشق کی منزل سے تنہا ہی گزرتا ہوں ابھی 
سوچ کر اک شخص کو میں روز مرتا ہوں ابھی 
 
میں نے کیا سوچا تھا اے دل اور کیا مجھ کو ملا 
اک جنوں اک شوق جس پر آہ بھر تاہوں ابھی 
 
یاد ہے مجھکو حکایت اب تلک منصور کی 
عشق کے اظہار سے یارو میں ڈرتا ہوں ابھی 
 
ڈُوبتے ہیں ڈوبنے والے بڑے ہی شوق سے 
تیری آنکھوں کے سمندر میں اُترتا ہوں ابھی 
 
تیری چاہت بھی نہیں اب مجھ میں باقی سچ ہے یہ 
زندگی کی آرزو میں ہی بکھرتا ہوں ابھی 
 
وہ تو منزل پاگئے طالبؔ جو تیرے ساتھ تھے 
میں ہی بس پُر خار راہوں سے گزرتا ہوں ابھی
 
 اعجاز طالب ؔ
حول سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛ 9906688498
 
 
 
 
مرا یہ سایا کہاں گیا کر چراغ روشن
ہو گھر کے باہر ہو گھر کے اندر  چراغ روشن
میں تب کے مانوں ترے وظیفے اے میرے مرشد
کہ جب تو کر لے تہہِ سمندر چراغ روشن
بڑا عجب ہے کہ روز کمرے میں اب نمی ہے
یہ کون کرتا ہے مثلِ پیکر چراغ روشن
کوئی تو ہے اب جو مجھ کو چپکے سے دیکھتا ہے
سو میرے گھر پر ہے رہتا اکثر چراغ روشن
مری لحد سے ذرا سی مٹی جلا کے سُن لے
تو روز کرنا مرے مجاور چراغ روشن
یہ بات ہے اور مجھ کو مارا ہے تیرگی نے
مگر ہمیشہ رہے گا در پر چراغ روشن
یہ کیسا عالم ہوا یہاں اب کہ اس کے آنے
پہ وقتِ رقصاں ہوا قلندر، چراغ روشن
مری ستائے ہوئے دھویں کی دعائیں لے لو
تو نے کیا ہے مجھے بُجھا کر چراغ روشن
پھر آج آنکھوں سے ان کی یادیں بیاں ہوئی ہیں
نہ کر یہاں پہ ابھی ستمگر چراغ روشن
 
عقیل آسراؔ
بانڈی پورہ،کشمیر
موبائل نمبر؛7006354200
 
 
کسی بےنام بستی میں گزارا کرکے دیکھیں گے 
چلو کچھ روز اپنوں سے کنارا کرکے دیکھیں گے
گریباں میں ذرا جھانکے کبھی ہم لوگ بھی اپنے
زمانے کی طرف کب تک اشارہ کرکے دیکھیں گے
طلاطم سے نکلنے کا بظاہر ہےنہیں  رستہ
خدا کا نام رو رو کر پکارا کرکے دیکھیں گے
رقیبوں سے اگر بچ بھی گئے اس بار بستی میں 
شناسا ہی لہو دامن ہمارا کرکے دیکھیں گے
یہ مانا دید کے قابل ترے ہم ہیں نہیں لیکن
کبھی در خواب ہی جاناں نظارہ کرکے دیکھیں گے
زمانے لگ گئے جن کو بُھلانے میں ہمیں عارف ؔ
 چلو ان سے محبت اب دوبارہ کرکے دیکھیں گے
 
جاوید عارف
پہانوں، شوپیان کشمیر
موبائل نمبر؛7006800298
 
 
دل خاک ہو چکا ہے، زلفیں گری گری سی
دل میں اُبھر کے آئی یہ کیسی بے کلی سی
 
رُسوا جہاں پھرے ہے عاشق کی آس جیسے
برسا رہی ہیں حسرت آنکھیں وہ شبنمی سی
 
آیا ہے کس جہاں سے اُترا ہے اس نگر میں
یہ کیسا وقت آیا دنیا ہے اجنبی سی
 
آگے جہاں ہیں باقی اِس سے نظر اُٹھا لے
حسن و قبح یہاں ہے وہ جان پروری سی
 
انگشت بہ لب ہوا ہوں اپنے وجود پر میں
باقی سرور میرا، مستی شراب کی سی
 
احمدؔ ذُوالْقَرنین
کیشوان، کشتواڑ،موبائل نمبر:- 9149790906
 
 
اک نظر میں تمہارے ہو بیٹھے
تب سے ہوش و حواس کھو بیٹھے
تھی مجھے آرزو تری جب تک
چشمِ خوباں میں سب پِرو بیٹھے
بارِ خاطر کے اس بھنور سے ہم
فکرِ فردا میں با وضو بیٹھے
اس ہجومِ  بہار میں اکثر
ہم بھی راز و نیاز کھو بیٹھے
کیا کروں دلِ گداز کا ماتم
تیرِ نشتر کی طرح چُھو بیٹھے
پہلے نگلی ہے زندگی میری
اور اب شان سے وہ روبیٹھے
چیر دیتا ہے میرا دل یاورؔ
جب سے اوروں کے پاس ہو بیٹھے
 
یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ
موبائل نمبر؛9622497974
 
 
آج پھر ہم نے اُس میں بے وفائی دیکھی
لب تو خاموش رہے آنکھ بھرآئی دیکھی
حال دل کا نہ پوچھا گذرا روبرو ہوکر
ہم نے کچھ نا کہا اور جگ ہنسائی دیکھی
یوں تو کرتا وفا کے دعوے ہے اکثر
جب ضرورت پڑے تو آنکھ پرائی دیکھی
ہم نے ڈھونڈا اُسے ہے چاندتاروں میں
عرش تک ہے جو اُسکی رِسائی دیکھی
ہے وہ مغرور یا ہے خود میں وہ مسرور
مجھ سے خاموش ، اُن سے لب کشائی دیکھی
خوشیاں آتی ہیں سحرؔ اور چلی جاتی ہیں
یہ غموں سے کیا اپنی ہم نوائی دیکھی
 
ثمینہ سحر مرزاؔ
بڈھون راجوری