بانہال بارہمولہ ٹرین سروس محدوود پیمانے پر بحال

مزید 3ریل گاڑیاں چلانے کی تجویز بھیج دی گئی

تاریخ    23 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی+محمد تسکین
سرینگر+بانہال// بانہال سے بارہمولہ تک11ماہ کے بعد پیر کو محدود پیمانے پر ریل سروس شروع ہونے کے بعد سینکڑوں مسافروں نے راحت کی سانس لی۔مرکزی وزیر نے کہا ہے کہ ٹرین سروس کی بحالی سے نقل و حمل میں آسانی پیدا ہوگی اور سیاحت کے شعبے کو ’’ اچھافروغ‘‘ ملے گا۔گزشتہ برس کورونا وائرس کے بعد بانہال سے بارہمولہ تک137کلو میٹر تک چلنے والی ریل کے پہیے رک گئے۔ پیر کو ایک مرتبہ پھر محدود ریل سروس بحال ہونے کے ساتھ ہی بڈگام،سرینگر اور بانہال ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں میں غیر معمولی گہما گہمی دیکھنے کو ملی اور قریب 1100 مسافروں نے سفر کی سہولیات سے استفادہ حاصل کیا۔ریلوے حکام نے بتایا کہ جزوی طور پر خدمات دوبارہ بحال کرنے کے بعد کشمیر میں دو ٹرینوں کو پٹری پر کھڑا کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ عام دنوں کے دوران بانہال سے بارہمولہ تک ایک دن کو چھوڑ کر 15 ٹرینیں چلتی تھیں اورطلبا ء و سرکاری ملازمین سمیت 30 ہزار مسافر ئوں کو منزل تک پہنچاتی تھیں۔انہوںنے کہاکہ ٹرین سروس دوبارہ شروع ہونے کے بعد پہلے دن تقریبا 1100مسافروں نے سفر کیا۔انہوں نے کہا ’’ہم اسی شیڈول پر عمل پیرا ہوں گے کہ ایک ٹرین بانہال سے اور ایک بارہمولہ سے سے چلے گی‘‘۔ ریلوے سٹیشن بانہال پر عام لوگوں ، ٹرانسپورٹروں اور تاجروں میں خوشی کی لہر پائی گئی۔پیر کے روز بارہمولہ سے روانہ ہوئی ریل گاڑی تھوڑی سی تاخیر کے ساتھ دن کے ساڑھے بارہ بجے بانہال ریلوے سٹیشن پہنچی جبکہ بانہال ریلوے سٹیشن سے 11 بجکر 25 منٹ پر ریل گاڑی بارہمولہ کیلئے روانہ ہوئی۔ریلوے حکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سماجی دوریوں کا خیال رکھتے ہوئے قریب تین سو مسافروں نے پیر کے روز بانہال سے پہلی ریل گاڑی میں وادی کشمیر کی طرف سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے سٹیشن اور ریل گاڑی میں سماجی دوری کے ساتھ ساتھ مسافروں کو ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام نے بانہال بارہمولہ ریلوے ٹریک پر مزید تین ریل گاڑیاں چلانے کی ایک تجویز شمالی ریلوے کے اعلی حکام کو روانہ کی ہے اور امید ہے کہ آئندہ  چند روز میں اسکی منظوری مل جائیگی۔ادھروزیر ریلوے پیوش گوئل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین سروس کی بحالی سے نقل و حمل میں آسانی پیدا ہوگی اور سیاحت کے شعبے کو ایک’’زبردست فروغ‘‘ملے گا۔گوئل نے کہا’’ ابتدائی طور پر دو ٹرینوں کی خدمات فراہم کی جائے گی‘‘۔ وادی میںٹرین خدمات  2008 میں شروع کی گئیں اور2010کے علاوہ2012میں ایک طویل وقفے تک نا مساعد صورتحال کے نتیجے میں ریل سروس کو معطل کیا گیا،جبکہ2014میں تباہ کن سیلاب اور2019میں دفعہ370کی تنسیخ کے بعد بھی ریل سروس کافی عرصے تک بند رہی۔ 
 

تازہ ترین