تازہ ترین

سفرِ معراج ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

فلسفہ معراج

تاریخ    26 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


سجاد احمد خان
یوں تو اس سفر کو لوگ عام طور پر معراج ہی کے نام سے جانتے ہیں لیکن علماء بتاتے ہیں کہ یہاں درحقیقت دو سفر پیش آئے۔ ایک وہ سفر جب نبی مکرم، فخر مجسم، شافع امم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ تک تشریف لے گئے۔ یہ سفر ’’اسراء‘‘ ہے اور دوسرا سفر وہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمان و مکان کی حدوں سے بلند ہو کر سدرۃ المنتہیٰ اور عرشِ معلّٰی تک تشریف لے گئے یہی سفر ’’معراج‘‘ ہے۔
کسی بھی قوم کی بد قسمتی کی انتہاء یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی عبادات کو بھی تفریح کا رنگ دیدے۔ جب لوگوں کی ذاتی خواہشات، حکم الٰہی اور سنت ِ رسول  ﷺ پر غالب آجائیں تو پھر عجیب و غریب بدعات کا ظہور ہوتا ہے کیونکہ انسان کو فطری طور پر مجاہدہ نفس کے بجائے نفس پرستی ہی میں مزہ آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ہاں بھی مختلف دنوں اور راتوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔ انہی مواقع میں سے ایک معراج کی مقدس اور مبارک رات بھی ہے۔
 معراج کے اس مبارک و مقدس سفر کی تفصیلات تو مسلمانوں کا بچہ بچہ خوب جانتا ہے، اس لئے آئیے ذرا اس سے حاصل ہونے والے اسباق پر غور کرتے ہیں۔
٭… آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو امام الانبیاء ہونے کا شرف عطا ہوا۔ آپ کو سب انبیاء سے بلند ’’سدرۃ المنتہیٰ‘‘ سے آگے عرش پر بلایا گیا۔ گویا بتادیا کہ جس طرح یہ بلندی کی آخری حد ہے اور تمام بلندیوں نے آپ کے سامنے دم توڑ دیا اسی طرح نبوت کا سلسلہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندی اور عروج کے بعد کوئی بلندی نہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد کوئی نبوت نہیں۔ اسی لئے ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ جس کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں رہ سکتا۔
٭…مکہ کی وادی میں ایک روشن صبح کو جب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر کے احوال لوگوں کو بتائے تو ابو جہل اور اس کے حواری مذاق اڑانے لگ گئے، حیران تھے کہ مکہ سے مسجد اقصیٰ کا چالیس دن کا سفر، وہاں سے عرشِ بریں کا سفر اور صرف اتنی دیر لگے کہ ابھی بستر گرم ہو اور دروازے کی زنجیر ہل رہی ہو۔ لیکن صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فوراً اس کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے تو یقینا سچ اور حق ہے۔
 عقل کے مارے اور مادیت کے ڈسے ہوئے لوگ آج بھی کم نہیں، ابوجہل کے دل و دماغ سے سوچنے والوں کی کسی بھی زمانے میںکمی نہیں رہی لیکن صاحب ایمان و ایقان وہی ہے جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا سا شعور رکھتا ہو اور زبانِ نبوت سے نکلی ہوئی ہر بات کی تصدیق کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، سائنس کے اس ترقی یافتہ دور میں اس واقعہ کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں، لیکن اس وقت علماء کے بقول یہ عظیم سفر جہاں ایک انعام تھا وہاں کمزوردلوں کیلئے ایک امتحان بھی تھا۔
 ٭… مہربان میزبان، خوش نصیب مہمان کو رخصت کرتے وقت بھی کچھ تحائف دیا کرتے ہیں۔ ہمارے آقا(صلی اللہ علیہ وسلم) بھی اس سفر سے نماز کا تحفہ لے کر لوٹے۔ دن میں پانچ وقت نماز کا تحفہ ایسا عمومی تحفہ ہے جس میں جو خوش نصیب شریک ہونا چاہئے ہو سکتا ہے اور بدقسمت وہ ہے جو اس عظیم سفر کے تحفے میں بھی حصہ پانے سے محروم ہوجائے۔ اسی لئے فرمایا گیا ’’نماز، ایمان والوں کی معراج ہے‘‘ اور ’’انسان اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔‘‘
٭…اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے چلے تو پہلا پڑائو مسجد اقصیٰ میںہوا، جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’پاک ہے وہ ذات جو راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گئی جس کے اردگرد کو ہم نے بابرکت بنایا ہے‘‘۔
یہی مسجد اقصیٰ جو اس عظیم سفر کا پڑائو بنی اور کم وبیش ۶۱ ماہ تک مسلمان اسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے
 رہے، یہ عظیم مسجد فلسطین کے شہر بیت المقدس میں واقع ہے۔ یہ ملک اور یہ شہر آج خونِ مسلم سے رنگین ہے۔ اس کے گلی کوچوں میں مسلمانوں کے بے گوروکفن لاشے کسی صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی آمد کے منتظر ہیں۔ اس کے درودیوار آج پھر ’’اشہد ان محمدا رسول اللہ‘‘ کی دلنواز صدائیں سننے کیلئے بیقرار ہیں۔وہی کنکر، وہی سنگ ریزے، وہی صفیں اور وہی محراب آج زبان حال سے پکار پکار کر گویا ہیں:
اک بار پھر بطحا سے فلسطین میں آ
کہ راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا
٭… اعلانِ نبوت کے بعد سے مصائب و آلام کا ایک مستقل سلسلہ ہے جو دس سال سے زیادہ تک جاری رہا۔کبھی شاعر، کبھی ساحر، کبھی مجنون، کبھی کاہن کہاگیا۔ کبھی گالیاں دی گئیں کبھی پتھر برسائے گئے۔ کبھی قتل کرنے کی تدبیریں ہوئیں کبھی جلاوطن کرنے کی دھمکیاں دیں گئیں۔ آپ کے جانبازوں کو کبھی گرم ریت پر لٹایا گیا تو کبھی سلگتے انگارے ان کے خون سے بجھائے گئے۔ کبھی ماں حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو برچھی کا وار کرکے شہید کیا گیا تو باپ اور بیٹے یاسر رضی اللہ عنہ اور عمار رضی اللہ عنہ کو باندھ کر گلی کوچوں میں گھسیٹا گیا اور یہ سب کچھ صرف اس لئے ہو ا کہ یہ نیا دین مٹا دیاجائے۔ یہ نئی ابھرنے والی روشنی بجھادی جائے۔
 جب سب وارخالی گئے، سب تیروں کے نشانے خطا ہوگئے تو ’’شعب ابی طالب‘‘ میں محصور کرکے سماجی طور پر بائیکاٹ کردیاگیا۔ نہ کھانا نہ پینا، نہ ملنا، نہ ملانا، نہ سننا، نہ سنانا ہر طرح کے تعلق اور رابطے منقطع کردئیے گئے۔ ہر راحت اور آسائش بلکہ ضروریات کے راستے بند کر دئیے گئے۔ خیال تھا کہ اب اپنی راہ سے ہٹ جائیں گے، معافی نامے جمع کروائیں گے، آئندہ کیلئے حلف اٹھائیں گے اور لات و ہبل کے بتوں کے خلاف اٹھنے والی یہ دعوت خود بخود دم توڑ دے گی۔
 مکہ کی پتھریلی زمین پر بسنے والے پتھردلوں سے جب مایوسی ہوگئی تو طائف کا رخ کیا گیا کہ شاید ہری
 بھری سرسبز زمین کے رہنے والوں کے دل نرم پڑ جائیں مگر وہ تو اہل مکہ سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے۔ طعنے دئیے گئے، پتھر برسائے گئے بچوں اور پاگلوں کو پیچھے لگادیاگیا اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس شان سے طائف سے نکلے کہ دونوں پائوں مبارک سے لہو رس رہا تھا۔ جب اپنوں کے ساتھ غیر بھی دشمن ہوگئے تو اب اس نئے دین کا کیا بنے گا؟
۰۱  ؁نبوی گزر گیا۔ ابتلاء و آزمائش کی سب منزلیں طے ہو چکیں، تکلیف اور مصیبت کی کوئی قسم ایسی نہ رہی جو اللہ کے راستے میں نہ برداشت کر لی گئی ہو۔ بظاہر دعوتِ اسلام کے دروا ہوگئے۔بلندی اور قرب کے راستے سمٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر معراج کا انعام عطا ہوا اور ارشاد فرمادیا گیا کہ اب اسلام بلند ہو کر رہے گا اور یہ نقارہ بجوادیا گیا:
’’الاسلام یعلو ولا یعلیٰ علیہ‘‘
 ’’اسلام غالب ہونے کیلئے آیا ہے، یہ مغلوب نہیں ہوگا‘‘
آج بھی ابتلاء کے طوفان اور آزمائشوں کی آندھیاں پورے زور وشور سے چل رہی ہیں۔ طعنوں اور الزامات کے جھکڑ ہر سو غلامانِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا رخ کئے ہوئے ہیں۔ مشکلات اور مصائب ہر سمت سے اسلام کے نام لیوائوں کا استقبال کررہے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ حالات کی یہ گرد بیٹھ جائے گی اور اسلام کے چاہنے والے ایک مرتبہ پھر عروج اور بلندی سے ہمکنار ہوں گے۔
شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’سیرت المصطفیٰ  ﷺ‘‘ میں یہ سبق آموز روایات بھی نقل فرمائی ہیں:
٭…راستہ میں آپ  ﷺ کا ایک ایسی قوم پر گذر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ان ناخنوں سے چھیلتے تھے آنحضرت ﷺ نے جبرئیل امین سے دریافت کیا تو فرمایا کہ یہ لوگ وہ ہیں کہ جو آدمیوں کا گوشت کھاتے ہیں یعنی ان کی غیبت کرتے ہیں اور ان کی آبرو پر حرف گیری کرتے ہیں۔
٭… حضور  ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نہر میں تیر رہا ہے اور پتھر کو لقمہ بنا بنا کر کھا رہا ہے آپؐ نے جبرئیل سے دریافت کیا تو یہ جواب دیا کہ یہ سود خور ہے۔
٭… آپ  ﷺ کا ایک ایسی قوم پر گذر ہوا کہ جو ایک ہی دن میں تخم ریزی بھی کر لیتے ہیں اور ایک ہی دن میں کاٹ بھی لیتے ہیں اور کاٹنے کے بعد کھیتی پھر ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسے پہلے تھی آپؐ نے جبرئیل امین سے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
 جبرئیل امین نے کہا:
 یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں ان کی ایک نیکی سات سو نیکی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔
 ٭…پھر آپ  ﷺ کا ایک اور قوم پر گزر ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جا رہے ہیں‘کچلے جانے کے بعد پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے پہلے تھے۔ اسی طرح سلسلہ جاری ہے کبھی ختم نہیں ہوتا۔
آپ ﷺ نے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟
 جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ فرض نماز سے سستی کرنے والے لوگ ہیں۔
 ٭…پھر ایک اور قوم پر گزر ہوا کہ جن کی شرم گاہ پر آگے اور پیچھے چیتھڑے لپٹے ہوئے ہیں اور اونٹ اور بیل کی طرح چرتے ہیں۔ ضریع اور زقوم یعنی کانٹوں اور جہنم کے پتھر کھا رہے ہیں۔
 آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟
 جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ لوگ ہیں کہ جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ نہیں دیتے۔
 ٭…پھر آپ ﷺ کا ایک ایسی قوم پر گزر ہو اکہ جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت اور ایک
 ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے۔ وہ لوگ سڑا ہو اگوشت کھا رہے ہیں اور پکا ہوا گوشت نہیں کھاتے۔
آپﷺ نے دریافت کیا، یہ کون لوگ ہیں؟
 جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ ﷺ کی امت کا وہ شخص ہے کہ جس کے پاس حلال اور طیب عورت موجود ہے مگر وہ ایک زانیہ اور فاجرہ کے ساتھ رات گزارتا ہے اور صبح تک اس کے پاس رہتا ہے یا آپ ﷺ کی امت کی وہ عورت ہے کہ جو حلال اور طیب شوہر کو چھوڑ کر کسی زانی اور بدکار کے ساتھ رات گزارتی ہے۔
 ٭…پھر آپ ﷺ کا ایک ایسی لکڑی پر گزر ہوا کہ جو سر راہ واقع ہے جو کپڑا اور شئے بھی اس کے پاس سے گزرتا ہے اس کو پھاڑ ڈالتی ہے اور چاک کر دیتی ہے۔
 آپ ﷺ نے جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کیا، جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ ﷺ کی امت میں ان لوگوں کی مثال ہے کہ جو راستہ پر چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں اور راہ سے گزرنے والوں میں ڈاکے ڈالتے ہیں۔
 ٭…پھر آپ ﷺ کا کچھ لوگوں پر گزر ہوا کہ جنہوں نے لکڑیوں کا ایک بڑا بھاری گٹھہ جمع کر رکھا ہے اور اس کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے مگر لکڑیاں لا لا کر اس میں اور زیادہ کرتے رہتے ہیں۔
آ پ  ﷺ  نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟
  جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ  ﷺ کی امت کا وہ شخص ہے کہ جس پر حقوق اور امانتوں کا بارگراں ہے کہ جس کو وہ ادا نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی اور بوجھ اپنے اوپر لادتا جاتا ہے۔
٭…پھر آپ  ﷺ کا ایک قوم پر گزر ہوا کہ جن کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی ہیں اور جب کٹ جاتی ہیں، تو پھر ویسی ہی ہو جاتی ہیں صحیح و سالم۔اسی طرح یہ سلسلہ جاری ہے، ختم نہیں ہوتا۔
 آپ  ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟
 جبرئیل امین نے کہا کہ یہ آپ ﷺ کی امت کے خطیب اور واعظ ہیں جو’’یقولون مالا یفعلون‘‘ کا مصداق ہیں یعنی دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں اور خود عمل نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مہلت ِ زندگی سے فائدہ اٹھا کر اعمالِ صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین ثم آمین)۔
رابطہ۔ریپورہ گاندربل
ای میل۔khansajad-ahd@jk.gov.in