تازہ ترین

جنگ بندی پر تازہ اتفاق، ہوا کا خوشگوار جھونکا

تاریخ    27 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


 یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے حد متارکہ اور بین الاقوامی پر کشیدگی کے خاتمہ سے متعلق تمام معاہدوںکی مکمل پاسداری کا عزم ظاہر کیا ہے ۔اس اتفاق رائے کے طفیل اب یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ کم از کم ہندوپاک سرحدوںپر سکون لوٹ آئے گا اور سرحدی آبادی کو طویل عرصہ بعد چین سے سونے کا موقعہ میسر آئے گا۔سرحدی آبادی اب کئی برسوں سے توپ کی رسد بن چکی تھی اور آئے روز کی گولہ باری سے سرحدی آبادی کا جینا دوبھر ہوچکا تھا۔گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران جنگ بندی خلاف ورزیوںکے معاملات کے سارے پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے اور اب ایسا لگ رہاہے کہ آمنے سامنے نا سہی ،لیکن سرحدوںپر سرد جنگ چل رہی ہے جس کی رفتار مدہم ہی سہی لیکن یہ جنگ دونوںجانب نہتے عوام کو نگل رہی ہے ۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم تھاکہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2020کو اس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کیلئے سب سے بدترین سال قرار دیاگیا، جس دوران جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں3 گُنا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس میں مجموعی طور 6گُنا اضافہ ہوا ہے ۔اعداد وشمار خود بتارہے ہیں کہ سرحدوں کی صورتحال قطعی صحیح نہیں تھی۔یہ ایک طرح کی جنگ تھی جو دونوں جانب سے جاری تھی اور دونوں فریق ایک دوسرے کو اس کیلئے مورد الزام ٹھہرا رہے تھے ۔ایک زمانہ ایسا تھا جب سرحدوں پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کاایک بھی واقعہ پیش نہیں آتا تھا۔26نومبر2003کو جنگ بندی معاہدہ عمل میں آیا تو اس کے بعدمسلسل تین برسوں تک سرحدوں پر بندوقیں خاموش رہیں اور 2004،2005 اور 2006میں ایک بھی خلاف ورزی کا واقعہ پیش نہ آیا ۔یہ وہ دور تھا جب واجپائی اور مشرف کے درمیان مذاکراتی عمل اپنی انتہا پر تھااور یہی وہ دور تھا جب بھارت حد متارکہ پر تار بندی کرنے میں کامیاب بھی ہوا ۔تاہم2006سے حالات بدلنا شروع ہوگئے اور سرحدوں کا سکون قائم نہ رہ سکا۔2006میں تین دفعہ جبکہ2007میں21اور2008میں77مرتبہ  اس معاہدہ کی دھجیاں بکھیردی گئیں تاہم بعد ازاں اس میں پھر قدرے کمی ہوئی اور2009میں یہ تعداد28تک پہنچ گئی لیکن پھر گراف بڑھنے لگا اور 2010میں 44 جبکہ 2011 میں 62 ، 2012 میں114اور2013میں347دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ہندوپاک تعلقات میں کشیدگی کا گراف جوں جوں بڑھتا گیا ،سرحدی کشیدگی بھی بڑھتی گئی اور2014میں سرحدی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تعداد583اور2015میں405تک پہنچ گئی۔2014کے بعد سے سرحدیں عملی طور آگ برسا رہی ہیں اور آہنی گولہ باری ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔2016میں سرحدی گولہ باری کے 500سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ2017میںیہ تعداد971تک پہنچ گئی اور 2018میں کشیدگی کی اُس وقت حد ہی ہوگئی جب یہ تعداد3ہزار تک پہنچ گئی۔2019میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے اور مرکزی وزارت دفاع و داخلہ کے مطابق سال رفتہ میںجنگ بندی خلاف ورزیو ں کے3200سے زائد واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔جہاںتک سال رفتہ کا تعلق ہے تو ایسی خلاف ورزیوں کے سارے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے اور اب تو کسی ایک مخصوص سیکٹر میں ہی سرحدی گولہ باری نہیں ہوتی تھی بلکہ کشمیر سے جموں صوبہ تک بین الاقوامی سرحد اور حد متارکہ پر بیک وقت کئی محا ذ کھول دئے جاتے تھے جہاں دونوں طرف کی افواج زمین دوزبنکروں میں گولے داغ کر شہری آبادی کی ناک میں دم کئے ہوتے تھیں۔ سرحدوں پر دہشت کی حکمرانی تھی اور ستم ظریفی کا عالم یہ تھا کہ ہندوپاک کی اس کشیدگی کا خمیازہ آر پار جموں و کشمیر کے عوام کو ہی بھگتنا پڑرہاتھا اور ایل او سی کی دونوں جانب عام لوگ اس ہند وپاک کشیدگی میں توپ کی رسد بن رہے تھے اور یوں اگر کسی کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت تھی تو وہ جموں و کشمیر کے عوام ہی تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام نے ہی اس تازہ معاہدہ کا سب سے زیادہ خیر مقدم کیاہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس معاہدہ کا سب سے زیادہ فائدہ ہی آرپار جموں و کشمیر کے عوام کو ہی ملے گا۔امید کی جانی چاہئے کہ یہ معاہدہ دیر پا ثابت ہوگا اور اس معاہدہ کے طفیل دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک سلسلہ چل پڑے گا جس سے یقینی طور پر اعتماد سازی کی فضاء قائم ہوسکتی ہے جس کے ثمرات دونوں جانب کروڑوں عوام کو یقینی طور پر ملیں گے، جو اب برسہا برس سے امن کے متلاشی ہیں ۔
 

تازہ ترین