تازہ ترین

بین الاقوامی سرحد کے مکینوں کیلئے ریزرویشن | حد متارکہ کی آبادی برہم،فیصلہ کو حقوق کے منافی قرار دیا

تاریخ    1 مارچ 2021 (34 : 12 AM)   


جاوید اقبال
مینڈھر//حد متارکہ پر بسنے والے عوام نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیاہے جس میں بین الاقوامی سرحد پر رہنے والے عوام کو بھی ملازمت اورداخلوں وغیرہ میں ریزرویشن دی گئی ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے راجوری اور پونچھ کے سرحدی علاقوں کے عوام نے کہاکہ آج تک ملازمتوں میں اے ایل سی کیلئے ان کی خاطر ریزرویشن رہی ہے جس کا کچھ نوجوانوں کوفائدہ بھی ملاہے لیکن اب حکومت نے بین الاقوامی سرحد پر بسنے والے عوام کو بھی اسی زمرے میں رکھ دیاہے جو ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ان کاکہناتھاکہ وہ بین الاقوامی سرحد کے مکینوں کے مخالف نہیں لیکن حکومت کو ان کیلئے الگ سے کوٹہ مختص کرناچاہئے تھانہ کہ حد متارکہ کے ساتھ ہی جوڑ دیناچاہئے تھا۔انہوں نیکہاکہ حد متارکہ کے عوامی مسائل بالکل مختلف ہیں اوران کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سرحد تو راجستھان، گجرات اور دیگر ریاستوں میں بھی واقع ہے اور پھر وہاں کے عوام کو بھی اسی طرز پر ریزرویشن ملنی چاہئے اوراس کیلئے مرکزی حکومت ایک الگ کوٹہ رکھے نہ کہ کٹھوعہ او رسانبہ کے لوگوں کو حد متارکہ کے عوام کے ساتھ جوڑ دیاجائے۔ان کاکہناہے کہ یہ سراسر زیادتی ہے اوران کے حقوق پر شب خو ن مارنے کے مترادف۔انہوں نے کہاکہ اس فیصلہ پر نظرثانی کی جائے کیونکہ حد متارکہ پر بسنے والے نوجوان متاثر ہونگے جن کو تعلیم کیلئے اتنے اچھے مواقع نہیں مل پاتے جتنے مواقع کٹھوعہ اور سانبہ کی سرحد پر رہنے والوں کو ملتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کٹھوعہ شہر کو بھی اسی زمرے میں رکھاگیاہے جبکہ کٹھوعہ جموں کے بعد ایک بڑا ترقیاتی مرکز بنتاجارہاہے جہاں صنعتیں پروان چڑھ رہی ہیں اور دیگر شعبوں میں بھی ترقی ہورہی ہے۔
 

تازہ ترین