تازہ ترین

مشرقی لداخ کے باقی ماندہ علاقوں سے فوج کی واپسی

قیام امن کیلئے بھارت کوچین کے مثبت ردعمل کی توقع

تاریخ    6 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


نئی دہلی//بھارت نے کہا ہے کہ اُسے امید ہے کہ چین کے ساتھ فوجی کمانڈروں اور سفارتی سطح کے موجودہ باہمی مشاورت کے نظام کے تحت مشرقی لداخ کے باقی ماندہ علاقوں سے  دونوں اطراف کے فوج کی تیزی سے واپسی کیلئے کام کیا جائے ۔یہ بیان دونوں ملکوں کی طرف سے پینگانگ جھیل کے شمال و جنوب سے فوجیوں اور ہتھیاروں کی واپسی کا عمل مکمل ہونے کے کئی دنوں بعد سامنے آیا ہے ۔ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان انواراگ سری واستو نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب وانگ لی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اورایک ہاٹ لائن کے قیام پراتفاق کیا جس کی تفصیلات سفارتی ذرائع سے طے کی جائیں گی۔   سری واستو نے کہا،’’ہمیں امید ہے کہ چین ہمارے ساتھ سفارتی اور سینئر فوجی کمانڈروں کی سطح پربات چیت کرے گا تاکہ باقی ماندہ علاقوں سے بھی فوج کو واپس بلانے کاعمل یقینی بنانے کو مکمل کیا جائے۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’اس سے دونوں طرفین کو مشرقی لداخ میں فوجیوں کی تیزی سے واپسی میں سہولت ہوگی کیوں کہ یہی ایک راستہ ہے جس سے باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے امن اور شانتی کا ماحول قائم ہوگا‘‘۔وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پرباقی ماندہ علاقوں سے فوجوں کی جلد واپسی پر زوردیا تھا۔بھارت نے گزشتہ ہفتے سینئر کمانڈروں کی سطح کی چیت کے دسویں دور میں خطے میں تنائو کو دور کرنے کیلئے دیسپانگ،گوگرااور گرم چشموں کے علاقوں سے فوجوں کی فوری واپسی پر زوردیاتھا۔ وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ہم منصب وانگ لی کو بتایا تھا کہ تمام اختلافی پوائنٹوں پر سے فوجوں کی واپسی ایک بار مکمل ہونے کے بعد دونوں اطراف علاقے سے فوج کو تیزی سے واپس بلانے پرتوجہ مرکوزکرسکیں گے اورامن کے قیام کیلئے کام کرسکتے ہیں ۔
 

تازہ ترین