تازہ ترین

بیٹیوں کی صحت نظر انداز کیوں؟

لمحہ فکریہ

تاریخ    4 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


رخسار کوثر ،مینڈھرپونچھ
آنسوں بھری آنکھوں سے اپنا درد بیان کرتے ہوئے ضلع پونچھ ساکنہ اڑائی سے تعلق رکھنے والے محمد اکرم کہتے ہیں کہ'' 17 فروری کے دن اپنے چھوٹے بھائی کی حاملہ بیوی نسیم اختر کو منڈی ہسپتال لے کر گئے، وہاں سے ڈاکٹروں نے ایمبولینس دے کر ہمیں پونچھ ہسپتال کے لئے روانہ کر دیا،ہسپتال پہنچنے کے بعد اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نسیم کی جانچ کی اور بنا دوائی دئے اپنے گھر چلی گئی۔ نسیم کو جب لیبر پین ہونے لگی تو ہم نے نرس کو بلایا اس نے انجکشن اور ایک گلو کوز کی بوتل لگادی۔ اس کے بعد کسی نے مڑ کے بھی نہیں دیکھا ۔دوسرا دن بھی گزر گیا، ہم نے پھر نرس سے بات کی۔ اس نے ہم سے بچے کے لئے کپڑے منگوائے اور کہا کہ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ کافی حالت خراب ہونے کے بعد نسیم کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا۔ لیکن آپریشن کے دوران ماں بچہ دونوں کی موت ہوگئی۔ محمد اکرم کے مطابق پونچھ ہسپتال کے ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے نسیم کی موت ہوئی ،کیونکہ بچہ پہلے ہی ماں کی کوکھ میں مر چکا تھا ۔اگروقت پر علاج شروع کیا ہوتا تو ماں کی جان بچائی جاکئے بچہ وارث کو نہیں دیا جاتا۔اس کا الزام تھا کہ ابھی کچھ وقت پہلے میں نے دو ہزار ان کو دئے پھر مجھے بچہ ملا۔
پیر پنچال عوامی ڈیولپمنٹ فرنٹ کے چیئرمین محمد فرید ملک کہتے ہیں کہ''پونچھ ہسپتال میں ہر تیسرے دن زچگی کے دوران کسی ماں کو اپنی جان گنوانی پڑتی ہے یا جنم لینے والے بچے کواور کبھی کبھی دونوں کی جان چلی جاتی ہے۔بغیرسفارش کے یہاں ڈاکٹر وقت پر بھی نہیں ملتا جبکہ ڈاکٹر ایک ایسا مسیحا ہوتا ہے جس سے ہم اپنی جان کی حفاظت کی امید لگا سکتے ہیں ،لیکن جب ہسپتال میں آنے کے بعد کوئی جان گنوا دیتا ہے تو میں اسے موت نہیں کہوں گا بلکہ ڈاکٹرکے ہاتھوں سے ہوا قتل کہوں گا۔ یہ سب ان کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوتا ہے‘‘۔ ان کا الزام ہے کہ یہاں غریب لوگوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے بس باتوں سے تسلی دی جاتی ہے۔ بہت بار میں نے احتجاج کیا مگر اس مسئلہ کو نظرانداز کیا جاتارہا ہے ۔
بات صرف زچگی اور حاملہ خواتین کی موت تک محدود نہیں ہے بلکہ اس علاقہ میں خواتین اور نو عمر لڑکیوں میں اپنی صحت اور صاف صفائی کے بارے میںبہت کم معلومات بھی ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔این ایف ایچ ایس کے 2015-16 سروے کے مطابق 78 فیصد شہر کی عورتیں اپنی صفائی کا خیال رکھتی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں محض 48 فیصد خواتین ہی صاف صفائی کا خیال رکھتی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دس میں سے چھ عورتیں ہی نیپکن کا استعمال کرتی ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف 12فیصد خواتین اور لڑکیوں کو ہندوستان میں سینیٹری نیپکن تک رسائی حاصل ہے جبکہ ان میں سے اکثریت ماہواری کے دوران پرانی اور غیر صحت مند طریقوں پر انحصار کرتی ہیں۔
تعجب اس بات کا ہے جہاں سرکار بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ،پوشن ابھیان،جننی سرکشا یوجنا،پردھان منتری مترتواہ سرکشا ابھیان جیسی بہت ساری ایسی اور سکیموں کا دعوی کرتی ہے جن کے تحت ہندوستان کی ہر نو عمر لڑکی اور حاملہ عورت کی صحت کا خاص خیال رکھنے کی بات کی گئی ہے لیکن یہ سرکاری سکیمیں کتنی فیصد کامیاب ہیں، اس کے مطلق ضلع پونچھ کے سیکٹر بالاکوٹ گاؤں سنجیو ٹ کی 17 سالہ سمیرا کوثر کہتی ہیں کہ آج تک یہاں کوئی آگاہی  کیمپ نہیں لگایا گیا ۔صرف یہی نہیں بلکہ سکیم کے تحت ملنے والی جانکاری،نیوٹریشن اور نیپکن کی معلومات بھی سمیرا کو نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ ہمارے گاؤں کے آنگن واڈی سنٹر کو چلانے والی کون ہے مجھے ان کا نام بھی نہیں معلوم۔یہی وجہ ہے کہ اس علاقہ کی بیشتر نوعمر لڑکیوں کو مناسب دیکھ بھال اور مناسب جانکاری نہیں ہونے کی وجہ سے یوٹرس انفیکشن کی بیماری عام ہوگئی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں نتیجہ ہسٹریکٹومی تک پہنچ جاتا ہے۔ 
اس بارے میں مومینہ حسن بتاتی ہیں کہ میں نے انڈوں گلوبل سوشل سروس سوسائٹی کے تحت ہیلتھ اور حاجن پروجیکٹ میں ضلع بانڈی پورہ اور بارہ مولہ میں ٹرینر کی حیثیت سے کام کیاہے۔اس دوران ایک چیز کی کمی پائی وہ ہے، لڑکیوں کو اپنی صحت کے متعلق جانکاری ہی نہیں ہوتی ہے۔ انہیں کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف ہو تو ماں کو بتانے سے بھی شرم محسوس کرتی ہیں۔ کائونسلنگ کے دوران ایک لڑکی نے مجھ سے ہمت کرکے بات کی ۔جب میں نے اس کی تکلیف کے بارے میں سنا تو اس کو ڈاکٹر سے ملنے کا مشورہ دیا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کا علاج نہ ہو پایا کیوں کہ بیماری نے کافی وقت سے جگہ بنائی ہوئی تھی ۔شادی کے بعد ہسٹریکٹومی کرانا پڑا۔ مزید کہتی ہیں کہ اپنی صحت کے متعلق جانکاری کا ہونا بہت ضروری ہے جنکاری ہوگی تبھی بیماری سمجھ آئے گی اور وقت پر بیماری کا علاج بھی کرایا جائے گا ۔یہ صورت حال صرف بارہ مولہ، بانڈی پورہ یا ضلع پونچھ کی نہیں ہے بلکہ ریاسی اور ادھمپورکے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں میں بھی ہے۔
سی ڈی پی او محترمہ انجم غنی پوشن ابھیان کے تحت ریاسی کی تجربات کا بتاتی ہیں کہ وہاں پر آج بھی لوگ پرانی رسم و رواج کے مطابق چل رہے ہیں ۔ماں کے دودھ سے پہلے چڑھاوا ہوتا ہے پھر بچے کو پلایا جاتا ہے۔ نوعمر لڑکیوں کو صفائی کا تصور بھی نہیں ہے۔اسی حوالے سے ادھمپور کی مینو جی جوپیشہ سے ایک وکیل ہیں اور چائلڈ رائٹ ایکٹیوسٹ بھی ہیں، نو عمر لڑکیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیںکہ میں اکثر دور دراز کے دیہی علاقوں کا دورہ کرتی رہتی ہو ں۔وہاں کی لڑکیوں کو نیپکن کا مطلب ہی نہیں پتااور سکولوں میں دیکھا جائے تو لڑکیاں اور لڑکوں کا بیت الخلاء تک اکٹھاہوتا ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں ماہواری کے دوران سکول جانا بھی صحیح نہیں سمجھتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ جتنی بھی سرکار کی سکیمیںہیں، وہ صرف کاغذات میں درج ہیں۔ حقیقت میں ان کا عمل درآمد بہت کم پایا جاتا ہے۔
تاہم جموں کشمیر کے اعدادوشمار کے حوالے سے جموںیونیورسٹی میں ہوم سائنس کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سریکا منہاس اورمحترمہ رابعہ سلیم کے2014 میں ضلع بانہال اور رام بن کی نو عمر لڑکیوں پر کئے جانے والے ان کے ریسرچ پیپر کے مطابق61 فیصد لڑکیوں میں صحت کے متعلق جانکاری پائی گی جبکہ صرف 56 فیصد لڑکیاں ہی نیپکن کا استعمال کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو فنگل انفیکشن جیسی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ریسرچ کے مطابق نوعمر لڑکیوں میں نیپکن اور صفائی کے ساتھ ساتھ صحت کے متعلق باقی جانکاری کی بھی کمی پائی جاتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیںکہ حکومت وقت بہ وقت لڑکیوں کے معاملات کو لے کر بہت ساری سکیمیں مہیا کرواتی رہتی ہے ،لیکن یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ یہ سکیمیں صرف شہروں اور کاغذات تک محدود رہتی ہیں۔ جہاں پر اصل ضرورت ہے وہاں یہ سکیم کا الف بھی نہیں پہنچتا۔ ایسے میںسکیم کا ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک عورت پورے گھر بلکہ پورے کنبے کو چلاتی ہے، ایسے میں اس کی صحت کا خیال رکھنا سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن افسوس آئے دن اس معاملے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آج بھی لڑکیاں اپنی بیماری کو بتانے میں بہت شرم محسوس کرتی ہیں۔ ماں بیٹی کے درمیاں بہت وقفہ پایا جاتا ہے۔ وہ ماں کے ساتھ بھی اپنی کوئی بیماری شیئر کرنے میں بہت شرم محسوس کرتی ہے۔ دوسری جانب ماں کوبھی علم نہیں ہوتا ہے کہ آج کی چھوٹی سی تکلیف مستقبل میںان کی بیٹی کے لیے بڑی مصیبت کا باعث بن سکتی ہے اور اس کی جان تک کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اس کو کونسلنگ کی بہت ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی صحت کے متعلق معاملات کو اچھے سے کسی کے سامنے بیان کر سکے۔ہر ایک سکیم کے اندر جانکاری کی بات کی جاتی ہے لیکن وہ جانکاری صرف شہر تک ہی محدود رہتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں سرحد اور باقی دیہی علاقوںمیں رہنے والی نوعمر لڑکیوں کو خبر تک نہیں پہنچتی اور وہ صحت کے معاملے میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ 
8 مارچ 2018کو خواتین کے عالمی دن کے روز شروع ہوئے پوشن ابھیا ن سکیم کا نام آج تک سرحد ی علاقوں تک پہنچا ہی نہیں ہے جبکہ اس سکیم کے تحت ایک حصہ میں خاص طور پر نو عمر لڑکیوں کی صحت کی بات کی گئی ہے جس کے تحت کیمپ لگاکے لڑکیوں کوان کی صحت سے مطالق جانکاری دینے کے ساتھ ساتھ خوراک اور نیپکن دینے کی بھی بات کی گئی تھی۔ لیکن افسوس کہ یہ بھی ضرورت والی جگہ پر نہیں پہنچ پائی۔ لہٰذا گورنمنٹ کو اس معاملے پر غور کرنا ہوگا، کیوں کہ صرف سکیم بنانے سے کچھ نہیں ہوتابلکہ فائدہ اس وقت ہوگا جب سرحد اور باقی دیہات کی لڑکیوں کی صحت بھی شہر کی لڑکیوں کے برابر ہوگی۔ جب ان کو اپنی صحت کے متعلق پوری جانکاری ہوگی ،جب وہ کھل کے کسی ڈاکٹر سے اپنی صحت کے متعلق بات کر پائیں گی۔ تاہم ایسے میں ضروری ہے کہ سرکار جہاں ایک طرف بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ مہم کی بات کر رہی ہے وہیں سرکار کو چاہیے کہ اس طرف خصوصی طور پر توجہ مرکوز کر ے تاکہ سرحد ودیہات کی بیٹیاں بھی صحت مند بن سکیں۔ 
(یہ مضمون سنجے گھوش میڈیا اورڈ 2020کے تحت لکھا گیا ہے)