تازہ ترین

اے بنت حوا تیری زنیت ہے حیاء

پردہ

تاریخ    25 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


عذرہ زمرود،کوجر کولگام
دین اسلام کا بنیادی وصف" حیا" ہے ۔ہمارے دین میں تصور حیا کو اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے ایمان کے برابر قرار دیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ" جس میں "حیا" نہیں،اس میں ایمان نہیں‘‘۔ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے" حیا جس چیز میں بھی شامل ہو ،اسے زینت دیتی ہے "۔ اس کے ساتھ ہی حیا کو وسیع تصور کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا" حیا یہ ہے کہ جو کچھ تیرے دماغ میں گزرے،اس کے بارے میں تو اپنے رب سے حیا کر اور جو کچھ تیرے پیٹ میں جائے، اس کے بارے میں اپنے رب سے حیا کر"۔ یہ حدیث اس تصور کو واضح کرتی ہے کہ مومن حیا کا پیکر ہے اور اس کی حیا کا سب سے پہلا حق دار اس کا خالق ہے کہ وہ اپنی کل زندگی میں اسے اپنا نگران سمجھے اور اسے حیا کرے کہ اس کی زندگی کا کوئی دائرہ ایسے اعمال پر مشتمل نہ ہو، جو اس کے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہوں۔ 
حیا سے مراد صرف شرم و حیا ہی نہیں، بلکہ اس کے معنی عزت و خوداری کے بھی ہیں۔" حیا " عربی زبان کا لفظ ہے،جو " حیات" سے نکلا ہے اور حیات کا مطلب زندگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس معاشرے کے افراد باحیا ،باکردار اور با اخلاق ہوں گے، وہی معاشرہ زندگی کی علامت قرار پائے گا۔دین اسلام نے جو معاشرتی نظام تشکیل دیا ہے، اس میں شرم و حیا اور عفت و پاکیزگی و پاکدامنی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ حیا وہ باطنی صفت ہے،جس کا ظاہری پیراہن حجاب ہے۔دین اسلام نے توحیا اور حجاب کو عورت کا تحفظ قرار دے کر اس سے معاشرے کیلئے قابل احترام ہستی بنایا ہے،مگر افسوس کہ دور رواں میں مغرب کی اندھی تقلید نے عورت کو بے حیا کر کے نہ صرف مسلم خاندان کا شیرازہ بکھر دیا،بلکہ جس طرح آزادی نسواں کی آڑمیں بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس نے معاشرے میں عورت کی عزت و توقیر گھٹا دی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حیا اگر حکم خداوندی ہے، تو عورت کی عظمت و شرافت کا آئینہ دار بھی،کیونکہ جو عورت حیا کی چادر یا حجاب اوڑھ لیتی ہے،وہ لوگوں کی بری نظروں اور عزائم سے بھی محفوظ ہو جاتی ہے۔
 "حیا ایمان سے ہے" 
اس "حیا" سے بھلا کیا مراد ہے؟۔یہ وہ حیا نہیں ہے جس کے بارے میں آج کل ہماری رائے یہ ہے کہ "حیا" کا صرف عورت ذات میں پایا جانا لازم ہے۔حقیقت میں "حیا" سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی گناہ کا مرتکب ہونے لگے لیکن وہ ارادی طور پر اس گناہ سے رک جائے۔انسان کا اپنے آپ کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتے رہنا اصل میں حیا ہے۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس حیا کا مرد و عورت دونوں میں پایا جانا بہت ضروری ہے نہ کہ صرف عورت میں۔
 کوئی بھی عورت غلط نہیں ہوتی بلکہ اس کو ہمارا معاشرہ غلط بنا دیتا ہے کبھی باتیں کر کے،کبھی بہتان لگا کریقین جانتے ہیں! اللہ کریم نے عورت کو ماں،بہن، بیٹی،بیوی،کا مقام دے کر عورت کی عزت مرد پر واجب قرار دی ہے ۔عزت کریں عورت کی اپنی ہو یا پرائی۔
لڑکیاں سمندر کی ریت کی مانند ہوتی ہیں۔عیاں پڑی ریت، اگر ساحل پہ ہو تو قدموں تلے روندی جاتی ہے۔اگر سمندر کی تہہ میں ہو تو کیچڑ بن جاتی ہے لیکن اسی ریت کا وہ ذرہ جو خود کو ایک مضبوط سیف میں ڈھک لے، وہ موتی بن جاتا ہے۔جوہری اس ایک موتی کے لئے کتنے ہی سیف چنتا ہے اور پھر اس موتی کو مخملی ڈبوں میں بند کر کے محفوظ تجوریوں میں رکھ دیتا ہے۔ دنیا کا کوئی جوہری اپنی دکان کے شو کیس میں اصلی جیولری نہیں رکھتا۔ مگر ریت کے ذرے کے لئے موتی بننا آسان نہیں ہوتا ، وہ ڈوبے بغیر سیف کو کبھی نہیں پاسکتا۔ یہی مثال ایک باکردار عورت کی ہے۔
 جب کوئی لڑکی کسی نا محرم کی محبت میں الجھ جاتی ہے تو وہ دو ٹکے کی ہو جاتی ہے۔جو محبتیں اللہ کی حدود توڑ کر کی جاتی ہیں وہ محبتیں نہیں ہیں ،نفسانی خواہشات کی تسکین اور ہوس ہے۔عورت بڑی قیمتی شئے ہے, یہ کوئی وقت گزاری کا کھلونا نہیں ہے جو مردوں کا دل بہلاتی رہے۔جب عورت خود کو خود پیش کر لے تو وہ عورت نہیں رہتی ہے۔ کیونکہ عورت کا اصلی نام حیاء ہے جب حیاء ہی چھوڑ دیں تو باقی بچا ہی کیا؟ اللہ تعالی نے ایک عورت کو بہت ہی اونچا مقام عطا کیا ہے مگر آج کی عورت نے اپنے آپ کو خود گرا دیا۔
؎پردہ کا مطلب ہوتا ہے اپنے آپ کو چھپانا یعنی عورت کسی بڑی چادر، برقعہ یا عبایا سے اپنے آپ کو اس طرح چھپائے کہ نہ تو اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہو اور نہ حسن وجمال۔ اسکی زیب وزینت اور بناؤ سنگھار غیر محرم کی نظروں سے چھپا رہے ، لوگ اس پر سرسری نظر ڈال کر دوسری نظر نہ ڈالیں!۔پرد ے میں ہروہ چیزآجاتی ہے جو مردکیلئے عورت کی طرف رغبت ومیلان کاباعث ہو،خواہ پیدائشی ہو یامصنوعی، آج کل برقعے یا عبایا کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے لیکن ایمان داری سے بتائیں کہ کیا آج کل استعمال ہونے والے برقعے یا عبائے پردہ کی بنیادی ضرورت کو پورا کررہے ہیں؟
 نت نئے ڈیزائنوں والے تنگ اور چست برقعے بجائے پردے کے غیروں کو اپنی طرف راغب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ سیاہ برقعے پر خوبصورت ڈیزائن کے نقش ونگار اور کشیدہ کاری ، رنگ برنگے اسکارف لئے ہوئے عورت دور سے ہی نگاہوں کا مرکز بن جاتی ہے۔اس پر برقعہ کا اس قدر چست ہونا کہ جسم کے اعضاء ظاہر ہوں اوربھی فتنے کا باعث بن رہا ہے!۔خدارا دین کو مذاق مت بنائیں حکم کی روح کو سمجھیں اور دین کو اپنی خواہشات کے تابع نہ کریں۔
پردے والی لڑکیوں سے نکاح کرو، شرم و حیا والی لڑکیوں سے نکاح کرو، غریب لڑکیوں سے نکاح کرو، یہ خواتین تمہاری گھر کو جنت بنا دیں۔میں کہتی ہوں ایسی عورت ایک مرد کے لئے دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے کہ ایسی لڑکیوں کی نا خواہشات زیادہ ہوتی ہیں اور نا ہی یہ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتی ہیں۔ انکی مکمل زندگی انکے والدین سے شروع ہوتی یے اور مجازی خدا پر ختم ہوتی ہے۔ 
کسی پینٹ شرٹ والی کی طرف نا چلے جانا کہ وہ بہت خوبصورت ہے، کسی بے پردہ عورت سے نکاح نا کرلینا کہ اسکی طرف دل کھنچا چلا جاتا ہے، کسی بد تمیز لڑکی کی طرف نا چلے جانا کہ زندگی خوبصورت گزرے گی، کسی بد اخلاق لڑکی کی طرف مت چلے جانا کہ تم زندگی کو خوشگوار سمجھنے لگو، ان لڑکیوں کے اندر خدا کا خوف نہیں ہوتا ،یہ تمہاری نافرمان قرار پائیںگی، یہ لڑکیاں اپنے والدین کی عزت نہیں کرتی ،تمہارے والدین اور تمہاری عزت کو پیروں میں رکھیں گی۔ انکے نزدیک حیا شرم صرف کتابی باتیں ہیں، انکے نزدیک ادب و اخلاق پرانی باتیں ہیں، انکے نزدیک عورت کی آزادی سب سے زیادہ اہم ہے۔ یہ پردے کو جہالت سمجھتی ہیں، پردہ والی خواتین کو غریب اور حقارت بھری نظروں سے دیکھتی ہیں۔ یہ اسلامی احکامات کا مذاق اڑاتی ہیں، یہ بوائے فرنڈ گرل فرنڈ کلچر کو درست مانتی ہیں، انکا کتابوں سے، علمی گفتگو سے بزرگوں کی محفلوں سے دل گھبراتا ہے، کالج کینٹین، ریسٹورنٹ اور پارکس وغیرہ انکی پسندیدہ جگہیں ہیں، تم ان سے نکاح کرکے زندگی خراب نا کرلینا، ازدواجی سکون برباد نا کرلینا۔تم غریب لڑکیوں کی طرف آؤ، تم ایمان والی لڑکیوں کی طرف آؤ، یہ شاید زیادہ جہیز نہیں لاسکتی، یہ شاید عمدہ فرنیچر نہیں لاسکتی، لیکن یہ حیا اور شرم لیکر آئیں گی، یہ ادب و آداب لیکر آئیں گی، یہ خوب سیرت و اخلاق لیکر آئیںگی، یہ تمہیں گھر میں بادشاہ بنا کر رکھیں گی، یہ تمہیں دل و جان سے مجازی خدا مانیں، گی تمہارے حقوق ادا کریں گی، یہ تمہاری ایک تکلیف پر آنسو بہا دیں گی، تمہیں بے قرار دیکھ کر وہ بے قرار ہو جائیں گی۔ یہ تمہارے تھوڑے دئے پر راضی ہوجائیںگی، تمہاری لائی ہوئی چیزوں میں نقص نا نکالیں گی، تمہاری عزت کو اپنی عزت سمجھیں گی، تمہارے والدین کو اپنے والدین سمجھیں گی، تمہاری اولاد کی اعلیٰ پرورش کریں گی، انہیں حسن اخلاق سکھائیںگی۔یہی عورتیں اللہ کی طرف سے نعمت ہیں مگر افسوس کہ ایسی لڑکیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے گھروں میں کنواری بیٹھی ہیں۔ یہ غریب مزدور کی بیٹیاں دنیا کی حوریں ہیں، یہ رسول اللہؐ کی امتی اور اسلام کی بیٹیاں ہیں۔ ان سے نکاح کرو، گھر کو جنت بناؤ، جہیز کی لالچ میں اپنی زندگی برباد مت کرلینا۔
ازل سے آدم و ابلیس کی جنگ جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔اس جنگ میں ابلیس نے پہلا وار" حیا کے لبادے"ہی پر کیا تھا۔ حیا جبکہ پوری" طریقہ زندگی" کا نام ہے۔ آج جبکہ عورت کو Empowerment  womenکے خوش نما نعرے سے بہلا کر ایک ایسے سراب کے پیچھے لگا دیا گیاہے جس کے اختتام پر تنہائی، عدم تحفظ اور ناقدری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ حیا جیسی روحانی قدر اسے نظروں کی حفاظت و پاکیزگی،محرم ونامحرم کی تمیز،خاندان کی مرکزیت، نسلوں کی تربیت اور کردار کی استقامت کا سبق دیتی ہے۔آج کی تعلیم یافتہ اور بہادر مسلمان عورت نے زندگی کے ہر دائرہ عمل میں اپنی مؤثر شرکت سے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا حیا اس کی ترقی کی راہ میں ہرگز رکاوٹ نہیں ہے۔یہ اگر رکاوٹ ہے تو سطحی جذبات کی پرورش،غیر مہذب خیالات،نامناسب تعلقات کے جنم لینے اور اپنی دینی تعلیمات بھلا کر محض نفسانی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ حیا، اسلام کی ثقافت اور شعار اللہ ہے،جب کہ بے حیائی شیطانی ثقافت کا حصہ۔حیا اسلام کے نظام عفت و عصمت اور پاکدامنی کی بنیاد ہے،جو عورت کو توقیر عطا کرتا ہے، خاندانوں کو محفوظ و مستحکم بناتا ہے،معاشرے کو پاکیزگی بخشتا ہے اور فریقین کے باہمی اعتماد کو پروان چڑھاتے ہوئے محبتوں میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔تو جس طرح ہر قوم اپنے شعائر پر فخر محسوس کرتی ہے، ہمیں بھی خالق کے عطا کردہ اس پروٹوکول پر فخر کرتے ہوئے تصور حیاپر کار بند رہنے میں فخر و امتیاز محسوس کرنا چاہیے۔
�������������