تازہ ترین

ٹیسٹ میں نئی قسم کے کووِڈ- 19وائرس کی پہچان نہیں ہوسکتی:ڈاک۔RT-PCR

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


 سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے کہا ہے کہ کووِڈ - 19کی نئی ہیت کے اقسام کی کھوج RT-PCRٹیسٹ میں نہیں کی جاسکتی ہے اور اس میں چوک ہوسکتی ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارنے کہا کہ منفی ٹیسٹ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ  کوروناوائرس کی نئی ہیت کے قسم کی موجودگی نہیں ہے۔RT-PCRٹیسٹ عام طور سے کووِڈ- 19سے متاثرہ لوگوں کی جانچ کیلئے کیا جاتا ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ ہمیں منفی ٹیسٹ نتائج حاصل ہوں گے اگر نئے ہیت کے وائرس نے کسی شخص کو متاثر کیا ہو۔انہوں نے کہا کہ نئی اقسام کے کووِڈ کے جراثیم میں مولیکیولرٹیسٹ میں چھپ جانے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص اگر نئی ہیت کے کوروناوائرس سے متاثر ہے تو اس کی نشاندہی نہیں ہوسکتی ہے اور اُسے الگ تھلگ نہیں کیاجائے گا اور وہ صحت مند لوگوں میں ہی رہے گا۔یہ تمام لوگ سماج میں اس بیماری کو پھیلاتے رہیں گے۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ نئی قسم کے وائرس کی نشاندہی نازک ہے اوراس سے سماج میں اس کے قابو کرنے اور اس کی روکتھام سے متعلق موثر طریقہ کار اپنانے میں مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے جینومک سیکیونسنگ لازمی ہے تاکہ کووِڈ- 19کے نئے اقسام کے جیناتی ڈھانچے کی مکمل جانچ ہو۔انہوں نے کہا کہRT-PCRٹیسٹ سے کسی شخص میںکووِڈ- 19 کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے لیکن جینٹک سیکیونسنگ سے وائرس کی مخصوص قسم جس سے وہ شخص متاثر ہوا ہو،کا پتہ چل جاتا ہے ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ ہم صرف مثبت معاملوں کو ہی جینٹک سیکیونسنگ کیلئے بھیجتے ہیں تاکہ نئی ہیت کے اقسام کا معلوم ہوسکے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ سیکیونسنگ اس لئے بھی ضروری ہے اگر ہمیں شک ہوکہRT-PCRٹیسٹ نے غلط منفی نتیجہ دکھایا ہے.۔انہوں نے کہا کہ نئی قسم کے وائرس کی نشاندہی اوران کا پتہ چلانالازمی ہے اگر ہمیں کووِڈ- 19کی دوسری لہر سے نجات چاہیے۔انہوں نے مزیدکہا کہ صرف ایک برس میں کووِڈ- 19نے نئی ہیت کی اقسام کو جنم دیا ہے جو اصل وائرس سے جیناتی سیکیونسنگ میں مختلف ہے ۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ کیسے نئی اقسام کے وائرس ،منتقلی ،علامات اور ویکسین کے اثرات میں مختلف ہیں.۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں اب تک کووِڈ- 19کے نئے ہیت کے241وائرسوں کوپتہ چل چکا ہے لیکن مہاراشٹر میں نئے ہیت کے جراثیموں نے تشویش پیدا کی ہے ،کیوں کہ ان کی موجودگی اس وقت ظاہر ہوئی ہے جب ریاست میں کووِڈ معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔
 

تازہ ترین