تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    5 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال : آج کل بھیڑ کے گوشت کی قلعت ہے ۔کئی علاقوں میں دیگر ہلال جانوروں کا گوشت فروخت کیا جارہا ہے ۔ چند روز قبل ایک علاقہ میں اونٹ کا گوشت دستیاب تھا ،چنانچہ یہ گوشت لایا گیا اور پکاکر کھایا بھی گیا ،پھر اس بارے میں پتہ چلا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہ بھی سُنا کہ یہ حدیث میں بھی ہے۔عرض ہے کہ کیا واقعتاً اس بارے میں کوئی حدیث ہے،اگر ہے تو وہ کیا ہے اور کہاں کس کتاب میں ہے؟ نیز اب اسکے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہوسکتا ہے ۔اگر کسی باوضو نے اونٹ کا گوشت کھایا ہو تو کیا اس شخص کا وضو باقی ہے یا نیا وضو کرنا لازم ہے؟
لطیف احمد گوجر۔نروال جموں
 

اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرنا۔۔۔ معاملے کی توضیح

جواب :اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کے متعلق حدیث مسلم،ترمذی ،مسند احمد اورطبرانی میں ہے۔حدیث یہ ہے: حضرت براء ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا گیا کہ کیا اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کرنا ہوگا ۔آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ ہاں! وضو کرو‘‘۔پھر سوال کیا گیا کہ کیا بکری کا گوشت کھانے سے وضو کرنا پڑے گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’نہیں!اس وجہ سے وضو نہ کرو‘‘
اسی طرح کی حدیث حضرت جابر بن سمرہؓ اور حضرت اُسید بن حفیرؓ سے بھی مروی ہے۔اس حدیث کی بنا پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور حضرت اسحٰقؒ کی رائے یہی ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے ۔شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ نے اس پر تفصیلی بحث نقل کرکے لکھا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے۔
اس رائے کے برخلاف امام ابو حنیفہ ؒ،امام مالکؒ،امام شافعیؒ اور دیگر تمام فقہاء و محدیثین کی رائے یہ ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے کی بِنا پر وضو نہیں ٹوٹتا ہے ،اس لئے کہ وضو تو جسم سے کسی نجاست کے نکلنے کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے اور اونٹ کا گوشت کھانے سے کوئی بھی نجس چیز مثلاً پیشاب یا پاخانہ جسم سے خارج نہیں ہوتا ،اس لئے وضو نہیں ٹوٹے گا اور حدیث میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔رہا یہ کہ حدیث میں تو حکم دیا گیا کہ وضو کروتو اس بارے میں ان تمام فقہاء و مجتہدین نے فرمایا کہ یہاں وضو سے مراد شرعی وضو نہیں ہے بلکہ ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے تاکہ گوشت کے چربی کی صفائی ہوجائے۔چنانچہ طبرانی میں علامہ ضیاء الدین مقدسی کی المختارہ میں ایک حدیث اس طرح ہے:
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص باوضو ہو پھر اُس نے کوئی کھانا کھایا تو وہ وضو نہ کرے۔ہاں! اگر اونٹ کا دودھ پیا تو پھر پانی سے کلی کرو ۔مختلف موقعوں پر بہت ساری احادیث میں وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے مگر وہاں وضو سے مراد وضو شرعی نہیںبلکہ صرف وضو لغوی ہے اور وضو لغوی صرف ہاتھوں کو اور منہ کو دھونا ہوتا ہے۔چنانچہ ترمذی میں حدیث ہے کہ حضرت رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ کھانے کی برکت اس میں ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی وضو کیا جائے ۔اس حدیث میں وضو سے مراد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے ۔خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور جس حدیث میں وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اُس میں وضو سے مراد ہاتھ دھونا اور کلی کرنا ہے۔چناچہ اونٹ کے گوشت میں چکناہٹ اور چربی کی زیادتی اس کے بغیر دور نہیں ہوتی۔
٭٭٭٭٭
سوال : لاک ڈاون اور کرونا کے خوفناک خطرات کی بنا پر بہت ساری مسجدوں میں جمعہ شروع کیا گیا ۔اب اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بہت زیادہ مقامات پر نزاع کی صورت حال سامنے آنے لگی ہے۔جن مساجد میں جمعہ شروع کیا گیا ہے اب کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ برقرار رہے۔جبکہ دوسری مساجد کے ذمہ داران چاہتے ہیں کہ وہ بند ہوجائے تاکہ بڑی جامع مسجدوں کی اجتماعیت برقرا ررہے۔کچھ علاقوں میں بہت چھوٹے گائوں میں بھی جمعہ شروع کیا گیا ہے ،کچھ مساجد کے نمازی آپس میں ہی مختلف رائے اپنائے ہوئے ہیں ۔ایک دھڑا چاہتا ہے جمع برقرار رہے ،دوسرا چاہتا ہے کہ اب بند ہوجائے ۔اس صورت حال کے متعلق شرعی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
بشارت علی ۔جموں و کشمیر
 

کورونا کے خطرات ۔۔۔ چھوٹی مساجد میں اہتمامِ جمعہ

 مسائل اور حل
جواب :نماز جمعہ کی شان اجتماعیت کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک زمانے میں مدینہ میں جمعہ شروع فرمایا تو صرف ایک ہی مسجد میں یہ جمعہ ہوا کرتا تھا حالانکہ اُس وقت کم از کم دس بار ہ مختلف قبائل کے محلوں میں مساجد قائم تھیںمگر جمعہ صرف ایک ہی مسجد ،مسجد نبوی میں ہوتا تھا ۔اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ میں ایک ہی جگہ ایک ہی مسجد میں جمع ہوکر فریضہ ادا کرنا شریعت اسلامیہ کا مطلوب و مستحسن ہے۔
مگر جب شہروں اور قصبات کی آبادی بڑھ کر دُور دُور تک پھیل گئی تو اُمت کو حرج سے بچانے کے لئے متعدد مساجد میں جمعہ پڑھنے کی اجازت دی گئی۔اس طرح ایک ہی آبادی میں متعدد جمعہ شروع ہوگئے ۔موجودہ کورونا بیماری جو وبائی شکل اختیار کرگئی اور اس کی وجہ سے ایک ہی جگہ بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا خطرے کا ذریعہ محسوس کیا گیا تو مسلمانوں کا جمعہ بچانے کے لئے چھوٹی مساجد میں جمعہ پڑھنے کی اجازت دی گئی۔اب صورت حال درپیش ہے ،اُس کے لئے درج ذیل اصولی رہنمائی مدنظر رکھ کر عمل کرنا چاہئے۔
۱۔جمعہ کو باقی رکھنے یا ختم کرنے کو نزاع اور اختلاف کا ذریعہ ہرگز نہ بنایا جائے۔
۲۔جو لوگ کسی بھی مسجد میں جمعہ جاری رکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں اس لئے وہ اس کا اصرار بھی کرتے ہیں اُن کی خود کی ذمہ داری ہے کہ و ہ اپنے جمعہ کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا شرعی حکم حاصل کریں ۔
۳ ۔ بڑی مساجد جہاں پہلے سے جمعہ قائم تھا ،اُن مساجد کے نمازی یا انتظامیہ دوسری مساجد کے جمعہ کو ختم کرنے کی مہم شروع کرنے سے سخت پرہیز کریں کیونکہ یہ اُن کا مسئلہ ہی نہیں ہے ۔
۴۔ جن مقامات پر شرائط جمعہ سرے سے ہی نہیں ہیں، اُن مقامات میں لاک ڈاون سے پہلے بھی جمعہ درست نہ تھا ۔اُس کے بعد بھی درست نہیں۔لہٰذا ایسی چھوٹی بستیوں میں جمعہ برقرار رکھنے سے پہلے کسی مستند مفتی سے رجوع کریں ،اُس کے بغیر جمعہ جاری رکھنا محل اعتراض ہے۔
۵۔شریعت اسلامیہ جمعہ میں زیادہ سے زیادہ اجتماعیت چاہتی ہے ،اس لئے متعدد جگہوں پر جمعہ منشاء ِدین الٰہی ہے ۔لہٰذا جو کسی جگہ جمعہ جاری رکھنے پر مصر ہیں،وہ غور کریں کہ اُن کے دِلوں میں جذبۂ اصلی کیا ہے۔کیا اتباع شریعت یا خود کے شوق کی تکمیل ہے۔ اپنی نیتوں کا محاسبہ کریں پھر جمعہ کا فیصلہ کریں۔
۶ ۔ جن متعدد مساجد میں جمعہ شروع کیا گیا ،اگر اُن میں اب کوئی وجہ نہیں ہے تو اب جمعہ جاری رکھنا مستقل شرعی وجہ کے بغیر کیوں پایا جارہا ہے ۔اس کے لئے شرعی طور پر جواز نہ ہو تو پھر اصرار ہرگز نہ ہونا چاہئے۔
۷۔ صرف ذاتی راحتوں اور نماز کے لئے دور تک چلنے کو بوجھ سمجھنے کی وجہ سے قریب تر جمعہ برقرار رکھنے کا مزاج شریعت میں پسندیدہ مزاج نہیں۔لہٰذا اپنے اندرون کا بار بار جائزہ لیا جائے اور اپنے اخلاص کا احتساب کیا جائے۔
۸۔ جن مساجد میں جمعہ برقرار رکھنے پر اصرار ہے ،پہلے وہ مستقل مشروعیت جمعہ کا کسی مستند مفتی کے سامنے پیش کریں جو وجوہات جواز جمعہ کی بنیاد بن سکیں تاکہ صحیح رہنمائی بھی ہوپائے اور اُمت کی نمازیں بھی درست ہو اور شریعت کا منشا ء بھی پورا ہوسکے ۔اس کے بغیر جمعہ جاری رکھنے پر اصرار، ہوسکتا ہے شرعاً قابل ِرد ہو۔
٭٭٭٭٭
سوال : یہاں کشمیر میں بہت سارے لوگ گفتگو میں یہ جملہ بولتے ہیں’’الکذاب لا امتی‘‘پھر ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہے۔ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث ہے؟اسی طرح بہت ساری مجالس میں ہم کو یہ سُننے کا موقع ملا ’’قولُہٗ ایمانُہٗ ‘ اس جملے کا مطلب کیا ہے ۔یہ قول کس کا ہے ،اس کی نسبت کسی شخصیت کی طرف ہے ؟ اسی طرح یہ جملہ بھی سُننے میں آتا ہے ’’الصحبتہ من التاثیر‘‘
اس جملے کی حقیقت بھی بیان کیجئے۔
محمد سلطان بٹ ۔رعناواری سرینگر
 

کچھ غلط العام جملوں کی توضیح

جواب:جھوٹ بولنا ،کذب بیانی کرنا یقیناً گناہ ہے ۔قرآن کریم میں بھی اور احادیث شریفہ میں بھی کذب بیانی کی آئی ہے ۔کذب بیانی یہ ہے کہ جو واقعہ نہ ہوا ہو ،اُس کے متعلق کوئی شخص یہ بولے کہ یہ واقعہ ہوا ہے یا کوئی کام نہ ہوا ہو اور کوئی بولنے والا یہ بولے کہ یہ کام ہوا ہے ۔مثلاً نماز نہیں پڑھی ہے اور کوئی شخص بولے کہ پڑھ لی ہے تو یہ کذب بیانی ہے یا کسی شخص نے نشہ کیا ہے مگر بات کرتے ہوئے کہے کہ نشہ نہیں کیا ہے ۔یہ جھوٹ بولنا ہے۔بلا شبہ یہ گناہ ہے اور قرآن کریم میں کذب بیانی کرنے والوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔
اس کذب بیانی کی مذمت کے لئے یہ جملہ بولنا کہ الکذّاب لا اُمتی،یہ جملہ عربی ادب و اسلوب کے اعتبار سے غیر فصیح بلکہ غلط ہے اور پھر اُس کو حدیث کہنا سخت منع ہے۔چنانچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی ہو ،اُس کاٹھکانہ جہنم ہے ۔(بخاری و مسلم)
خلاصہ یہ کہ یہ جملہ عربی کے اعتبار سے بھی درست نہیں اور ہرگز ہرگز حدیث نہیں ہے۔(۲) قولہ ایمانہ۔عوام میں رائج ایک جملہ ہے جس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ وہ اپنی بات کا پکّا اور وعدہ کا پانبد ہے۔اسی طرح صحبت کے اچھے یا بُرے اثرات کو بیان کرنے کے لئے یہ جملہ زبانِ عوام میں رائج ہے ،الصحبتہ من التاثیر۔عربی کے اسلوب کلام کے اعتبار سے یہ جملہ غلط ہے ۔صحبت کی تاثیر ضرور ہوتی ہے مگر یہ جملہ صحیح نہیں ہے۔