ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے

ادبیات

تاریخ    23 فروری 2021 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
ادب اور سماج کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ادب روز اول سے ہی نہ صرف سماج کی بہتری کے لئے کوشاں ہے بلکہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ ادب سماج کی عکاسی کرتا ہے ۔ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو، دراصل یہ اس سماج کا آئینہ ہوتا ہے جس میں یہ پروان چڑھا ہو۔ جس طرح کا سماج ہو گا ،اسی طرح کا ادب بھی تخلیق ہوتا ہے ۔سماج میں جو بھی پریشانیاں، مشکلات اور برائیاں ہوتی ہیں وہ سب ادب کا حصہ بن جاتی ہیں۔یوں تو اردو ادب کے دو حصے ہیں نثر اور نظم۔ حصہ نظم میں غزل، قصیدہ، مرثیہ ،رباعی وغیرہ شامل ہیں ۔اس حصے یعنی شاعری کے ذریعے بڑے بڑے پیغامات عوام تک پہنچائے گئے اور شاعری کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ زمان و مکان سے بہت اوپر ہوتی ہے اور شاعری کبھی پرانی نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں شاعری کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مثلاً موجودہ دور میں بھی سماج کے مختلف مسائل کے حل کے لئے اقبال اور جوش کی شاعری سے کام لیا جاتا ہے۔ لیکن زیادہ تر ادب نثر میں ہی تخلیق کیا جاتا ہے جس میں داستان، افسانہ، ناول، ڈرامہ اور مضامین وغیرہ شامل ہیں کیونکہ ادب کے اس حصے میں کھل کر بات ہوتی ہے۔ اردو ادب کی اگر بات کریں گے تو کسی زمانے میں اردو  ادب برائے ادب ہوا کرتا تھا لیکن ترقی پسند تحریک نے اسے ادب برائے زندگی بنا دیا ۔اس کے بعد اردو ادب محض دل بہلانے کا ذریعہ نہیں رہا ،نہ ہی حسن و عشق اردو ادب کے موضوعات رہے ۔
ادب دراصل لافانی ہوتا ہے ۔ادب کے سامنے تلواریں اور بڑے سے بڑے ہتھیار بھی تھرتھراتے ہیں۔ ادب کو یہ شرف حاصل ہے کہ دنیا میںجو انقلاب رونما ہوئے ہیں چاہے انقلاب روس ہو چین ہو یا کوئی اور انقلاب ہو ،یہ انقلابات ادب کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ مختلف ممالک کو ادب کی بدولت ہی آزادی نصیب ہوئی ہے۔ ادب سوئے ہوئے عوام کو جگانے کا کام انجام دیتا ہے بشرطیکہ کہ ادب میں وہ جان اور شدت ہو۔ ادب کے ذریعے جو پیغام دیا جاتا ہے وہ دلوں میں اتر جاتا ہے کیونکہ دراصل ادب تخلیق کرتے وقت ادیب نے دل اور احساس سے کام لیا ہوتا ہے۔ ادب میں زندگی کی حقیقتوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ ادیب بھی دراصل اسی سماج کا فرد ہوتا ہے لیکن ادیب حساس ذہنیت کا مالک ہوتا ہے، اس کا دل بہت ہی نازک اور گداز ہوتا ہے جہاں کہیں بھی کوئی برائی یا کوئی حساس معاملہ ہوتا ہوا دیکھ لیتا ہے فوراً قلمبند کرتا ہے۔ ادب میں جو کردار پیش کیے جاتے ہیں وہ دراصل اسی سماج کے کردار ہوتے ہیں ۔ادب سماجی برائیوں کو دلچسپ انداز میں سماج کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس طرح سے سماج کو سدھرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔اس طرح سے ادب کے ذریعے سماج سدھارنے کا بہت بڑا کام انجام دیتا ہے جو تلوار یا بندوق سے انجام نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ دور میں ہر طرف رشوت خوری، ظلم و ستم، بد اخلاقی، بد امنی، اور بد دیانتی کا دور دورہ ہے اور یہی سب کچھ موجودہ دور کے ادب میں نظر آتا ہے۔
ادب میں حقیقت بیان کی جاتی ہے ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی سماج یا معاشرے کے ادب کو پڑھ کر اس سماج یا معاشرے کی اصلیت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ ادیب کا غیر جانبدار، منصفانہ اور حقیقت پسندانہ ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ ادب ایک کھیل بن کر رہ جاتا ہے ۔کبھی سماج ادب سے چڑ جاتا ہے اور اسے ادب برداشت نہیں ہوتا ہے ۔دراصل وہ سماج خود کو برداشت نہیں کر پاتا ہے کیونکہ ادیب کچھ اور نہیں بلکہ سماج کو اسی کا آئینہ دکھاتا ہے اور سماج اپنے چہرے کو دیکھ کر چڑ جاتا ہے۔
دیکھا جائے تو ادب تاریخ کا کام انجام دیتا ہے۔ اس زمانے کے حالات پتہ چلتے ہیں جس زمانے میں ادب تخلیق کیا گیا ہو۔ مثلاً پریم چند کے افسانوں کو پڑھ کر وہ زمانہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے، اس زمانے میں کسان اور گاؤں دیہات کے لوگ ظلم و ستم کے شکار تھے۔ یہی سب کچھ ان کے افسانوں اور ناولوں میں پڑھنے کو مل رہا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ مشہور افسانہ نگار منٹو سے کہا گیا تھا کہ آپ ایسا کیوں لکھتے ہیں جس میں فحاشی نظر آ رہی ہے منٹو نے جواب دیا تھا کہ آپ ایسا کرنا چھوڑ دیجئے میں ایسا لکھنا بند کر دوں گا ،آپ اچھا کریں گے میں اچھا لکھوں گا۔
 ادیب کا کام سچائی بیان کرنا ہوتا ہے۔ ادیب کبھی کالے کو سفید اور سفید کو کالا نہیں کہتا ۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج تک اردو ادب میں جو داستان، ناولیں، افسانے ،یا ڈرامے تخلیق کئے گئے ہیں وہ اپنے زمانے کی جیتی جاگتی تصویر پیش کر رہے ہیں ۔اس ضمن میں کشمیر کی مثال دی جا سکتی ہے پچھلے کئی دہائیوں سے کشمیر میں جو بد امنی یا شورش زدہ حالات رہے۔ ان حالات کا اثر یہاں کے ادب پر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔کشمیری افسانہ نگاروں نے یہاں کے حالات کو جیا ہے ،ان سے مقابلہ کیا ہے لہٰذا انہوں نے ان ہی ستم رسیدہ حالات کو اپنے افسانوں کی زینت بنایا ہے۔ نمونے کے طور پر نور شاہ، عمر مجید، دیپک بدکی، دیپک کنول جیسے افسانہ نگاروں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر کے یہ حالات یہاں کے شاعروں نے بھی اپنی شاعری میں پیش کئے ہیں۔
ادب کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ ادب میں علم کا خزانہ محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے اور کسی بھی زبان کا ادب اس زبان کا اور اس زبان میں موجود علم و ادب کا محافظ ہوتا ہے کیونکہ ادب زبان اور اس میں موجود علم کو نئی نسل تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ادب بچوں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کے لیے جو ادب تخلیق کیا جاتا ہے وہ بچوں کی اخلاق سنوارنے میں مدد کرتا ہے ۔موجودہ دور میں بھی ایسے ادیبوں اور شاعروں کی کمی نہیں ہے جو بچوں کے لئے لکھتے ہیں لیکن اس عمل میں مزید سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ بچوں میں اخلاقی گراوٹ کو کسی حد تک کم کیا جائے کیونکہ جہاں مختلف انقلابات لانے میں اور کسی بھی سماج کو بہتر بنانے کا سہرا ادب کے سر باندھا جاتا ہے وہاں اگر موجودہ نسل میں پائی جانے والی اخلاقی گراوٹ میں ادب اور ادیبوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو بیجا نہ ہوگا ۔
پتہ۔ اویل نورآباد،کولگام کشمیر
ای میل۔bhatsubzar51@gmail.com
��������

تازہ ترین