تازہ ترین

ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی کینواس

’’بکھرے رنگ‘‘ کے حوالے سے

تاریخ    4 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل سالمؔ
بقول ڈاکٹر ترنم ریاض:’’اردو زبان و ادب میں ادیبائوں کے کارنامے ایک پوری صدی پر محیط ہیں۔اردو ادب کے ان سارے منظر نامے پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر یہ بھی انداز ہوتا ہے کہ ادیبائوں نے اس منظر نامے کو اور بھی دلکش اور جاندار بنانے میں خاصا رول ادا کیا ہے۔گزشتہ صدی میں خاتون ناول و افسانہ گار ،شاعرات ،انشائیہ نگار،مزاح نگار ،حتی کہ خاتون تنقید نگاروں نے اردو ادب کی بقا میں ایک اہم کر دار کیا ہے۔’’(اردو کی ادیبائیں،منظر پس منظر۔ص۔32 )
اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تخلیقی دنیا میں سر گرم نظر آتی ہیں جن میں ایک محترم نام ڈاکٹر عقیلہ کا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ڈاکٹر عقیلہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میںشعبہ عربی میں  بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز جموں و کشمیر میں ہی کیا جبکہ ان کا پہلا افسانہ’’طلاق‘‘روزنامہ کشمیر عظمی 2019 میں شائع ہو۔ حال ہی میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’بکھرے رنگ ‘‘2020 میں منصہ شہود پر آگیا۔اس مجموعے کے بیشتر افسانے کشمیر عظمیٰ میں ہی شائع ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی کینواس زندگی کے مختلف اور دلکش رنگوں سے مزین ہے۔انھوں نے اپنے افسانوں میں عورت کو کبھی ماں کا رنگ،کبھی بیوی کارنگ،کبھی بہن کا رنگ ،کبھی بیٹی کا رنگ اور کبھی ایک بہادر خاتون کا رنگ دے کر اس کو سماج میں ایک اعلیٰ منصب عطا کر نے کی کوشش کی ہے۔ان کے یہاں عوت ایک فرمانبردار بیٹی،وفادار بیوی اور مثالی ماں کے خدوخال لے کر سامنے آتی ہے۔ایک وفا دار بیوی جب اپنے گھر کے کام بڑی محنت و مشقت سے انجام دیتی ہے اور پھر اس انتظار میں رہتی ہے کہ کب اس کا شوہر ،اس کے کام کی تعریف کرے  تاکہ زندگی کا یہ حسین سفر رواں رہے۔اس کے برعکس جب ایک خاوند اپنی بیوی کے ہر ایک کام پر کاری ضرب لگائے تو اس گھر کا نقش ہی بگڑ جاتا ہے۔ اس گھر کا ایک ایک فرد ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہو کر سکون کی تلاش میں رہتا ہے۔ایسے شوہر یا ایسے مرد کوکس طرح صحیح ڈگر پر لایا جاتا ہے۔افسانہ ’’پیڑ کا جن ‘‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’ اور یہ کہہ کر جن واپس چلا گیا۔۔رقیہ بیگم ہوش میں آئیں تو دیکھا برکت علی ہاتھ جوڑے ان کے سامنے بیٹھے ہیں۔رقیہ بیگم نے ڈرامہ کرتے ہوئے کہا’’میں کہاں ہوں؟ مجھے کیا ہوگیا تھا؟ برکت علی نے بڑے پیار سے جواب دیا ۔کچھ نہیں بیگم تم کمزوری کی وجہ سے ذرا بے ہوش ہوگئی تھیں۔۔ایسا کرو تم یہاں بیڈ پر آرام کرو میں تمہارے لئے جوس لیکر آتا ہوں۔۔یہ کہہ کر برکت علی کچن کی طرف چلے آئے ۔رقیہ بیگم نے بڑے مزے سے میگزین ہاتھ میں اٹھایا اور اطمینان کی سانس لیکر مسکراتے ہوئے اس پیڑ کی طرف ایسے دیکھا کہ جیسے اس پیڑ کے جن کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔47 )
کافی عرصہ سے جنسی استحصال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کچھ درندہ صفت لوگ معصوم بچیوں کی عصمت تا ر تار کرکے ان کو کھلنے سے پہلے ہی مسخ کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے جہاں عورت کا وجود ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا۔جس کی عمدہ مثال افسانہ ’’بکھرے رنگ‘‘ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔جہاں سیما کی عصمت کو تارتار کر کے اس کے گھر والے بدنامی کے خوف کی وجہ سے سیما کے احساسات،جذبات اور امنگوں کا قتل کر کے ان کا زبردستی بیاہ کرتے ہیں اور آسانی سے وہ اپنے گھر والوں کے ظلم کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ڈاکٹر عقیلہ افسانہ بکھرے رنگ میں لکھتی ہے:’’ میر دل بہت گھبرا  رہا ہے۔۔کچھ تو بول میری بچی ۔۔۔کیا ہوا؟سیما نے بھرے گلے سے پوری تفصیل ماں کے سامنے بیان کردی ۔پاپا نے پولیس کو کال کرنا چاہا تو ماں نے جھٹ سے ان کے ہاتھ سے رسیور فون پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔یہ کیا کر رہے ہوں آپ؟پولیس کو فون کرنے سے یہ بات پوری شہر میں پھیل جائے گی جو بات اس وقت گھر کی چار دیواری میں ہے۔اس میں ہماری اور ہماری بیٹی کی بدنامی ہوگی اسلئے ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم خاموش رہیں۔ اور سیما کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میںسختی سے کہا۔۔سیما خبر دار یہ بات کبھی کسی کے سامنے کی تو ۔۔اور صفائی ستھرائی کر کے گھر کا ماحول ایسا بنا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔51 )
ڈاکٹر عقیلہ نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز افسانہ ’’طلاق ‘‘ سے کیا ہے۔اس افسانے میں ایک ایسی عورت کی تصویر کشی کی گئی جو عشق مجازی میں گرفتار ہو کر شاداب کو اپنا ہم سفر بناتی ہے۔شاداب یہ چاہتا ہے کہ میری بیوی میرے گھر کی زینت میں چار چاند لگائے ۔اس کے برعکس جب اسے یہ خبر سننی پڑتی ہے اس کی بیوی کو سرکری نوکری موصول ہوئی تو وہ اسے طلاق ثلاثہ دے دیتا ہے۔کچھ عرصے بعد جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو حلالہ کرنے کا راستہ ڈھونڈ کر رحمت چاچا کے یہاں پہنچ جاتا ہے ۔رحمت چاچا اس کی بیوی کے ساتھ کون سا رویہ اختیار کرتا ہے ۔ان کی نیت کتنی رحمانی اور کتنی شیطانی ہے ،ملاحظہ فرمائیں:’’ارے کون ہے؟اتنی صبح کون آگیا۔کہتے ہوئے خاتون نے دروازہ کھولا ۔تو شاداب اسے ایک طرف کرتے ہوئے فلیٹ میں رحمت چاچا ،رحمت چاچا پکارتے ہوئے گھس گئے۔۔۔لیکن رحمت چاچا کہیں نظر نہیں آئے۔۔توعورت سے پوچھا رحمت چاچا؟ارے کون رحمت چاچا کہیں تم اس بوڑھے کی بات تو نہیں کر رہے ہو جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی؟ہاں میں انہی کی بات کر رہا ہوں ۔وہ کہاں ہیں؟جلدی بتائو نا؟وہ تو رات ہی فلیٹ چھوڑ کر چلے گئے۔چلے گئے ۔۔لیکن کہاں؟کیوں؟بھئی پتہ نہیں۔۔کہیں گئے؟کہہ رہے تھے بیگم کولے کردوسرے شہر جارہا ہوں اب وہیں رہیں گے۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔83 )
افسانہ ’’چال ‘‘ میں رشتوں کا بٹوارا،قدروں کی شکست اور نفسیاتی کشمکش کو اجاگر کیا گیا ہے۔اس افسانے میں ماں جیسی ہستی کو کس طرح پیش کیا گیا، وہ قابل غوروفکر ہے کیونکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی ،ماں کی فرماں برداری اور حقوق کی ادائیگی سے حاصل ہوتی ہے۔سلیم کی تعلیم وتربیت ،پرورش ،خوراک وپوشاک کے لئے کتنی سختیاں برداشت کرتی ہے، اس کا انداہ سلیم کی بیوی کرن کو نہیں ہوتا ہے ۔کرن اپنی ماں کے ساتھ منصوبہ بنا کر اپنی ساس سے کنارہ کشی اختیار کر کے اس گھر کی رانی بننا چاہتی ہے۔کرن اس رشتے کا بٹوارا کس طرح کرتی ہے،افسانے کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔تم مجھے بالکل بھول چکی ہو۔ہر وقت امی کے پاس رہتی ہو۔کیوں نہ رہوں۔آخر تمہاری امی میری ماں جیسی ہیں۔اور ماں کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔معلوم ہے نا؟ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے تو تم میری زندگی کیوں جہنم بنارہی ہو۔سلیم نے بہت غصے میں کہا۔بس اب اور نہیں۔میں نے امی کا انتظام کردیا ہے۔کیا انتظام ؟کرن گھبراتے ہوئے پوچھی۔اچانک دروازے پر ایک وین آکر رکی۔یہ گاڑی آپ نے کیوں لائی ہے۔یہ گاڑی اولڈ ایج ہوم سے آئی ہے۔‘‘(بکھرے رنگ۔ص۔139 )
علاوہ ازیں قاتل ،فریب ،آخر میں نے پالیا،سرجو ،چھوٹی سی محبت ،شادی کا تحفہ اور پچھتاوے کا بھنور، یہ تمام افسانے ’’بکھرے رنگ میں شامل ہیں۔انھوں نے اپنے افسانوں میںعورت کے جذبات ،ذہنی نا آسودگی،روزمرہ کی ظلم وزیادتی کا فنکارانہ مہارت سے نقشہ کھینچ کرسماج کے سامنے رکھا لیا ہے۔ان کے بیشتر افسانوں میں عورتوںکی نفسیات،عورتوں کے سماجی مسائل،عورتوں کا احتجاج اور عورتوں کی خود مختاری جیسے موضوعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ان کے افسانوں کی زبان ،اسلوب،کردار اور فنی ٹریمنٹ دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا ہے۔ڈاکٹر عقیلہ کا افسانوی کینواس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انھوں نے ’’بکھرے رنگ‘‘ میں عورتوں کے دکھ درد کو ہی نہیں بلکہ عصری مسائل کو مختلف رنگوں میںپیش کر کے فکشن کی دنیا میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔
پتہ۔ رعناواری، سرینگرکشمیر
فون نمبر۔9103654553